حضور ﷺ کو مالک جنت کیوں کہا جاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مالک جنت کہنے کی وجہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
حضور نبی کریم رؤوف و رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو مالکِ جنت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و عطا سے نہ صرف جنت بلکہ تمام جہان کا اختیار و تصرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو عطا فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ کے نائبِ مطلق ہیں؛ تمام جہان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے زیرِ حکم ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم جسے، جو چاہیں عطا فرمائیں اور جس سے جوچاہیں واپس لیں۔ جنت و دوزخ کی کنجیاں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے دستِ اقدس میں دی گئی ہیں۔ پس تمام جنت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی جاگیر ہے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ کی عطا سے مالک و مختار ہیں۔
قرآن مجید میں ارشادِ الٰہی ہے ﴿تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴾ ترجمہ کنز الایمان: یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے۔ (پارہ 16، مریم، آیت 63)
اخبار الاخیار میں مذکور آیت کریمہ بیان کرنے کے بعد، شیخ محقق، شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یحتمل ان یکون من کان تقیا ھو رسول اللہ أي: نورث تلک الجنۃ محمدا صلی اللہ علیہ و سلم فیعطي من یشاء و یمنع عمن یشاء، و ھو السلطان في الدنیا و الآخرۃ، فلہ الدنیا و لہ الجنۃ و لہ المشاھدات صلی اللہ علیہ و سلم“ ترجمہ: احتمال ہے کہ آیت میں (من کان تقیا) سے مراد حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ہوں یعنی ہم اس جنت کا وارث محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو بنائیں گے، پھر وہ جسے چاہیں گے عطا فرمائیں گے اور جس سے چاہیں گے روک لیں گے۔ اور وہ دنیا و آخرت میں سلطان ہیں۔ پس دنیا بھی انہی کے لیے ہے، جنت بھی انہی کے لیے ہے اور مشاہدات (اللہ تعالیٰ کی خاص معرفت و دیدار کے انوار) بھی انہی کے لیے ہیں۔ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم (اخبار الاخیار فارسی، صفحہ 433، مطبوعہ: تہران، ایران)
صحیح مسلم میں حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی سے مروی ہے، فرمایا: ”كنت أبيت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فأتيته بوضوئه و حاجته فقال لي: سل. فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة! قال: أو غير ذلك؟ قلت: هو ذاك. قال: فأعني على نفسك بكثرة السجود“ ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، پس میں وضو کا پانی اور ضرورت کا سامان لے کر آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: مانگو! میں نے عرض کی: میں آپ سےجنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں، فرمایا: کیا اس کے سوا کچھ اور بھی چاہیے؟ میں نے عرض کی: بس یہی، فرمایا: تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم، صفحہ 184، رقم الحدیث 489، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم اپنے رب کی عطا سے مالک جنت ہیں، معطیِ جنت ہیں، جسے چاہے عطافرمائیں، امام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: إن اللہ تعالی ملکہ الأرض کلھا و أنّہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کان یقطع أرض الجنۃ ما شاء منھا لمن شاء فأرض الدنیا أولی ترجمہ: اللہ تعالی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالک کردیاہے، حضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کا کیا ذکر۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 667، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے ”حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم، اللہ عزوجل کے نائبِ مطلق ہیں، تمام جہان حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) کے تحتِ تصرّف کر دیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام آدمیوں کے مالک ہیں، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی ملک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ و الارض حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زیر فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں، رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، احکامِ تشریعیہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 79 تا 85، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5336
تاریخ اجراء: 10 ربیع الاول 1448ھ / 24 اگست 2026ء