logo logo
AI Search

حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات و اولاد پاک کی تعداد کتنی تھی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبی پاک ﷺ کی ازواجِ مطہرات و اولاد پاک کی تعداد

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کتنی تھیں اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اولاد اطہار کتنی تھیں، رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ؟

جواب

(1) : حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے، مگر گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں، ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا، تو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ہی انتقال ہوگیا تھا، مگر نو بیویاں، حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔ ان گیارہ اُمت کی ماؤں میں سے چھ خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم و چراغ تھیں، جن کے اسمائےمبارکہ یہ ہیں: (1) حضرت خدیجہ بنت خویلد، (2) حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق، (3) حضرت حفصہ بنت عمرفاروق، (4) حضرت اُمِ حبیبہ بنت ابو سفیان، (5) حضرت اُمِ سلمہ بنت ابو امیہ، (6) حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہن ۔

اور چار ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن خاندان قریش سے نہیں تھیں، بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں، وہ یہ ہیں: (7) حضرت زینب بنت جحش، (8) حضرت میمونہ بنت حارث، (9) حضرت زینب بنت خزیمہ ''ام المساکین'' (10) حضرت جویریہ بنت حارث۔

اور ایک زوجہ مطہرہ یعنی (11) صفیہ بنت حیی، یہ عربی النسل نہیں تھیں، بلکہ خاندان بنی اسرائیل کی ایک شریف النسب رئیس زادی تھیں۔

 (2) : حضور نبی کریم صلی اللہ  تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پاک، جن پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے، وہ چھ ہیں، دو شہزادے: (1): حضرت قاسم، (2): حضرت ابراہیم۔ اور چار شہزادیاں، (3) حضرت سیدہ زینب، (4) حضرت سیدہ رقیہ، (5) حضرت سیدہ ام کلثوم، (6) حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا ء رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ (7) اور بعض مورخین کے نزدیک آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک اور شہزادے، حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، جن کو طیب وطاہر کہا جاتا تھا۔ اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہےکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں، تو یوں اولاد پاک کی کل تعداد سات تھی۔

شرح الزرقانی علی المواہب میں ہے "والمتفق عليه: أنهن إحدى عشرة امرأة، ستة من قريش: خديجة بنت خويلد بن أسد بن عبد العزي بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي.وعائشة بنت أبي بكر بن أبي قحافة بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد بن تميم بن مرة بن كعب بن لؤي.وحفصة بنت عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزي بن عبد اللہ بن قرط. بن رزاح بن عدي بن كعب بن لؤي.وأم حبيبة بنت أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي.وأم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم بن يقظة بن مرة بن كعب بن لؤي.وسودة بنت زمعة بن قيس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر بن مالك بن حسل بن عامر بن لؤي.وأربع عربيات:زينب بنت جحش بن رباب بن يعمر بن صبرة بن مرة بن كبير بن غنم بن دودان بن أسد بن خزيمة.وميمونة بنت الحارث الهلالية.وزينب بنت خزيمة الهلالية أم المساكين.وجويرية بنت الحارث الخزاعية المصطلقية.وواحدة غير عربية من بني إسرائيل وهى صفية بنت حيي من بني النضير.فمات عنده صلى اللہ عليه وسلم منهن اثنتان: خديجة و زينب أم المساكين، ومات صلى اللہ عليه وسلم عن تسع"

