logo logo
AI Search

ایک نماز کے بعد سے دوسری نماز تک حیض نہ آئے تو حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد سے حیض کا خون نہیں آیا، تو نماز کب ادا کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی عورت کو فجر کا وقت ختم ہونے سے لے کر ظہر کے وقت تک جس میں کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی حیض کا خون نہ آئے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا ابتدائی وقت میں غسل کرکے نماز ادا کرے یا اب بھی وقت کے آخر تک انتظار کرے؟

جواب

شرعی مسئلہ یہ ہےحیض کی کم سے کم مدت یعنی تین دن کے بعد ایامِ عادت مکمل ہونے سے پہلے خون رک جائے، تو جب رکا غسل کرکے نماز شروع کردے گی لیکن اس صورت میں نماز فوراً نہیں پڑھے گی بلکہ نماز کے آخری وقتِ مستحب تک جیسے عصر میں غروب سے بیس منٹ پہلے تک، انتظار کرنا واجب ہے۔ اگر اس دوران خون آگیا، تو نماز نہیں پڑھے گی ورنہ اندازے سے اتنا وقت پہلے غسل کرکے نماز پڑھ لے کہ قضا نہ ہو یا مکروہ وقت شروع نہ ہو، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں فجر کا وقت ختم ہونے کے وقت سے خون نہیں آرہا اور کم از کم حیض کے ایام بھی گزر چکے ہیں اور عادت سے پہلے خون رُکا ہے، تو حکم ہے کہ ظہر کے آخری قت تک انتظار کرے، خون نہ آئے تو غسل کرکے نماز ادا کرلے اور اگر عادت کے ایام پورے ہونے پر یہ معاملہ ہوا ہے تو انتظار کی حاجت نہیں، ظہر کی نماز غسل ادا کرکے پڑھے۔

صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”جس عورت کو تین دن رات کے بعد حیض بند ہو گیا اور عادت کے دن ابھی پورے نہ ہوئے یا نِفاس کا خون عادت پوری ہونے سے پہلے بندہو گیا، تو بند ہونے کے بعد ہی غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردے۔ عادت کے دنوں کا انتظار نہ کرے۔۔۔ حیض یا نِفاس عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بندہو گیا تو آخرِ وقتِ مستحب تک انتظار کرکے نہا کر نماز پڑھے اور جو عادت کے دن پورے ہو چکے تو انتظار کی کچھ حاجت نہیں۔“ (بہارِشریعت، جلد1، صفحہ 381، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2355
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1447ھ/03 جولائی 2025ء