شوہر کی اجازت کے بغیر بیرون ملک جانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر بچے کی نیشنیلٹی کے لئے بیرونِ ملک جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک عورت اپنے والدین کے ساتھ بچے کی ڈیلیوری کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی ہے، تاکہ بچے کو اس ملک کی نیشنلٹی حاصل ہوسکے، جبکہ شوہر اس بات سے راضی نہیں، اور وہ عورت کو منع کر رہا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر ڈیلیوری کے لیے بیرون ملک جانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر محض بچہ کی نیشنلٹی حاصل کرنے کے لیے والدین کے ساتھ بیرون ملک کا سفر کرنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ ازدواجی زندگی سے تعلق رکھنے والے معاملات میں شوہر کی اطاعت بیوی پر لازم ہوتی ہے، اور شوہر بیوی کو بلا وجہ شرعی گھر سے نکلنے، اور سفر کرنے سے منع کر سکتا ہے، لہذا عورت کا اپنے شوہر کو راضی کئے بغیر، والدین کے ساتھ اس طرح سفر کرنا ، جائز نہیں ہے۔ تاہم! شوہر کو بھی چاہئے کہ اس مسئلے کو حکمت عملی سے حل کرے، میاں بیوی کا اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا ، اور ایک دوسرے کو اعتماد میں نہ لینا گھریلو خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔
سنن الکبری للبیہقی میں ہے ”عن ابن عمر رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن امرأته أتته فقالت: ما حق الزوج على امرأته؟ فقال۔۔۔۔لا تخرج من بيته إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها الملائكة ملائكة الغضب وملائكة الرحمة حتى تتوب أو تراجع“ ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا عورت شوہر کے گھر سے بغیر اجازت کے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو اس پر ملائکہ غضب اور ملائکہ رحمت لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک وہ وہ توبہ کرے یا واپس لوٹ آئے۔ (السنن الکبری للبیھقی، جلد 7، صفحہ 477، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے ”لیس لھا ان تخرج بلا اذنہ اصلاً“ ترجمہ: عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کے گھر سے بغیر اجازت کے نکلے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 286، مطبوعه: كوئٹہ)
اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن شوہر کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”امور متعلقہ زن و شوی میں مطلقا اس کی اطاعت کہ ان امور میں اس کی اطاعت والدین پر بھی مقدم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 371، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شوہر کو اس بات کا اختیارہے کہ وہ عورت کو بلاوجہ گھر سے باہر جانے سے منع کرے، رد المحتار میں ہے ”له منعها عن كل عمل يؤدی الى تنقيص حقه أو ضرره أو الى خروجها من بيته“ ترجمہ: شوہر کو ہر اس کام سے منع کرنے کا اختیار ہے جس میں شوہر کے حق میں کمی ہوتی ہو یا شوہر کو نقصان ہوتا ہو، یا عورت کو شوہرکے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہو۔ (رد المحتار، جلد 5، صفحہ 331، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”عورت اگر کوئی ایسا کام کرتی ہے جس سے شوہر کا حق فوت ہوتا ہے یا اُس میں نقصان آتا ہے یا اُس کام کے ليے باہر جانا پڑتا ہے، تو شوہر کو منع کر دینے کا اختیار ہے۔ بلکہ نظر بحالِ زمانہ ایسے کام سے تو منع ہی کرنا چاہیے جس کے ليے باہر جانا پڑے۔ “ (بہار شریعت، حصہ 8، جلد 2، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5138
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ/23 جون 2026ء