logo logo
AI Search

نماز پڑھتے ہوے اگر دوپٹہ کھل جائےتو کیسے ٹھیک کرے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خاتون کا نماز میں دوپٹہ کھل جائے، تو کس طرح ٹھیک کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عورت کا نماز کی حالت میں اگر دوپٹہ کھل جائے، تو کس طرح ٹھیک کرے؟

جواب

اگر دورانِ نماز دوپٹہ کھلنے سے سر کے بال یا ان کی رنگت ظاہر ہو تو اسے ایک ہاتھ سے صحیح کرنا ممکن ہوتا ہے، لہٰذا فوراً ایک ہاتھ سے عملِ قلیل کے ذریعے اسے صحیح کرلیں، دونوں ہاتھوں سے درست کرنا عملِ کثیر ہوگا اور اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ عورت کے سر کے بال بھی ستر یعنی چھپانے کی چیز ہیں اور قاعدہ ہے کہ (1)جب ستر میں شامل کسی بھی عضو کا چوتھائی حصہ ظاہر ہو یا متعدد اعضائے ستر کھلے ہونے کی صورت میں اگر ان میں سے ہر ایک اس عضو کی چوتھائی سے کم کھلا ہےلیکن وہ سب ملا کر ان کھلے ہوئے اعضا میں سے جو سب سے چھوٹا عضو ہے اس کی چوتھائی کے برابر ہے تو ایسی حالت میں نماز شروع ہی نہیں ہوتی۔

(2)اور اگر نماز شروع کرتے وقت سب اعضائے ستر چھپے ہوں، پھر دورانِ نماز چوتھائی سے کم ستر کھل گیا تو نماز ہوجائے گی اور اگر چوتھائی ستر کھل گیا اور فوراً عملِ قلیل سے چھپا لیا تب بھی ہوجائے گی لیکن اگر اسی حالت میں تین بار سبحان اللہ کہنے جتنا وقت گزر گیا یا کوئی رکن جیسے رکوع یا سجدہ ادا کرلیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ اسی طرح اگر معاذ اللہ جان بوجھ کر بلا ضرورت چوتھائی ستر کھولا تو اسے کھولتے ہی نماز ٹوٹ جائے گی اگرچہ فوراً چھپالے۔

عملِ کثیر سے مراد ایسا کام ہے کہ دیکھنے والے کو یقین یا غالب گمان ہوکہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے اور اگر دیکھنے والے کا غالب گمان یہ نہ ہو بلکہ وہ شک و شبہ میں پڑ جائے کہ یہ شخص نماز میں ہے یا نہیں تو یہ عمل ِقلیل ہو گا،ایسا عمل بلا ضرورت کرنا، ناپسندیدہ ہے۔

تنبیہ: خیال رہے کہ عورت کے سر اور سر سے جوبال لٹک رہے ہوتے ہیں یہ دونوں الگ الگ عُضو ہیں۔ سر کی تعریف یہ ہے کہ پیشانی سے اوپر جہاں سے عادۃً بال اُگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لے کر گردن کے شروع تک لمبائی میں اور ایک کان سے دوسرے کان تک عَرض میں (یعنی عادۃً جہاں بال اُگتے ہیں) یہ سَر ہے۔ لہٰذا اگر نظر آنے والے بال سر کی حد میں ہوں مثلاً پیشانی کی جانب سے بال نظر آرہے ہوں تو اس میں سر کی چوتھائی کا لحاظ ہوگا اور اگر سر سے لٹکنے والے بالوں میں سے کچھ ظاہر ہوں تو صرف ان لٹکنے والے بالوں کی چوتھائی دیکھی جائے گی۔

درمختار میں ہے:

”و لو اعتقھا مصلیۃ ان استترت کما قدرت صحت والا لا“

یعنی اگر لونڈی کو دورانِ نماز اس کے مالک نے آزاد کیا اگر اس نے قدرت پاتے ہی سر ڈھانپ لیا تو نماز صحیح ہوگئی ورنہ نہ ہوئی۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے:

”قولہ: (کما قدرت) أی: فوراً قبل اداء رکن بعمل قلیل۔ قولہ: (والا) بأن سترت بعمل کثیر أو بعد رکن لا تصح صلاتھا، بحر“

