حضرت عثمان غنی پر کنبہ پروری والے اعتراض کی حقیقت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیت المال سے اپنے رشتہ داروں کو مال دیتے تھے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالہ سے مشہور ہے کہ آپ کنبہ پرور تھے، بیت المال سے اپنے رشتہ داروں کو مال دیا کرتے تھے، اپنے رضاعی بھائی کو بہت زیادہ نوازا۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب
یہ بات بالکل غلط ہے کہ ’’حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کنبہ پرور تھے اور بیت المال سے اپنے رشتہ داروں کو مال دیا کرتے تھے‘‘ کیونکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ بیت المال سے نہیں، بلکہ اپنے ذاتی مال سے رشتہ داروں سمیت دیگر افراد پر بھی خرچ کرتے تھے۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ اللہ پاک نے حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت مال دیا ہوا تھا، آپ بہت بڑے تاجر تھے، آپ کی تجارت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی، اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے آپ اس کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے تھے، اسلام اور مسلمانوں کو جب بھی مالی معاونت کی ضرورت پیش آئی، آپ نے اس وقت اپنا مال ضرور پیش کیا۔ چنانچہ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے لشکر اسلام کی مدد کے لئے ایک ہزار اونٹ مع ساز و سامان پیش کئے، جس پر آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہوئی، 35 ہزار دراہم کے بدلے میں بئرِ رومہ خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا، مسجد نبوی کی توسیع کے لئے بہت زیادہ مال پیش کیا، ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے، آپ کی طرف سے لوگوں میں بہترین راشن اور کپڑے تقسیم کئے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک لقب ’’غنی‘‘ یعنی سخاوت والے بھی ہے اور آپ کی یہ سخاوت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرتِ ابوبکر اور حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے مبارک دور میں بھی تھی، اسی طرح آپ کے خلیفہ بننے کے بعد بھی جاری رہی۔ آپ نہ صرف اپنے رشتہ داروں، بلکہ مہاجرین و انصار اور دیگر افراد پر بھی خرچ کیا کرتے تھے اور یہ تمام خرچ پہلے کی طرح خلیفہ بننے کے بعد بھی ذاتی مال ہی سے ہوتا تھا۔ لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر کنبہ پروری اور بیت المال سے اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے والا اعتراض کرنا درست نہیں۔ بلکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بھی جب آپ پر یہ اعتراض ہوا، تو آپ نے خود بھی یہی جواب ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ کی قسم! میں یہ خرچ اپنے ذاتی مال سے کرتا ہوں، کیونکہ اللہ پاک نے مجھے بہت مال دیا ہوا ہے اور میں مسلمانوں کے مال (بیت المال) سے اپنے لئے یا کسی اور کے لئے رقم لینا حلال نہیں سمجھتا۔‘‘
اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و شان سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ آمین
غزوہ تبوک کے موقع پر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا مال پیش کیا، تو آپ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں، ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ 3، سورۃ البقرہ، آیت 262)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ’’یہ آیت حضرت عثمان غنی اور حضرت عبد الرحمن بن عو ف رضی اللہ تعالی عنہما کے حق میں نازل ہوئی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ بمع ساز و سامان کے پیش کئے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے طور پر بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے، ان میں سے آدھے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ر کھ لیے اور آدھے راہ خدا میں پیش کر دیے ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تم نے دیے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالی دونوں میں برکت پیدا فرمائے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، ج 1، ص 396، 397، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے مختلف مواقع پر اسلام و مسلمین کی مالی معاونت کی ۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے: ’’قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من یحفر بئر رومۃ فلہ الجنۃ فحفرھا عثمان وقال: من جھز جیش العسرۃ فلہ الجنۃ فجھزہ عثمان‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بئرِ رومہ کھودے گا، اس کے لئے جنت ہے، تو حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے کھودا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جیش العسرۃ میں سامان مہیا کرے گا، اس کے لئے جنت ہے، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے سامان مہیا کیا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب مناقبِ عثمان، ج 5، ص 32، مطبوعہ دار التاصٰل، القاھرہ)
