حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ اور غزوہ بدر میں شرکت
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک کیوں نہیں ہوئے تھے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے،وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ کی زوجہ محترمہ، شہزادیِ کونین، بنتِ سرورِ دارین، حضرتِ سیدتنا رقیہ رضی اللہ عنہا اس وقت سخت بیمار تھیں، تو سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم نے خود حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دے دیا تھا، لہذا آپ کا غزوہ بدر میں شریک نہ ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سبب تھااور قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ عزوجل ہی کی اطاعت ہے۔
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾ ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا، بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ (پ 5، سورۃ النساء، آیت 80)
اور بخاری شریف میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، وہ ارشاد فرماتے ہیں: انما تغیب عثمان عن بدر،فانہ کانت تحتہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکانت مریضۃ،فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم:ان لک اجر رجل ممن شھد بدرا و سھمہ‘‘ ترجمہ: حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے، کیونکہ ان کے نکاح میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی تھیں اور وہ بیمار تھیں، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا: بے شک تمہیں اس شخص کے برابر ثواب اور مالِ غنیمت سے حصہ ملے گا جو بدر میں شریک ہو گا۔ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب اذا بعث الامام رسولا فی حاجۃ، ج 4، ص 232، مطبوعہ دار التاصیل، قاھرہ)
خود حضور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن کھڑے ہو کر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد فرمایا کہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف ہیں،پھر ان کی طرف سے خود بیعت کی اور ان کے لئے مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی مقرر فرمایا۔
سننِ ابی داؤد میں حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی،وہ فرماتے ہیں: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قام یعنی یوم بدر، فقال: ان عثمان انطلق فی حاجة اللہ و حاجة رسول اللہ وانی ابائع له، فضرب له رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم بسهم و لم يضرب لاحد غاب غيره‘‘ ترجمہ: بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم غزوہ بدر کے دن کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: بے شک حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت میں گئے ہیں، ان کی (طرف سے) میں بیعت کرتا ہوں، پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے لئے حصہ مقرر کیا، ان کے علاوہ کسی غائب کا حصہ مقرر نہیں فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، باب فیمن جاء بعد الغنیمۃ، ج 3، ص 26، مطبوعہ المطبعۃ الانصاریۃ بدھلی، الھند)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے والی حدیث جس باب کے تحت ذکر کی ہے، آپ نے اس کا عنوان ہی یہ رکھا ہے ’’باب اذا بعث الامام رسولا فی حاجة او امره بالمقام هل يسهم له‘‘ یعنی یہ باب اس بارے میں ہے کہ جنگ کا امیر جب کسی شخص کو کسی کام سے بھیجے یا کسی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے، تو کیا اسے مالِ غنیمت میں سے حصہ ملے گا؟ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب اذا بعث الامام رسولا فی حاجۃ، ج 4، ص 232، مطبوعہ دار التاصیل، قاھرہ)
مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہو گیا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا جنگِ بدر میں شریک نہ ہونا موت کے خوف اور ڈر کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرمانبرداری کی وجہ سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو جنگِ بدر میں شرکت نہ کرنے کے باوجود بالاتفاق بدری اصحاب میں شامل کیا گیا ہے، کیونکہ جو شخص امیر کی اطاعت کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے، تو وہ حقیقت کے اعتبار سے جنگ میں شریک ہونے والے افراد ہی کی طرح ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بدری اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: عثمان بن عفان القرشی خلفہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم علی ابنتہ و ضرب لہ بسھمہ‘‘ ترجمہ: (بدری اصحاب میں سے) حضرت عثمان بن عفان القرشی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ہیں، انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹی کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا اور ان کے لئے مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی مقرر فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب تسمیۃ من سمی من اھل بدر فی الجامع، ج 5، ص 227، مطبوعہ دار التاصیل، قاھرہ)
