عورت نے لیئر کٹنگ کروائی ہو تو تقصیر کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لیئر کٹنگ والی عورت عمرے کے بعد تقصیر کس طرح کرے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون نے پہلے سے اپنے بالوں کی لیئر کٹنگ (Layer Cutting) کروائی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے بال اوپر نیچے مختلف لمبائیوں میں ہیں۔ اب اس نے عمرہ ادا کر لیا اور تقصیر کرنا چاہتی ہے لیکن ایک پَورے میں اوپر والے بال نہیں آتے تو کیا صرف نیچے والے بال کاٹنے سے تقصیر ہو جائے گی؟ براہ کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمادیجئے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ خاتون اپنے چوتھائی سر کے بالوں میں سے ہر بال کو انگلی کے ایک پورے کے برابر کٹوا لیں یا خود کاٹ لیں تو تقصیر کا واجب ادا ہو جائے گا۔ اس کے لیے سر کے تمام حصوں کے بال کاٹنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ چونکہ بالوں کی لمبائی ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے احتیاطاً ایک پورے سے کچھ زیادہ بال کٹوا لینے چاہیے، تاکہ چوتھائی سر کے بال کم از کم ایک پورے کے برابر ضرور کٹ جائیں۔
صدر الشریعہ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: عورتوں کو بال مونڈانا حرام ہے ایک پورہ برابر بال کتروادیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتروائیں تو سر میں جتنے بال ہیں ان میں کے چہارم بالوں میں سے کتروانا ضروری ہے، لہٰذا ایک پورہ سے زیادہ کتروائیں کہ بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ چہارم بالوں میں سب ایک ایک پورہ نہ ترشیں۔ (ملتقطاً) (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1142، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی اعظم پاکستان، حضرت علامہ مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: عورت کے لیے لٹکے ہوئے بالوں میں سے ایک پورا برابر کتروا دینے سے قصر ہوجاتا ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 449، مطبوعہ کراچی)
تنبیہ:
بالوں کی لیئر کٹنگ (Layer Cutting) کا جو طریقہ معلوم ہوسکا، وہ یہ ہے کہ بیچ کی مانگ نکال کر، دائیں بائیں دونوں طرف کے بالوں کو چہرے کی جانب کرلیا جاتا ہے پھر کسی ایک طرف کے بال ترتیب وار (Step By Step) یوں کاٹے جاتے ہیں کہ پہلے Step پر آئی برو (Eyebrow) کے محاذی کچھ بال سیدھ میں کاٹے جاتے ہیں پھر ناک کی نوک کے محاذی کچھ بالوں کو سیدھ میں کاٹا جاتا ہے پھر اسی طرح ٹھوڑی کے محاذی کچھ بال کاٹے جاتے ہیں پھر کندھوں کے محاذی بال پھر اسی طرح نیچے کے کچھ بال کاٹے جاتے ہیں۔ نیز اسی انداز سے پھر دوسری جانب کے بالوں کو مذکورہ Steps پر کاٹا جاتا ہے۔ یوں کمر کی جانب کے بالوں کو چھوڑ کرپورے سر کے تقریباً 70 فیصد بالوں کو کاٹا جاتا ہے اور اس طریقے سے بالوں کی کٹنگ عام طور پر فاسقہ عورتوں کا ہی پسندیدہ انداز ہے۔ نیز اس انداز کے بال کٹوانے کا مقصد ہی تب حاصل ہوتا ہے کہ جب بالوں میں جوڑا نہ باندھا جائے بلکہ بالوں کو کندھوں پر دائیں بائیں کھلا چھوڑا جائے تاکہ مختلف Steps پر کٹنے والے بال گھوم کر خوبصورت دکھائی دیں۔
اس تفصیل کی روشنی میں یہی ظاہر ہوتا ہے کہ لیئر کٹنگ (Layer Cutting) کا مروجہ معروف انداز بے پردہ، کھلے بال رکھنے والی فاسقہ عورتوں کا ہی طریقہ ہے اور ان ہی کا پسندیدہ انداز ہے، جبکہ شریعتِ مطہرہ نے فاسقوں کی مشابہت کرنے کو ممنوع و مکروہ قرار دیا ہے، اور حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جو شخص جن لوگوں کی مشابہت اختیار کرے تو نیکی اور گناہ کے اعتبار سے اس کا شمار بھی انہی جیسا ہوگا۔ نیز عورت کے لیے کندھوں تک یا اس سے اوپر بال کاٹنا، حرام ہے کہ اس میں مردوں کے ساتھ مشابہت ہے اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، لہذا قبر و آخرت کی فکرمند خواتین درج بالا طریقہ کار کے مطابق بالوں کی کٹنگ کرنے، کروانے سے بچیں۔
سننِ ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: ’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘ جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے ، تو وہ انہیں میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشھرۃ، جلد 2، صفحہ 203، مطبوعہ لاہور)
مرقاة المفاتیح شرح مشكوة المصابیح میں حدیثِ پاک کے الفاظ: من تشبه بقوم فهو منهم‘‘ کی شرح کرتے ہوئے علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار فهو منهم أي في الإثم و الخير۔ یعنی جو کفار، فساق، فجار یا اہل تصوف ونیک صالحین کے لباس یا ان کی دیگر چیزوں میں ان کی نقالی کرے تووہ گناہ اور نیکی میں انہی کی طرح شمار ہوگا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 8 صفحہ 222، مطبوعہ کوئٹہ)
فساق کے ساتھ مشابہت سے متعلق محقق مطلق، امامِ اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: مگر اس حالت میں کہ یہ کسی شہر میں آوارہ و فساق لوگوں کی وضع ہو، تو اس عارض کے سبب اس سے احتراز (کرنا) ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 200، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: کفار و فساق و فجار سے مشابہت بُری ہے اور اہل صلاح و تقویٰ کی مشابہت اچھی ہے، پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور انہیں کے اعتبار سے احکام بھی مختلف ہیں، کفار و فساق سے تشبہ کا ادنیٰ مرتبہ کراہت ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ 407، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مردانہ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے: عن ابن عباس رضی اللہ عنهما قال: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم المتشبهين من الرجال بالنساء، و المتشبهات من النساء بالرجال“ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب المتشبھون بالنساء، جلد 2 صفحہ 874، مطبوعہ کراچی)
درمختار و عقود الدریہ میں ہے، و اللفظ للاوّل: ’’قطعت شعر رأسھا أثمت و لعنت۔۔۔ و إن بإذن الزوج ، لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، و لذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ، و المعنی الموثر التشبہ بالرجال‘‘ یعنی عورت اپنے سر کے بال کاٹے تو گنہگار و ملعونہ ہوگی، اگرچہ شوہر کی اجازت سے ایسا کرے، کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مرد پر داڑھی کا ٹنا حرام ہے، اور عورت کے گنہگار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں مردوں کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔ (ملخصاً) (در مختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع،جلد 9، صفحہ 670، 672، مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-0774
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ / 22 جنوری 2026ء