حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد نبی ہونگے یا امتی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا حضرت عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام نزول کے بعد حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے امتی ہوں گے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام، اللہ پاک کے نبی اور رسول ہیں، اور جب وہ قرب قیامت تشریف لائیں گے، تو اس وقت بھی نبی ہی ہوں گے، البتہ! اس وقت اپنی سابق شریعت نافذ نہیں کریں گے، اور نہ ہی کوئی نئی شریعت پیش کریں گے، بلکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے امتی کی حیثیت سےشریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے پیروکار اور مبلغ ہوں گے۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم، و إمامكم منكم“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے، اور تمہارے امام تمہیں میں سے ہوں گے۔ (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3449، ص 635،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 852ھ) فرماتے ہیں: معنى قوله: و إمامكم منكم، يعني أنه يحكم بالقرآن لا بالإنجيل ۔ ۔ ۔ و على تقدير أن يكون عيسى إماما، فمعناه أنه يصير معكم بالجماعة من هذه الأمة. قال الطيبي: المعنى يؤمكم عيسى حال كونه في دينكم“ ترجمہ: و إمامكم منكم" کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام قرآنِ کریم کے مطابق فیصلہ کریں گے نہ کہ انجیل کے مطابق۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ امام ہوں گے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام تمہارے ساتھ اس امتِ محمدیہ کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام تمہاری ہی شریعت پر تمہاری امامت فرمائیں گے۔ (فتح الباري لابن حجر، ج 6، ص 494، دار المعرفة، بيروت)
الحاوی للفتاوی میں ہے ”يأتي عيسى في آخر الزمان على شريعته، و هو نبي كريم على حاله، لا كما يظن بعض الناس أن يأتي واحدا من هذه الأمة، نعم هو واحد من هذه الأمة بما قلناه أن اتباعه للنبي صلى اللہ عليه وسلم، و إنما يحكم بشريعة نبينا صلى اللہ عليه وسلم بالقرآن و السنة“ ترجمہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں اسی شریعت پر تشریف لائیں گے، اور وہ بدستور ایک معزز نبی ہوں گے، نہ کہ جیسا بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس امت کے ایک عام فرد کی حیثیت سے آئیں گے۔ ہاں، ہمارے بیان کردہ معنی کے اعتبار سے وہ اس امت میں سے ہیں، یعنی اس وجہ سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کریں گے، اور قرآن و سنت کے مطابق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی شریعت کے مطابق حکم فرمائیں گے۔ (الحاوی للفتاوی، ج 2، ص 201، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5238
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 23 جولائی 2026ء