کیا حضرت قاسم کا نکاح میدانِ کربلا میں ہوا تھا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا میدانِ کربلا میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تھی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کيا امام قاسم بن حسین رضى اللہ تعالی عنہما کربلا ميں دولہا بنے تھے؟ کيا ان کا کربلا ميں نکاح ہوا تھا؟ اگر نہيں تو انکى مہندى کيوں نکالى جاتى ہے؟
جواب
حضرت قاسم بن امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما کے میدان کربلا میں نکاح ہونے اور دولہا بننے کا روایات میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، نیز ان کی مہندی نکالنا بد مذہبوں و جاہلوں کی خرافات میں سے ہے، ہمیں اس سے اجتناب کرنے، اور دور رہنے کا حکم ہے۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے فتاوی رضویہ میں یہی سوال ہوا کہ حضرت قاسم بن حسین رضی اللہ عنہما کا نکاح کربلا میں ہوا تھا یا نہیں؟ اور روایات صحیح سے ثابت ہے یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا: اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 509، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے محرم الحرام کی مختلف مراسم جیسے تعزیہ بنانے، علم اٹھانے، اور مہندی چڑھانے وغیرہ کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواب میں ارشاد فرمایا: مراسم کہ سوال میں مذکور ہوئے سب ممنوع وناجائز ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 508، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5161
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 08 جولائی 2026ء