اس کے علاوہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی سخاوت کے واقعات کتبِ احادیث میں ’’مناقبِ عثمان رضی اللہ عنہ‘‘کے تحت ، نیز آپ کی سیرت پر لکھی گئی مختلف کتب میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ تمام خرچ ذاتی مال سے کرتے تھے ۔ چنانچہ تاریخ طبری میں ہے: ’’انی احب اهل بيتی واعطيهم فاما حبی فانه لم يحمل معهم على جور، بل احمل الحقوق عليهم واما اعطاؤهم فانی ما اعطيهم من مالی ولا استحل اموال المسلمين لنفسی ولا لاحد من الناس ولقد كنت اعطی العطية الكبيرة الرغيبة من صلب مالی ازمان رسول اللہ وابی بكر وعمر رضی اللہ عنهما‘‘ ترجمہ: (لوگ کہتے ہیں کہ) میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں عطیات دیتا ہوں۔ بہر حال میری گھر والوں کے ساتھ محبت مجھے کسی ظلم پر نہیں ابھار سکتی، بلکہ میں ان کے حقوق ادا کرتا ہوں اور بہرحال جو ان کو عطیات دیے، تو وہ اپنے ذاتی مال سے دیے، میں مسلمانوں کے مال کو اپنے اور لوگوں میں سے کسی اور کے لئے حلال نہیں سمجھتا، تحقیق میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرتِ ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے دور میں بھی خالص اپنے مال سے پسندیدہ چیزوں کے بہت بڑے بڑے عطیات دیے ہیں۔ (تاریخ طبری، ج 4، ص 347، 348، مطبوعہ دارالمعارف، مصر)
مزید اسی میں ہے: ’’واللہ ما آكله من مال المسلمين ولكنی آكله من مالی، انت تعلم انی كنت اكثر قريش مالا واجدهم فی التجارة ولم ازل آكل من الطعام ما لان منه وقد بلغت سنا فاحب الطعام الی الينه ولا اعلم لاحد علی فی ذلك تبعة‘‘ ترجمہ: اللہ کی قسم! میں مسلمانوں کا مال نہیں کھاتا، لیکن میں اپنا مال استعمال کرتا ہوں، تم جانتے ہو کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار تھا اور مجھے تجارت میں زیادہ دسترس تھی اور میں ہمیشہ سے عمدہ خوراک کھانے کا عادی ہوں، اب میں بوڑھا ہوچکا، تو زیادہ عمدہ کھانا پسند کرتا ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ اس معاملہ میں کوئی میرے جیسا ہو۔ (تاریخ طبری، ج 4، ص 401، مطبوعہ دارالمعارف، مصر)
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سوال میں ذکر کردہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’انفاق کثیر را از بیت المال قرار دادن ومحل طعن گرفتن افتراء محض وبہتان صریح ست مالداری و ثروت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ قبل از خلافت خصوصا در آخر خلافت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہ فتوح بسیار از ہر طرف میرسید و قسمت میشد تمام صحابہ صاحبان ثروت و دولت شدہ بود ند چنانچہ بعضے فقراء مہاجرین را کہ در زمان آنسر ور بنان شبینہ محتاج بود ند ہشتاد ہشتاد درم زکوٰۃ مے بر آمد وحضرت امیر را نیز وسعت و فراخی تمام بود وعمارات و باغات ومزارع ہر ہمہ پیدا کردہ بود ند وآن چیزے است کہ نتوان پوشید عثمان چون از سابق ہم غنی بود و تجارت او عمدہ در ینوقت خیلی مالدار شدہ بود و این خرچ و بذل او محض بر قبیلہ خودش نبود بلکہ در راہ خدا واعتاق بردہا و دیگر وجوہِ خیرات و میراث صرف میکرد چنانچہ ہر جمعہ یک بردہ آزاد مے کردو ہر روز ہمہ مہاجرین و انصار راضیافت می نمود وطعامہائے تکلف بہئیت مجموعی مے خورانیدچنانچہ حسن بصری گفتہ است کہ ’’شھدت منادی عثمان ینادی: یایھا الناس! اغدوا علی اعطیاتکم فیغدون فیاخذونھا وافرۃ، یایھا الناس! اغدو علی ارزاقکم فیغدون فیاخذونھا وافیۃ حتی واللہ لقد سمعت اذنای یقول علی کسوتکم فیاخذون الحلل واغدوا علی السمن والعسل وقال الحسن وارزاق دارۃ وخیر کثیر رواہ ابو عمر فی الاستیعاب‘‘ ۔۔۔ لکن این ھمہ انفاقات را از بیت المال فہمیدن محض تعصب و عناد ست وخود عثمان را چون ازین بابت پرسید نددرجواب گفت کہ مال من پیش از خلافت معلوم دارید و بذل وانفاق من نیز میدانید پس این شبہات بیجا ومظنہای دور از عدالت و تقوی‘‘
