عورت کا جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ کی پہلی اذان کے بعد عورت کا عورت سے خرید و فروخت کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد ایک عورت دوسری عورت سے خرید و فروخت کر سکتی ہے یا نہیں ؟
جواب
شریعت کی رو سے جس شخص پر نمازِ جمعہ فرض ہو، اس پر جمعہ کی پہلی اذان ہوتے ہی جمعہ کی سَعی یعنی تیاری کرنا واجب ہوجاتی ہے اور اس کے لیے جمعہ کی پہلی اذان شروع ہونے سے لےکر نماز ختم ہونے تک خرید و فروخت کرنا مکروہِ تحریمی یعنی گناہ ہوتا ہےکہ یہ سَعی کو ترک کرنا ہے۔ چونکہ احادیث طیبہ کی روشنی میں عورت پر نمازِجمعہ فرض نہیں ہے تو اس پر جمعہ کی سَعی بھی واجب نہیں ہے، تو اس لیے عورت کا اس وقت میں عورت سے خرید و فروخت کرنا مکروہ تحریمی نہیں، لہٰذا نمازِ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد ایک عورت کا دوسری عورت سے خرید وفروخت کرنا، جائز ہے۔
نمازِ جمعہ کی پہلی اذان ہوتے ہی جس شخص پر جمعہ فرض ہو، اس پر جمعہ کی سَعی واجب ہوجاتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:﴿یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَانُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانو۔ (القرآن الکریم، پارہ 28، سورۃ الجمعہ، آیت 09)
مذکورہ بالا آیت ِ مبارکہ کی تفسیر میں صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں: ’’اذان سے مراد اذانِ اوّل ہے، نہ اذانِ ثانی جو خطبہ سے متصل ہوتی ہے، اگرچہ اذانِ اوّل زمانۂِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں اضافہ کی گئی، مگر وجوبِ سعی اور ترکِ بیع و شراء اسی سے متعلق ہے۔ دوڑنے سے بھاگنا مراد نہیں ہے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ نماز کے لیے تیاری شروع کردو اور ذکر اللہ سے جمہور کے نزدیک خطبہ مراد ہے۔“ (تفسیرخزائن العرفان، صفحہ 1025، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جن پر جمعہ فرض نہیں، ان پر جمعہ کی سَعی بھی لازم نہیں، چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: ”من لم تجب عليه الصلاة لم يجب عليه السعي إلى الخطبة بالإجماع“ ترجمہ: جس شخص پر نماز (جمعہ) واجب نہیں، اس پر خطبہ سننے کے لیے سَعی بھی بالاجماع واجب نہیں ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 502، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
عورت پر جمعہ فرض نہیں، چنانچہ سنن ابی داؤد کی حدیثِ پاک میں ہے:”عن طارق بن شھاب عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قال: الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة: عبد مملوك، أو امرأة، أو صبي، أو مريض“ ترجمہ:حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر چار افراد پر (فرض نہیں) غلام، عورت، نابالغ بچہ اور مریض ۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 295، دارالرسالة العالمية)
امام کمال الدین ابنِ ھُمَّام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:861ھ) لکھتےہیں: ”ولا تجب الجمعة على مسافر ولا امرأة ولا مريض ولا عبد ولا أعمى“ ترجمہ: مسافر، عورت، مریض، غلام اور نابینا پر جمعہ واجب نہیں۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 62، دار الفكربيروت)
نمازِ جمعہ کی پہلی اذان کے وقت بیع کرنے سے متعلق در مختار مع رد المحتار میں ہے: ’’(وكره) تحریما (البيع عند الاذان الاول) وقد خص منه من لا تجب علیہ الجمعۃ‘‘ ترجمہ: (نمازِ جمعہ کی) پہلی اذان کے وقت خرید و فروخت مکروہ تحریمی ہے۔۔۔اور تحقیق اس حکم سے (مستثنیٰ ہونے میں) خاص کیا گیا ہے، ان کو جن پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، جلد 05، صفحہ 101، دارالفکر بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”اذانِ جمعہ کے شروع سے ختمِ نماز تک بیع مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُسی وقت سَعی واجب ہوجاتی ہے، مگر وہ لوگ جن پرجمعہ واجب نہیں مثلاً عورتیں یا مریض اُن کی بیع میں کراہت نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 2، صفحہ 723، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0291
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/13 جون 2026ء