ارقم نام رکھنا اور اس کا مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچے کا نام "ارقم" رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بچے کا نام ارقم رکھنا کیسا ہے؟
جواب
بچے کا نام "ارقم" رکھنا جائز بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کے متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان کا نام ہے، اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔
معجم الصحابہ میں ہے "الأرقم بن أبي الأرقم أسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم شهد بدرا مع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وكان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم حين تغيب من قريش تغيب في داره وهي التي تعرف بالخيزران عند الصفا" ترجمہ: ارقم بن ابو ارقم اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب قریش سے پوشیدہ رہتے تھے تو ان کے گھر میں ہی رہتے تھے اور یہ وہی گھر ہے جو صفا کے پاس خیزران کے نام سے معروف ہے۔ (معجم الصحابہ للبغوی، جلد 1، صفحہ 164، مکتبہ دار البیان، کویت)
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے ارقم نام کے صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "الأرقم بن أبي الأرقم الزهري، الأرقم بن حفينة التّجيبي، الأرقم بن عبد اللہ بن الحارث بن بشر بن ياسر النخعي، الأرقم الجنّي" (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد 1، صفحہ 198، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5322
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ/21 اگست 2026ء