logo logo
AI Search

اخلاق نام رکھنا اور اس کا مطلب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے کا نام "اخلاق" رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچے کا نام "اخلاق" رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"اخلاق" کے معانی ہیں: "عادتیں، طور طریقے وغیرہ۔" نیز اچھے اخلاق اور اچھے طور طریقوں کو بھی، اخلاق کہتے ہیں۔ لہذا معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْکے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

نور اللغات صفحہ 251، مختصر اردو لغت صفحہ 41، علمی اردو لغت صفحہ 87، رابعہ اردو لغت صفحہ 67، جدید نسیم اللغات صفحہ 58 اور اظہر اللغات میں اخلاق کے یہ معنی بیان کیے گئے ہیں "عادتیں، خصلتیں، انسانیت، مروت، طور طریقے۔" (اظہر اللغات، صفحہ 67، مطبوعہ اظہر پبلشرز، لاہور)

فرہنگ آصفیہ میں ہے "اخلاق۔۔ (1) عادتیں خصلتیں (2) خوش خوئی۔ ملنساری۔" (فرہنگ آصفیہ، ج 01، ص 130، مشتاق بک کارنر، لاہور)

قومی اردو لغت میں ہے "اخلاق: 1. عادتیں، خصلتیں، طور طریقے (اچھے یا برے) 2. پسندیدہ عادتیں۔ اچھے طور طریقے یا برتاو، وہ سلوک جو مروت پر مبنی ہوں۔"

المعجم الوسیط میں ہے "الخلق: عادت، طبیعت، مزاج (ج) اخلاق۔" (المعجم الوسیط، صفحہ 319، مطبوعہ لاہور)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5321

تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ/21 اگست 2026ء