عورت کا اعتکاف میں دوسری عورتوں سے پردہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا اعتکاف میں عورتوں سے بھی پردہ ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورت گھر کے کسی کونے میں اعتکاف کرے اور کیا اس میں دوسری عورتوں سے بھی پردہ کر کے بیٹھے؟
جواب
عورت کا اعتکاف مسجد بیت میں ہونا ضروری ہے اور مسجد بیت سے مراد گھر میں نماز کے لیے مختص کی گئی جگہ ہے خواہ وہ کوئی کونہ ہو یا پورا کمرہ۔ اگر گھر میں ایسی کوئی جگہ نماز پڑھنے کی نیت سے مخصوص نہیں کی گئی تو اعتکاف جائز نہیں۔ ہاں مسجد بیت بنانا کچھ مشکل نہیں، اگر اعتکاف کرنا چاہ رہی ہے تو گھر کی کسی صاف ستھری جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لے، وہ جگہ مسجد بیت ہو جائے گی پھر اس میں اعتکاف کر سکتی ہے۔
رہا سوال اعتکاف میں دوسری عورتوں سے پردہ کرنے کا تو شریعت مطہرہ کی رو سے پردے کے متعلق اعتکاف میں کوئی علیحدہ حکم نہیں، جن سے پردہ عام حالات میں لازم ہے ان سے بحالت اعتکاف بھی لازم ہے اور جن سے نہیں ان سے بحالت اعتکاف بھی نہیں، پس اعتکاف کے دوران دوسری خواتین یا محارم سے منہ چھپا کر پردے میں بیٹھنا کوئی ضروری نہیں۔ تاہم اعتکاف میں یکسوئی اور توجہ کی خاطر اگر پردے لٹکائے جائیں تو کوئی مضائقہ بھی نہیں، بلکہ بہتر ہے۔
ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:
و ليس لها أن تعتكف في بيتها في غير مسجد و هو الموضع المعد للصلاة؛ لأنه ليس لغير ذلك الموضع من بيتها حكم المسجد فلا يجوز اعتكافها فيه
ترجمہ: عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے گھر میں مسجد کے علاوہ (کسی اور جگہ) میں اعتکاف کرے، اور مسجد سے مراد وہ مقام ہے جو نماز کے لیے مخصوص کیا گیا ہو؛ کیونکہ اس کے گھر میں سے اس مقام کے سوا کے لیے مسجد کا حکم نہیں، پس اس (مسجد بیت کے علاوہ حصے) میں عورت کا اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع، كتاب الاعتكاف، فصل شرائط صحة الاعتكاف، جلد 2، صفحہ 113، دار الكتب العلمية، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: عورت کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے، مگر اس جگہ کرے جو اس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے، جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں، اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے، اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کر لے۔... اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 1021، مکتبة المدینہ، کراچی)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: اعتکاف میں پردے صرف اس لیے لٹکائے جاتے ہیں کہ معتکف کو عبادت میں ریا کا خیال نہ آئے۔ (معتکف کے لیے) پردے میں بیٹھنا لازم نہیں ہے، بہتر ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 435-436 ملتقطاً، بزم وقار الدین، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ معتکف اپنا منہ چھپا کر رکھے، نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ معتکف پردے کے اندر رہے ورنہ اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 436، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1086
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1447ھ / 31 جنوری 2026ء