مصنف کا قول: قدرت پاتے ہی یعنی فوراً رکن ادا کرنے سے پہلے عملِ قلیل کے ساتھ (ڈھانپ لیا تو نماز ہوگئی۔) مصنف کا قول: ورنہ نماز نہیں ہوئی یعنی اگر عمل کثیر کے ساتھ یا رکن کی ادائیگی کے بعد ڈھانپا تو نماز صحیح نہیں۔“(الدر المختار و رد المحتار ،ج2 ،ص 94-95،مطبوعہ:کوئٹہ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

”أمۃ صلت بغیر قناع فأعتقت فی صلاتھا فان لم تستتر من ساعتھا فسدت صلاتھا وان سترت من ساعتھا بعمل قلیل جازت، کذا فی محیط السرخسی۔ والعمل القلیل أن تأخذہ بید واحدۃ، کذا فی السراج الوھاج“

یعنی لونڈی سر کھولے نماز پڑھ رہی تھی، دورانِ نماز مالک نے اسے آزاد کر دیا، اگر فوراً سر نہ ڈھانپا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر فوراً عمل قلیل سے سر چھپا لیا تو نماز ہوجائے گی، اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔ اور عمل قلیل سے یہ مراد ہے کہ ایک ہاتھ سے کرے، اسی طرح السراج الوہاج میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 59، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے:’’باندی سر کھولے نماز پڑھ رہی تھی، اَثنائے نماز میں مالک نے اسے آزاد کر دیا، اگر فوراً عمل قلیل یعنی ایک ہاتھ سے اس نے سر چھپا لیا، نماز ہوگئی، ورنہ نہیں۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 481،مکتبۃ المدینہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”اگر ایک عضو کی چہارم کھل گئی،اگر چہ اس کے بلا قصدہی کھلی ہو اور اس نے ایسی حالت میں رکوع یا سجود یا کوئی رکن کامل اداکیا ، تو نما ز بالاتفاق جاتی رہی۔ اگر صورتِ مذکورہ میں پورارکن تو ادا نہ کیا مگر اتنی دیرگزر گئی جس میں تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، توبھی مذہب مختارپر جاتی رہی۔ اگر نمازی نے بالقصد ایک عضو کی چہارم بلا ضرورت کھولی تو فوراً نماز جاتی رہی اگرچہ معاً چھپالے ، یہاں ادائے رکن یا اُس قدر دیر کی کچھ شرط نہیں۔اگر تکبیر تحریمہ اسی حالت میں کہی کہ ایک عضو کی چہارم کھلی ہے تو نماز سرے سے منعقد ہی نہ ہوگی اگرچہ تین تسبیحوں کی دیر تک مکشوف نہ رہے۔ ان سب صورتوں میں اگر ایک عضو کی چہارم سے کم ظاہر ہے ، تو نما ز صحیح ہو جائے گی اگر چہ نیت سے سلا م تک انکشاف رہے اگرچہ بعض صورتوں میں گناہ و سوئے ادب بیشک ہے۔ اگر ایک عضو دو جگہ سے کھلا ہو مگر جمع کرنے سے اس عضو کی چوتھائی نہیں ہوتی تو نمازہو جائے گی اور چوتھائی ہو جائے تو بتفاصیل مذکورہ نہ ہوگی۔متعدد عضووں مثلاً دومیں سے اگر کچھ کچھ حصّہ کھلا ہے تو سب جسم مکشوف ملانے سے ان دونوں میں جو چھوٹا عضو ہے اگر اس کی چوتھائی تک نہ پہنچے تو نماز صحیح ہے ورنہ بتفصیلِ سابق باطل۔۔۔ اسی طرح تین یا چار یا زیادہ اعضا میں انکشاف ہو تو بھی اُن میں سب سے چھوٹے عضو کی چہارم تک پہنچنا کافی ہے اگرچہ اکبر یا اوسط یا خفیف حصہ ہو۔“(فتاوی ٰ رضویہ ،جلد 6، صفحہ 30، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2344

تاریخ اجرا: 20محرم الحرام 1447ھ / 16 جولائی 2025ء