مرہا عمر نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بچی کا نام مرہا عمر رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مرہا (میم کے زبر اور راکے سکون کے ساتھ) امرہ کی مؤنث ہے، اور اس کا معنی ہے: خالص سفید چیز جس میں کوئی اور رنگ نہ ہو۔ اور عمر بظاہر ساتھ میں والد کے نام کی وجہ سے لگایا جاتا ہے واور بچی کے نام کے آخر میں اس کے والد کانام لگانے میں شرعی قباحت نہیں ہے، لہذا اس اعتبار سے بچی کانام مرہا عمر رکھنا جائز ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائےکہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔
المنجد میں ہے "امرہ" سفید بادل جس میں سیاہی بالکل نہ ہو "المرھاء" الامرہ کا مؤنث ہے، شاۃ مرھاء: وہ سفید بکری جس میں کوئی اور داغ نہ ہو۔" (المنجد، صفحہ 833، مطبوعہ: لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اﷲ بخشا جائے گا۔ ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب نام رکھنے کے احکام پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ نیچے دئے گئے لنک سے یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتوی نمبر: WAT-5278
تاریخ اجراء: 20 صفر المظفر 1448ھ / 04 اگست 2026ء