logo logo
AI Search

کیا سوتیلے باپ اور بھائیوں سے پردہ کرنا لازم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوتیلے باپ اور سوتیلے بھائیوں سے پردہ کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی ایک بیٹی ہے جبکہ عمرو کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اب زید کا انتقال ہوگیا، زید کی بیوی نے عمرو سے شادی کرلی ہے اور ان کے مابین ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوچکے ہیں۔

آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا زید کی بیٹی کا عمرو سے اور اُس کے تینوں بیٹوں سے پردہ ہوگا؟ نیز کیا زید کی بیٹی کا نکاح عمرو کے بیٹوں سے ہوسکتا ہے؟

جواب

جس  عورت کے ساتھ مرد ازدواجی تعلقات قائم  کرلے تو اس مدخولہ عورت کی لڑکی اُس مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، خواہ  وہ مدخولہ عورت اس مرد کے نکاح میں موجود رہے یا نہ رہے،  بہر صورت اس مدخولہ عورت کی لڑکی  سے اس مرد کا نکاح کرنا حرام ہوتاہے۔ لہذا   پوچھی گئی صورت میں عمرو،  زید کی بیٹی کا سوتیلا باپ اور محرم ہے،  یہ حرمت ابدی ہے، لہذا  ان کے مابین پردہ فرض نہیں ہے۔

 البتہ عمرو کے تینوں بیٹے زید کی بیٹی کے لیے نامحرم ہیں کہ یہ بھائی بہن نہ تو باپ شریک ہیں اور نہ ہی ماں شریک ہیں، لہذا ان کی آپس میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔لھذا زید کی بیٹی اپنی ماں کے شوہر عمرو کے بیٹوں کے سامنے نماز جیسا پردہ کرے ستر کو چھپا کر ان کے سامنے جائے، زید کی بیٹی کا عمرو کے بیٹوں سے نکاح بھی جائز ہے۔

سوتیلی بیٹی کے محرم ہونے سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿وَ  رَبَآىٕبُكُمُ  الّٰتِیْ  فِیْ  حُجُوْرِكُمْ  مِّنْ  نِّسَآىٕكُمُ  الّٰتِیْ  دَخَلْتُمْ  بِهِنَّ﴾

ترجمہ کنزالایمان :اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو۔(القرآن الکریم،پارہ04،سورۃ النساء،آیت:23)

مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ” شریعت مطہرہ میں عورت کو نامحرموں سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک اجنبی نامحرموں کا تعلق ہے تو اس پر عمل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن قریبی رشتہ داروں سے جو نا محرم بھی ہوں، ان سے موجودہ دور میں پردہ کرنے کی کیا عملی صورت ہو سکتی ہے؟ آیا چہرے کا پر دہ ہونا بھی ضروری ہے یا صرف زیب و زینت کا پردہ ضروری ہے؟ کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ شرع پر بھی عمل ہو جائے اور رشتہ داروں سے تعلقات بھی خراب نہ ہوں؟“ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:”صورت مسئولہ میں ان رشتہ داروں سے جو نا محرم ہیں ، چہرہ ، ہتھیلی ، گٹے ، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ ستر ( پر دہ) کرنا ضروری ہے۔ زینت ، بناؤ سنگھار بھی  ان کے سامنے ظاہر نہ کیا جائے۔“(وقار الفتاوی،ج03،ص151-150،بزم وقار الدین، کراچی، ملتقطاً )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:Nor-13872

تاریخ اجراء:22ذوالحجۃالحرام1446ھ/19جون2025ء