حضرت عزرائیل علیہ السلام کے نام کا ثبوت
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضرت عزرائیل علیہ السلام کا نام کہاں سے ثابت ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ملک الموت فرشتے کا نام ’’عزرائیل علیہ السلام‘‘ ہونا اگرچہ قرآنِ کریم یا کسی حدیثِ مبارک میں مذکور نہیں لیکن بعض آثار میں اس نام کی صراحت ملتی ہے۔ نیز متعدد مفسرین و محدثین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں ملک الموت فرشتے کا نام ’’عزرائیل‘‘ ذکر کیا ہے۔ جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق بھی ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے اور یہی معروف ومشہور ہے، لہذا ’’عزرائیل‘‘ نام ہونا اصلاً بے بنیاد نہیں۔ نیز یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کیلئے قرآن و حدیث سے قطعی و صریح ثبوت درکار ہو،بلکہ معتبر و مستند اہل علم کا اس کو ذکر کردینا کافی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس کے باوجود اس نام کو تسلیم نہ کرے تو اُسے بدعقیدہ یا گمراہ قرار نہیں دیا جائے گا کہ یہ کوئی عقیدے کا مسئلہ نہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے: ﴿قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ: تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف واپس کئے جاؤ گے۔ (پارہ 21، سورۃ السجدۃ: 11)
اس آیت کی تفسیر میں امام ابو الليث نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ (متوفى 373ھ) ’’تفسیر سمرقندی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’﴿قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ﴾ یعنی: يقبض أرواحكم ﴿ملک الموت﴾ و اسمه عزرائيل‘‘ ترجمہ: تم فرماؤ: تمہیں وفات دیتا ہےیعنی تمہاری روحیں قبض کرتا ہے، موت کا فرشتہ اور اس کا نام عزرائیل ہے۔ (تفسير السمرقندي، تحت سورۃ السجدۃ، الایۃ 11، جلد 3، صفحہ 29، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام محمد بن احمدقرطبی رحمۃاللہ علیہ (متوفى 671ھ)’’تفسیر قرطبی‘‘میں لکھتے ہیں: ’’﴿ملک الموت﴾ و اسمه عزرائيل و معناه عبد اللہ، كما تقدم في ”البقرة“‘‘ ترجمہ: موت کا فرشتہ، اور اس کا نام عزرائیل ہے اور اس کا معنی اللہ کا بندہ ہے جیسا کہ سورہ بقرہ میں گزرا۔ (الجامع لأحكام القرآن، جلد 17، صفحہ 18، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
امام عبد اللہ بن محمد بن جعفر بن حیان اصفہانی المعروف ابو الشیخ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 369ھ) اپنی کتاب ’’العظمة لابي الشيخ الاصبهاني‘‘ میں حضرت اشعث بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرماتے ہیں: ’’عن أشعث، قال: "سأل إبراهيم (صلى اللہ على نبينا و عليه و سلم تسليما) ملك الموت عليه السلام و اسمه عزرائيل‘‘ ترجمہ: حضرت اشعث رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مَلکُ الموت سے سوال کیا اور ان (ملک الموت) کا نام عزرائیل ہے۔ (العظمة لأبي الشيخ، صفة ملك الموت عليه السلام وعظم خلقه و قوته، جلد 3، صفحہ 908، دارالعاصمۃ، الرياض)
امام اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ سے کئی مفسرین و محدثین نے بھی اس کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔چنانچہ امام عبد القاهر بن عبد الرحمن جرجانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 471ھ) نے ’’درج الدرر فی تفسیر الآی و السور‘‘ میں، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 505ھ) نے ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں، امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 852ھ) نے ’’الامتاع بالاربعين المتباينة بشرط السماع‘‘ میں، امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 911ھ) نے ’’الدر المنثور في التفسير بالمأثور‘‘، ’’شرح الصدور بشرح حال الموتى و القبور‘‘، ’’الحبائك في اخبار الملائك‘‘ میں، امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1225ھ) نے’’ تفسير مظہری‘‘ میں اس کو نقل کیا ہے۔
قرآن و حدیث میں عزرائیل نام کے صراحۃً ذکر نہ ہونے کے بارے میں امام اسماعيل بن عمر بن كثير رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 774ھ) ’’البدایہ و النہایہ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’و أما ملک الموت، فليس بمصرّح باسمه في القرآن و لا في الأحاديث الصّحاح، و قد جاء تسميته في بعض الآثار بعزرائيل و اللہ أعلم‘‘ ترجمہ: بہرحال ملك الموت،توان كے نام کی صراحت قرآن اور صحیح احادیث میں نہیں، البتہ ان (ملک الموت) کا نام بعض آثار میں عزرائیل کے نام سے آیا ہے اور اللہ زیادہ جاننے والے والا ہے۔ (البداية والنهاية، باب ذكر خلق الملائكة و صفاتهم عليهم السلام، جلد 1، صفحہ 47، مكتبة المعارف، بيروت)
جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے، چنانچہ امام شہاب الدين سيد محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1270ھ) ’’تفسیر روح المعانی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’و الذي ذهب إليه الجمهور أن ملك الموت لمن يعقل و ما لا يعقل من الحيوان واحد و هو عزرائيل و معناه عبد اللہ‘‘ ترجمہ: اور جمہور کا مؤقف یہ ہے کہ موت کا فرشتہ حیوانوں میں سے عقل مندوں اور غیر عقلمندوں کے لیے ایک ہی ہے،اور وہ عزرائیل ہے اور ا س کا معنی اللہ کا بندہ ہے۔ (تفسیرروح المعاني، تحت سورة السجدة، الایۃ 11، جلد 11، صفحہ 124، دار الكتب العلمية، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7305
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ / 15 اگست 2026ء