logo logo
AI Search

ناپاکی میں بچے کو دودھ پلانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت پر غسل فرض ہو تو بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی عورت پر غسل فرض ہو تو کیا وہ اس حالت میں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟

جواب

عورت پر غسل فرض ہو تو ایسی حالت میں بچے کو دودھ پلانے میں حرج نہیں کیونکہ ایسی حالت میں حقیقی طور پر بدن ناپاک نہیں ہوتا، حکمی طور پر ہوتا ہے۔

صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ و غیرہ میں ہے:

و اللفظ للبخاري عن أبي هريرة قال: لقيني رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و أنا جنب فأخذ بيدي فمشيت معه حتى قعد فانسللت فأتيت الرحل فاغتسلت ثم جئت و هو قاعد فقال: "أين كنت يا أبا هر" فقلت له فقال: سبحان اللہ يا أبا هر إن المؤمن لا ينجس

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھ سے ملے اس حال میں کہ میں جنابت کی حالت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیٹھ گئے۔ پھر میں چپکے سے نکلا اور منزل میں آیا، غسل کیا، پھر حاضر ہو گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کہاں تھے؟ میں نے (سارا واقعہ) عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ، اے ابو ہریرہ! بے شک مومن نجس نہیں ہوتا۔ (صحيح البخاري، كتاب الغسل، باب الجنب يخرج و يمشي في السوق وغيره، جلد 1، صفحہ 109، حدیث 281، دار ابن كثير، دمشق)

علامہ نور الدین ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1606ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:

أي: لا يصير عينه نجسا... و فيه دليل على جواز تأخير الاغتسال للجنب و أن يسعى في حوائجه

ترجمہ: یعنی اس کی ذات نجس نہیں ہوتی، اور اس حدیث میں جنبی کے لیے غسل میں تاخیر کرنے اور اپنی ضروریات کے کام کر سکنے کے جواز پر دلیل ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الطهارة، باب مخالطة الجنب و ما يباح له، جلد 2، صفحہ 434، دار الفكر، بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: یعنی جنابت نجاست حقیقیہ نہیں تاکہ جنبی سے مصافحہ وغیرہ منع ہو ۔۔۔۔ اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جنبی کا پسینہ یا جھوٹا نجس نہیں۔ دوسرے یہ کہ غسل جنابت میں دیر لگانا جائز ہے۔ تیسرے یہ کہ جنابت کی حالت میں ضروری کام کاج کرنا جائز ہے۔ چوتھے یہ کہ جنبی سے مصافحہ معانقہ بلکہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز (ہے)۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 262، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: حیض کی وجہ سے جو نجاست عورت پر طاری ہوتی ہے وہ حکمی ہے حقیقی نہیں، اس کا ظاہر جسم پاک اور صاف رہتا ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا گیا:

إن حيضتك ليست في يدك

تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ اس کا مفاد یہی ہے کہ ہاتھ پاک ہے تو جیسے ہاتھ پاک ہے، اسی طرح اس کا سارا ظاہر جسم پاک ہے۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 89، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1060
تاریخ اجراء: 24 رجب المرجب 1447ھ / 14 جنوری 2026ء