عورت کا مسجد اقصیٰ کی زیارت کیلئے جانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا مسجد اقصی کی زیارت کے لئے جانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورت مسجد اقصی کی صرف زیارت کے لئے جا سکتی ہے، وہاں نوافل نہیں پڑھے گی۔؟
جواب
عورت کو جو مسجد کی حاضری سے منع کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کو وہاں نماز پڑھنا منع ہے، اس کے علاوہ جاسکتی ہے، بلکہ اس سے مراد فسادِ زمانہ کی وجہ سے مطلقاً عورت کے لئے مساجد میں حاضری کی ممانعت ہے، لہٰذا شرعی حکم کی اتباع و پاسداری میں عورت کو مسجد اقصی کی زیارت کے لئے جانے سے بچنا چاہئے۔
علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں:
و الفتوى في هذا الزمان على عدم الخروج في حق الكل مطلقا لشيوع الفساد، و عموم المصيبة
ترجمہ: فی زمانہ فتویٰ اسی بات پر ہے کہ عورتیں مطلقاً بالکل بھی نماز کے لیے گھروں سے نہیں نکلیں گی، کیونکہ فتنہ و فساد عام ہے۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی، جلد 3، صفحہ 51، مطبوعہ: الریاض)
تنویر الابصار و درِّمختار میں ہے
(و يكره حضورهن الجماعة)۔۔۔ (مطلقا) و لو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان
ترجمہ: اور عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا مفتیٰ بہ مذہب کے مطابق فسادِ زمانہ کی وجہ سے مطلقاً مکروہ ہے، اگرچہ عورتیں بوڑھی ہوں، اگرچہ رات کی نمازیں ہوں۔ (تنویر الابصار و در مختار، کتا ب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 367، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4735
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم 1447ھ / 13 فروری 2026ء