دادا کے بھائی کے بیٹے محرم ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کے دادا کے بھائی کے بیٹے محرم ہوتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا دادا ابو کے بھائی کے بیٹے محرم میں آتے ہیں؟ اور اگر وہی دادو (دادی) کی بہن کا بھی بیٹا ہو، تو کیا ایک ہی حکم ہوگا یا الگ الگ؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
دادا کے بھائی کے بیٹے سے بھی آپ کا پردہ ہے اور دادی کے بہن کے بیٹے سے بھی آپ کا پردہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے عورت کے لیے مَحرم سے مراد وہ مرد ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ پوچھی گئی صورت میں آپ کے دادا کے بھائی یعنی آپ کے والد کے سگے چچا تو آپ کے لیے محرم ہیں کہ وہ آپ کی اصل بعید (یعنی دادا کے والد) کی فرع قریب (صلبی اولاد) ہے، لہٰذا ان سے پردہ نہیں ہوگا۔ البتہ دادا کے بھائی کا بیٹا آپ کے لیے محرم نہیں کیونکہ وہ آپ کی اصل بعید (یعنی دادا کے والد) کی فرع بعید (یعنی صلبی اولادکی اولاد) ہے، لہٰذا آپ کاان سے پردہ ہوگا۔ اسی طرح دادی کی بہن کے بیٹے یعنی دادی کے بھانجے ہونے کی حیثیت سے بھی وہ آپ کے لیےمحرم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ آپ کی اصل بعید (یعنی دادی کے والد) کی فرع بعید (یعنی دادی کے والدکی صلبی اولادکی اولاد) ہے۔ لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ ان سے پردہ کریں۔
آسان مثالیں: ان کوآسانی کے ساتھ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب اپنے والد کے بھائی کے بیٹے (یعنی اپنے چچازاد) سے پردہ ہے، توداداکے بھائی کے بیٹے سے بھی پردہ ہوگا۔ اسی طرح جب والد کی بہن کے بیٹے (پھپھی زاد) سے پردہ ہے، تو دادی کی بہن کے بیٹے سے بھی پردہ ہوگا۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جزئیت کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع (اولاد) اور اپنی اصل (والدین) کتنی بعید ہو، مطلقاً حرام ہے اور اپنی اصلِ قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو، حرام ہے اور اپنی اصلِ بعید کی فرعِ بعید حلال۔ اپنی فرع جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنی ہی دور ہو اور اصل ماں دادی نانی کتنی ہی بلند ہو اور اصلِ قریب کی فرع یعنی اپنی ماں اور باپ کی اولاد یا اولاد کی اولاد کتنی ہی بعید ہو اور اصلِ بعید کی فرعِ قریب جیسے اپنے دادا، پردادا، نانا، دادی، پردادی، نانی، پرنانی کی بیٹیاں یہ سب حرام ہیں اور اصلِ بعید کی فرعِ بعید جیسے اُنہی اشخاصِ مذکورہ آخر (آخر میں ذکر کیے گئے افراد جیسے اپنے دادا، پردادا وغیرہ) کی پوتیاں نواسیاں، جو اپنی اصل قریب کی فرع نہ ہوں، حلال ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 516، 517، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5146
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ/27 جون 2026ء