اس کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: و اما عثمان بن عفان ۔ ۔ فانه لم يشهد بدرا،لتخلفه على تمريض زوجته رقية و كانت عليلة و لكن لما ضرب له رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم بسهمه و اجره عد فی البدريين لذلك، فلذلك ذكره البخاري مع ابی بكر و عمر و علی رضی اللہ تعالى عنهم‘‘ ترجمہ: اور بہرحال حضرتِ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ، تو یہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے، کیونکہ یہ اپنی زوجہ حضرتِ رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تیمارداری کے لئے پیچھے رہ گئے تھے، وہ بیمار تھیں، لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا حصہ اور اجر (اصحابِ بدر جیسا) بیان فرمادیا، تو اس وجہ سے انہیں بدری اصحاب میں شامل کیا گیا۔ اسی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے (بدری اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے) انہیں حضرت ابو بکر، حضرتِ عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری، ج 17، ص 121، 122، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
جو شخص امیر کی اطاعت کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے،تو وہ ایسے ہی ہے،جیسے جنگ میں شریک ہوا ہو۔ چنانچہ شرح معانی الآثار میں ہے: ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قد ضرب لعثمان فی غنائم بدر بسهم و لم يحضرها، لانه كان غائبا فی حاجة اللہ و حاجة رسوله،فجعله رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، كمن حضرها، فكذلك كل من غاب عن وقعة المسلمين باهل الحرب بشغل يشغله به الامام من امور المسلمين، مثل ان يبعثه الى جانب آخر من دار الحرب، لقتال قوم آخرين، فيصيب الامام غنيمة بعد مفارقة ذلك الرجل اياه ۔ ۔ ۔ فهو شريك فيها و هو كمن حضرها وكذلك من اراده فرده الامام عنها و شغله بشیء من امور المسلمين، فهو كمن حضرها و على هذا الوجه عندنا و اللہ اعلم اسهم النبی صلى اللہ عليه و سلم لعثمان بن عفان فی غنائم بدر و لو لا ذلك لما اسهم له، كما لم يسهم لغيره ممن غاب عنها، لان غنائم بدر و كانت وجبت لمن حضرها، دون من غاب عنها
ترجمہ: بے شک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے بدر کی غنیمتوں میں حصہ مقرر فرمایا، حالانکہ وہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، کیونکہ وہ اللہ پاک اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کی وجہ سے شریک نہ ہوئے تھے۔پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس شخص کی طرح قرار دیاجو بدر میں شریک ہوا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو اہلِ حرب کے خلاف مسلمانوں کے جہاد سے اس وجہ سے غائب ہو کہ جنگ کا امام اسے مسلمانوں کے امور میں سے کسی کام کے لئے بھیجے،مثلاً اسے دار الحرب کی دوسری جانب کسی دوسری قوم سے جہاد کرنے کے لئے بھیج دے اور امام اس شخص کے جانے کے بعد مالِ غنیمت حاصل کر لے، تو وہ غائب بھی اس میں شریک ہوگا اور وہ ایسے ہی ہے،جیسے اِس جنگ میں شریک ہوا ہو اور اسی طرح جس نے جنگ کا ارادہ کیا، لیکن امام نے اسے واپس بھیج دیا اور وہ مسلمانوں کے امور میں سے کسی معاملہ میں مصروف رہا، تو وہ بھی اس شخص کی طرح ہے،جو جنگ میں شریک ہوا ہو۔ ہمارے نزدیک اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بدر کی غنیمتوں میں سے حصہ دیا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا،تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں حصہ نہ دیتے، جیسا کہ ان کے علاوہ کسی ایسے کو حصہ نہیں دیا جو جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، کیونکہ بدر کی غنیمتیں اس شخص کے لئے تھیں، جو اس میں حاضر ہوا، نہ کہ غائب شخص کے لئے۔ (شرح معانی الآثار، ج 3، ص 244، مطبوعہ عالم الکتب)
فائدہ: پھر حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا جنگِ بدر میں شریک نہ ہونے والا معاملہ بالکل حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے والے معاملے کی طرح ہے، یعنی جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اہلِ بیت کی حفاظت کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تھا اور وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے، یونہی حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرتِ رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تیماداری کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا، جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ پس جب حضرتِ علی رضی اللہ تعالی عنہ پر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا، تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضرتِ مصعب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم خرج الى تبوك و استخلف عليا،فقال: اتخلفنی فی الصبيان و النساء؟ قال: الا ترضى ان تكون منی بمنزلة هارون من موسى، الا انه ليس نبی بعدی‘‘ ترجمہ: بے شک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غزوہ تبوک کی طرف تشریف لے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین مقرر فرما دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو، جو حضرت ہارون کو حضرتِ موسی علیہما الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک، ج 5، ص 451، مطبوعہ دار التاصیل، قاھرہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: PIN-7008
تاریخ اجراء: 29 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 29 جولائی 2022ء