ترجمہ: جن ازواجِ مطہرات پر اتفاق ہے، ان کی تعداد گیارہ ہے۔ ان میں سے چھ قریش سے تھیں: (1) حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی۔ (2) حضرت عائشہ بنت ابوبکر بن ابو قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لؤی۔ (3) حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی۔ (4) حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی۔ (5) حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لؤی۔ (6) حضرت سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی۔ اور چار عرب خواتین تھیں: (7) حضرت زینب بنت جحش بن رباب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ۔ (8) حضرت میمونہ بنت حارث ہلالیہ۔ (9) حضرت زینب بنت خزیمہ ہلالیہ، جنہیں ام المساکین کہا جاتا تھا۔ (10) حضرت جویریہ بنت حارث خزاعیہ مصطلقیہ۔ اور ایک غیر عرب تھیں، جو بنی اسرائیل میں سے تھیں، وہ (11) حضرت صفیہ بنت حیی تھیں، جو بنو نضیر سے تعلق رکھتی تھیں۔ان ازواجِ مطہرات میں سے دو کا انتقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہوگیا، ایک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور دوسری حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ عنہا۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ مبارک کے وقت نو ازواجِ مطہرات موجود تھیں۔ (شرح الزرقانی علی المواہب، جلد 4، صفحہ 359 تا 362، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کی تفصیل کے متعلق شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی ٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے مگر گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ہی انتقال ہوگیا تھا مگر نو بیویاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔ ان گیارہ اُمت کی ماؤں میں سے چھ خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم و چراغ تھیں جن کے اسماء مبارکہ یہ ہیں، (1) خدیجہ بنت خویلد، (2) عائشہ بنت ابوبکر صدیق، (3) حفصہ بنت عمر فاروق، (4) اُمِ حبیبہ بنت ابو سفیان، (5) اُمِ سلمہ بنت ابو امیہ، (6) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہن۔ اور چار ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن خاندان قریش سے نہیں تھیں، بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں وہ یہ ہیں: (1) زینب بنت جحش، (2) میمونہ بنت حارث، (3) زینب بنت خزیمہ''ام المساکین، (4) جویریہ بنت حارث اورایک بیوی یعنی صفیہ بنت حیی یہ عربی النسل نہیں تھیں بلکہ خاندان بنی اسرائیل کی ایک شریف النسب رئیس زادی تھیں۔" (سیرتِ مصطفیٰ، صفحہ 651، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

شرح الزرقانی علی المواہب میں ہے "اعلم أن جملة ما اتفق عليه منهم ستة: القاسم وإبراهيم، وأربع بنات: زينب ورقية وأم كلثوم وفاطمة، وكلهن أدركهن الإسلام وهاجرن معه.واختلف فيما سوى هؤلاء:فعند ابن إسحاق: الطاهر والطيب أيضا۔۔۔۔وقال الزبير بن بكار:كان له عليه الصلاة والسلام سوى إبراهيم القاسم وعبد اللہ، مات صغيرا بمكة، ويقال له: الطيب والطاهر، ثلاثة أسماء.وهو قول أكثر أهل النسب قاله أبو عمر، وقال الدارقطني: هو الأثبت.ويسمى عبد اللہ بالطيب والطاهر لأنه ولد بعد النبوة، فعلى هذا تكون جملتهم سبعة، ثلاثة ذكور۔۔۔۔والأصح أنهم ثلاثة ذكور وأربع بنات متفق عليهن وكلهن من خديجة بنت خويلد إلا إبراهيم"

ترجمہ:جان لو کہ ان اولاد میں سے جن پر سب کا اتفاق ہے، ان کی تعداد چھ ہے: حضرت قاسم اور حضرت ابراہیم، اور چار صاحبزادیاں:حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہن۔ ان چاروں شہزادیوں نے اسلام کا زمانہ پایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت بھی کی۔ اور ان کے علاوہ اولاد کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن اسحاق کے نزدیک حضرت طاہر اور حضرت طیب بھی آپ کی اولاد تھے۔ زبیر بن بکار کہتے ہیں کہ: حضرت ابراہیم کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صاحبزادے حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ تھے، رضی اللہ تعالی عنہم، جو مکہ میں بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ حضرت عبداللہ ہی کو طیب اور طاہر بھی کہا جاتا تھا۔ (یہ ایک ہی صاحبزادے کے) تین نام تھے۔ابو عمر نے کہاکہ اہلِ نسب کی اکثریت کا یہی قول ہے، اور دارقطنی نے بھی اسی کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔حضرت عبداللہ کو طیب اور طاہر اس لیے کہا جاتا تھا کہ ان کی ولادت نبوت ملنے کے بعد ہوئی تھی۔ اس قول کے مطابق آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اولادپاک کی کل تعداد سات تھی، جن میں تین صاحبزادے تھے۔ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں، جن پر اتفاق ہے۔ یہ سب اولاد حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے تھی، سوائے حضرت ابراہیم کے۔رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ (شرح الزرقانی علی المواہب، جلد 4، صفحہ 313 تا 316، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد پاک رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے بارے میں شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی ٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراہیم اور چار صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم و حضرت فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) لیکن بعض مؤرخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے عبد ﷲ بھی ہیں جن کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے۔ تین صاحبزادگان اور چار صاحبزادیاں، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔ ۔۔حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے تولد ہوئے تھے باقی تمام اولاد کرام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک سے پیداہوئیں۔" (سیرتِ مصطفیٰ، صفحہ 687، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5170
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1448ھ/30 جون 2026ء