logo logo
AI Search

درود ابراہیمی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر کی وجہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

درودِ ابراہیمی میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہی نام کیوں آتا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ درودِ ابراہیمی میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیاء کرام میں سے فقط حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام ہی کا مبارک ذکر آتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

درودِ ابراہیمی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صحابہ کرام علیہم الرضوان کو تعلیم فرمایا ہے (صحیح بخاری/3370)۔ اب اس میں دیگر انبیاء میں سے فقط حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کا ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟ تو علماء نے اس کی مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں، چند درج ذیل ہیں:

٭حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتِ محمدی پر کثیر احسانات ہیں، مثلاً: معراج کی شب ہم پر سلام بھیجا، کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد ہم میں سے حج کرنے والوں کے لئے سلامتی کی دعا کی، نیز اس امت کا نام "مُسْلِمَہ" یعنی اللہ کے حضور گردن جھکانے والی رکھا وغیرہ۔ پس ان احسانات کے بدلے کے طور پر ہمیں قیامت تک نماز میں بھی آپ اور آپ کی آل پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

٭درودِ ابراہیم سے مطلوب ایسی دعا ہے، جس سے اللہ پاک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلیل بنائے، جیسا کہ اُس نے حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خلیل بنایا اور اللہ پاک نے اپنے بندوں کی دعا قبول فرمائی اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا خلیل بنایا۔

٭اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں، مثلاً: آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جدِ امجد ہیں، راجح قول کے مطابق آپ بقیہ انبیاء سے افضل ہیں، دینی احکام میں ہماری ان سے موافقت ہے، نیز آپ نے خود بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کی تھی کہ بعد میں آنے والوں میں میرا ذکر باقی رہے۔ پس ان وجوہات کی بنیاد پہ آپ کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے: ’’لم خص التشبيه بابراهيم دون غيره من الرسل الكرام عليه الصلاة والسلام ؟ فاجاب بثلاثة اجوبة: الاول: انه سلم علينا ليلة المعراج، حيث قال:ابلغ امتك منی السلام والثانی: انه سمانا المسلمين كما اخبرنا عنه تعالى بقوله: ﴿هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ ﴾ای بقوله:﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ﴾ والعرب من ذريته وذرية اسماعيل عليهما السلام، فقصدنا اظهار فضله مجازاة على هذين الفعلين منہ والثالث: ان المطلوب صلاة يتخذ اللہ تعالى بها نبينا صلى اللہ عليه وسلم خليلا كما اتخذ ابراهيم عليه السلام خليلا وقد استجاب اللہ دعاء عباده، فاتخذه اللہ تعالى خليلا ايضا، ففی حديث الصحيحين "ولكن صاحبكم خليل الرحمن" واجيب باجوبة اخر: منها ان ذلك لابوته والتشبيه فی الفضائل بالآباء مرغوب فيه ولرفعة شانه فی الرسل وكونه افضل بقية الانبياء على الراجح ولموافقتنا اياه فی معالم الملة المشار اليه بقوله تعالى: ﴿مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ        ﴾ ولدوام ذكره الجميل المشار اليه بقوله تعالى: ﴿وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ﴾ وللامر بالاقتداء به فی قوله تعالى: ﴿اَنِ اتَّبِـعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا﴾‘‘

 ترجمہ: درودِ ابراہیم میں تشبیہ کو دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ فقط حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص کیوں کیا گیا ؟ تو مصنف علیہ الرحمۃ نے اس کے تین جوابات دئیے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام نے معراج کی رات ہم پر سلام بھیجا، اس حیثیت سے کہ انہوں نے کہا: اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہنا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے ہمارا نام مسلمان رکھا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں۔ یعنی حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ اے رب ہمارے! اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والے اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمان بردار۔ اور عرب حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ اسمٰعیل علیہما السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ پس ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت کے اظہار کا قصد کیا، ان کے ان دونوں افعال کی جزا کے طور پر۔ اور تیسرا یہ کہ اس درود سے وہ درود مطلوب ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلیل بنائے، جیسا کہ اللہ پاک نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے: اور لیکن تمہارے صاحب (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے خلیل ہیں۔ اور اس کے کئی اور جوابات بھی دئیے گئے ہیں: اور وہ یہ کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کا ذکر باپ ہونے (اور فضائل میں آباؤاجداد کے ساتھ تشبیہ پسندیدہ ہے)، رسولوں میں آپ کی شان بہت بلند ہونے، راجح قول کے مطابق آپ کے بقیہ انبیاء سے افضل ہونے اور دینی احکام میں ہماری ان سے موافقت کی وجہ سے ہے (جس کی طرف اللہ پاک کے اس قول کے ذریعہ اشارہ کیا گیا ہے: تمہارے باپ ابراہیم کا دین)۔ یونہی آپ کی خصوصیت آپ کا ذکرِ خیر ہمیشہ رکھنے (جس کی طرف اللہ پاک کے اس فرمان کے ذریعہ اشارہ کیا گیا ہے: اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں) اور آپ کے دین کی پیروی کا حکم ہونے کی وجہ سے ہے (جیسا کہ اللہ پاک کے اس فرمان میں ہے: کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا)۔ (فتاوی شامی، ج 1، ص 514، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7384
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاخریٰ 1445ھ/11 جنوری 2024ء