logo logo
AI Search

نبی کریم ﷺ رات کے کس حصے میں بیدار ہوتے تھے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضور علیہ الصلاۃ والسلام رات کے کون سے حصے میں بیدار ہوتے تھے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے پیارے آقا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے کون سے حصے میں بیدار ہوتے ہیں ؟

جواب

رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات کے اول حصے میں آرام فرماتے، اور پھر عام طور پر رات کے آخری تیسرے حصہ میں، کہ جب مرغ بانگ دیتا، بیدار ہو کر، تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے، حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "سألت عائشة رضي اللہ عنها، أي العمل كان أحب إلى النبي صلى اللہ عليه وسلم؟ قالت: «الدائم»، قلت: متى كان يقوم؟ قالت: «كان يقوم إذا سمع الصارخ»" ترجمہ: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے سوال کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ کون سے عمل پسند تھا؟ تو آپ نے فرمایا: وہ عمل جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے۔ میں نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کب قیام فرماتے تھے ؟ تو آپ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام مرغ کی آواز سنتے تو قیام فرماتے۔ (صحیح البخاری، کتاب التھجد، صفحہ 212، رقم الحدیث 1132، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے "وهذا يدل على أن قيامه - صلى اللہ عليه وسلم - كان يكون في الثلث الأخير من الليل لأن الديك ما يكثر الصياح إلا في ذلك الوقت وإنما اختار - صلى اللہ عليه وسلم- هذا الوقت لأنه وقت نزول الرحمة ووقت السكون وهدو الأصوات." ترجمہ: اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا قیام رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا تھا، کیونکہ مرغ زیادہ بانگ اسی وقت دیتا ہے، اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کو صرف اس لیے اختیار فرمایا، کہ یہ رحمت کے نزول کا وقت ہے، اور یہ سکون کا، اور آوازوں کے تھم جانے کا وقت ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 7، صفحہ 182، دار إحياء التراث العربي، بيروت )

نزھۃ القاری میں ہے "محمد بن ناصر نے کہا۔ مرغ کی عادت یہ ہے کہ وہ آدھی رات کو بولتا ہے۔ اب یہ حضرت ابن عباس کی حدیث کے معارض نہیں ہوگا جس میں مذکور ہے کہ جب آدھی رات ہو گئی یا آدھی سے کچھ کم ہوئی یا کچھ زیادہ۔ ابن بطال نے کہا۔ جب تہائی رات رہ جاتی ہے۔ جب بولتا ہے۔ تجربہ اس کی شہادت دیتا ہے۔ اس تقدیر پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کا محمل یہ ہوگا کہ خاص اس رات اس وقت اٹھے اور ام المومنین کا ارشاد اکثر جو عادت کریمہ تھی اس کے مطابق ہے۔ دوسری حدیث میں نائما سے مراد لیٹے رہنا ہے-" (نزھۃ القاری۔ ج 2 ص 678۔679۔ فرید بک سٹال)

صحيح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرو ی ہے "كان ينام أول الليل ويحي آخره" ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں آرام فرماتے تھے اور رات کے آخری حصے کو (عبادت میں) زندہ رکھتے تھے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 226، رقم الحدیث 739، دار کتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5044
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء