کیا بھابھی دیور کے ساتھ عمرے پر جا سکتی ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بھابھی کا دیور کے ساتھ عمرے پر جانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ جو کہ پاکستان میں رہتی ہے، کیا وہ اپنے دیور کے ساتھ عمرے پر جاسکتی ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ہندہ کا دیور کے ساتھ عمرے پر جانا سخت ناجائز و حرام ہے، اگر عمرے پر چلی گئی تو گھر لوٹنے تک ہر قدم پر گنہگار ہوگی۔
تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ کسی بھی عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر شرعی مسافت یعنی 92 کلومیٹر یا اس سے زائد کی مسافت پر واقع کسی جگہ جانا حرام ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں اس کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے، بلکہ فتنے کے خوف کی وجہ سے علماء ایک دن کی راہ (تقریباً30کلو میٹر) تک بغیر محرم کے جانے سے بھی عورت کو منع کرتے ہیں۔ جہاں تک دیور کے ساتھ سفر کرنے کی بات ہے تو دیور، جیٹھ وغیرہ نامحرم رشتہ داروں سے پردہ کرنا تو عورت پر ویسے ہی لازم و ضروری ہے۔
دیور اجنبی نامحرم رشتہ دار ہے۔ اس سے پردے کی تاکید صحیح بخاری شریف اور دیگر کتبِ احادیث میں کچھ یوں مذکور ہے:
”و النظم للاول ”عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال " إياكم والدخول على النساء" فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو ؟ قال "الحمو الموت"“
یعنی حضرت عقبہ ابن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے پاس جانے سے بچو اس پر انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی :یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم دیور کے متعلق ارشاد فرمایئے تو فرمایا: دیور تو موت ہے۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل۔۔۔الخ، ج 05، ص2005،دار ابن كثير، بيروت)
مذکورہ بالا حدیث مبارک کے متعلق مراۃ المناجیح میں ہے:”یعنی بھاوج کا دیور سے بے پردہ ہونا موت کی طرح باعث ہلاکت ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حمو سے مراد صرف دیور یعنی خاوند کا بھائی ہی نہیں بلکہ خاوند کے تمام وہ قرابت دار مراد ہیں جن سے نکاح درست ہے جیسے خاوند کا چچا، ماموں ، پھوپھا وغیرہ۔ اسی طرح بیوی کی بہن یعنی سالی اور اس کی بھتیجی ، بھانجی وغیرہ سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ دیور کو موت اس لیے فرمایا کہ عادتًا بھاوج دیور سے پردہ نہیں کرتیں بلکہ اس سے دل لگی،مذاق بھی کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اجنبیہ غیر محرم سے مذاق دل لگی کسی قدر فتنہ کا باعث ہے اب بھی زیادہ فتنہ دیور بھاوج اور سالی بہنوئی میں دیکھے جاتے ہیں۔“(مرآۃ المناجیح، ج 05، ص 14، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
اجنبی کے مقابلے میں نامحرم رشتہ داروں سے پردے کی تاکید بیان کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:”جیٹھ، دیور، پھپا، خالو، چچازاد، ماموں زاد، پھپی زاد ، خالہ زاد بھائی سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں، بلکہ ان کاضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا، اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے۔ عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃً میل نہیں کھا سکتی، اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتاہے۔ لہذا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا، ایک صحابی انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا:
الحموا الموت، رواہ احمد والبخاری عن عقبۃ بن عامر رضی ﷲ تعالی عنہ
جیٹھ دیور تو موت ہیں۔“(فتاوٰی رضویہ، ج 22، ص 217، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
عورت کا بغیر محرم کے شرعی سفر کرنا، جائز نہیں۔ چنانچہ بخاری شریف کی حدیثِ مبارک میں ہے:
”قال النبی صلى الله عليه و سلم لا تسافر المرأۃ الا مع ذی محرم“
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت شرعی سفر نہ کرے مگر اپنے محرم کے ساتھ۔ (صحيح البخاری،باب حج النساء، ج 03، ص 19، دار طوق النجاۃ)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :” عورت اگرچہ عفیفہ ( یعنی پاکدامن ) یا ضعیفہ ( یعنی بوڑھی ) ہو ، اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا ، حرام ہے ۔۔۔ اگر چلی جائے گی ، گنہگار ہوگی ، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔“ (فتاوٰی رضویہ،ج10،ص707-706، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملتقطاً)
بہارِ شریعت میں ہے: ”عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا ، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی، نابالغ بچہ یا معتوہ کے ساتھ بھی سفر نہیں کرسکتی، ہمراہی میں بالغ محرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔ محرم کے لیے ضرور ہے کہ سخت فاسق بے باک غیر مامون نہ ہو ۔“(بہار شریعت ، ج 01، حصہ 04، ص 752، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13804
تاریخ اجراء:01ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/29اپریل2025ء