logo logo
AI Search

جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دو یا اس سے زیادہ فیملی کا ایک ہی گھر میں رہنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دو یا تین فیملی ایک چار دیواری میں رہ سکتے ہیں جبکہ ان کے پاس الگ مکان کی گنجائش نہ ہو؟

جواب

شرعی پردے اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ رہنا، جائز ہے۔

شیخِ طریقت، امیرِاہلسنت حضرت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مد ظلہ العالی پردےکے شرعی احکام پر مشتمل اپنی کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ میں ایک سوال ’’سسرال میں دیور و جیٹھ وغیرہ سے کس طرح پردہ کيا جائے؟ سارا دن پردہ ميں رہنا بہت دُشوار، گھر کے کام کاج کرتے وقت کیسے اپنےچہرہ کو چھپائے؟‘‘کے جواب میں تحریر  فرماتے ہیں: ’’گھرميں رہتے ہوئے بھی بالخصوص دیور و جیٹھ وغیرہ کے معاملہ ميں محتاط رہنا ہو گا۔ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا عُقْبہ بن عامِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے: پیکرِ شرم و حیا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا: ’’عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم! دیور کے متعلق کيا حکم ہے؟ فرمايا: ’’دیور موت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث 5232)

دیور کا اپنی بھابھی کے سامنے ہونا گويا موت کا سامنا ہےکہ يہاں فتنہ کا اندیشہ زيادہ ہے۔ مفتئ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّين علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے ہيں: ’’ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہيں چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ سِتْر (پردہ) کرنا ضروری ہے، زينت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کياجائے۔‘‘ (وقا ر الفتاوٰی جلد 3 صفحہ 151)

امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی  کچھ آگے چل کر مزید ارشاد فرماتےہیں: ”بَہَرحال اگرایک گھر ميں رہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوار ہو تو چہرہ کھولنے کی تو اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یاسر کے بال وغیرہ چمکیں يا ایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کےاعضاء، جسم کی ہیئت(یعنی صورت وگولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔‘‘ (پردے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ  50 سے 52، ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2375
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1447ھ/06 اگست 2025ء