ترجمہ: ایسے کثیر خرچوں کو بیت المال سے قرار دینا اور محل طعن ٹھہرانا محض افتراء اور صریح بہتان ہے، مالداری و آسودگی حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے پہلے بھی تھی، خصوصاً حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے آخر میں، کہ ہر طرف سے فتوحات بے شمار آتی تھیں اور بٹتی تھیں، تمام صحابہ بڑی دولت و ثروت والے ہو گئے تھے۔ چنانچہ بعض فقرائے مہاجرین جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رات کی روٹی کے محتاج تھے، اسّی اسّی درہم زکوٰۃ کے نکالتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی مکمل طور پر مالدار ہو چکے تھے اور انہوں نے عمارتیں باغات اور کھیتیاں بھی پیدا کر لی تھیں، یہ وہ چیز ہے، جو پوشیدہ نہیں، حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ تو پہلے سے بھی مالدار تھے، تجارت ان کی عمدہ تھی، اس وقت اور بھی مالدار ہو گئے، ان کا یہ خرچ کرنا اپنے ہی کنبہ پر نہیں تھا، بلکہ غلام آزاد کرنے اور دیگر نیک کاموں میں بھی خرچ کرتے تھے۔ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے اور ہر روز مہاجرین اور انصار کو پُرتکلف کھانے کھلاتے۔ چنانچہ حضرتِ حسنِ بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا منادی یوں آواز لگاتا تھا: اے لوگو! صبح عطیات لے جاؤ، پس لوگ صبح آتے اور بہت زیادہ عطیات لے جاتے۔ منادی کہتا: صبح آ کر خوراک لے جاؤ، پس لوگ صبح آتے اور کافی مقدار میں خوراک لے جاتے، یہاں تک کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، منادی کہتا تھا: کپڑے لے جاؤ، پس لوگ آ کر حلّے لے جاتے اور کہتا: گھی اور شہد لے جاؤ۔ اور حسنِ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں خوراک اور خیرِ کثیر کا سلسلہ جاری تھا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ان خرچوں کو بیت المال سے جاننا خاص تعصب و بغض ہے۔ خود حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا: تم کو معلوم ہے کہ خلافت سے پہلے بھی میں اس طرح خرچ کرتا رہا ہوں، تو ایسے بے جا شبہات اور بد گمانیاں مجھ پر کیوں کرتے ہو، جو عدالت و تقوی سے بہت دور ہیں۔ (تحفہ اثنا عشریہ فارسی، ص 626 تا 627 ملتقطاً، مطبوعہ مکتبۃ الحقیقہ، ترکی)
اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے رضاعی بھائی عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کو بہت زیادہ نواز ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ بن سعد کو مالِ غنیمت میں سے جو مال دیا تھا، تو وہ رشتہ داری کی وجہ سے نہیں تھا اور بلا وجہ بھی نہیں تھا، کیونکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ بن سعد کو افریقہ فتح کرنے کے لئے بھیجا اور ان کے لئے انعام کا اعلان کیا کہ اگر تم نے افریقہ فتح کر لیا، تو تمہیں مالِ غنیمت کے پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ بطورِ انعام ملے گا اور بادشاہ کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی مجاہد کے لئے بطورِ انعام کچھ حصہ مقرر کردے۔ پس جب عبد اللہ بن سعد نے افریقہ جیسی عظیم مملکت کو فتح کر لیا، ہزاروں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، مسلمانوں کو بہت زیادہ مالِ غنیمت حاصل ہوا، تو اتنی عظیم الشان کامیابی کے بعد انہوں نے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے مقرر کردہ اپنا انعام مالِ غنیمت میں سے وصول کیا، اگر بالفرض ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا، تو اسے بھی بطورِ انعام یہ مال ضرور ملتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے رضاعی بھائی کو مالِ غنیمت میں سے جو دیا تھا، تو وہ رشتہ داری کی وجہ سے نہیں دیا اور بلا وجہ بھی نہیں دیا، لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر اپنے رضاعی بھائی کو نوازنے والا اعتراض کرنا بھی درست نہیں۔ اور پھر عبداللہ بن سعد نے تو یہ مال اپنے پاس رکھا بھی نہیں، بلکہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم پر سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا تھا۔
تاریخ طبری میں یہ مکمل واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے : ’’قال لعبد اللہ بن سعد: ان فتح اللہ عز وجل عليك غدا افريقية، فلك مما افاء اللہ على المسلمين خمس الخمس من الغنيمة نفلا۔۔۔وفتح افريقية سهلها وجبلها، ثم اجتمعوا على الاسلام وحسنت طاعتهم وقسم عبد اللہ ما افاء اللہ عليهم على الجند واخذ خمس الخمس وبعث باربعة اخماسه الى عثمان۔۔۔فشكوا عبد الله فيما اخذ، فقال لهم: انا نفلته۔۔۔وقد امرت له بذلك وذاك اليكم الآن، فان رضيتم فقد جاز وان سخطتم فهو رد قالوا: فانا نسخطه قال: فهو رد، وكتب الى عبد اللہ برد ذلك واستصلاحهم، قالوا: فاعزله عنا۔۔۔ فكتب اليه ان استخلف على افريقية رجلا ممن ترضى ويرضون واقسم الخمس الذی كنت نفلتك فی سبيل اللہ، فانهم قد سخطوا النفل، ففعل ورجع عبد اللہ بن سعد الى مصر وقد فتح افريقية ‘‘
حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ بن سعد سے فرمایا: اگر اللہ پاک تمہیں کسی وقت افریقہ کی فتح عطا فرمائے، تو وہاں سے جو مال اللہ پاک بطورِ غنیمت عطا فرمائے گا، اس کے پانچویں حصہ میں سے پانچواں حصہ تمہیں بطورِ انعام ملے گا، عبد اللہ بن سعد نے افریقہ کے آسان اور مشکل مقامات کو فتح کر لیا، اس کے باشندوں نے اسلام قبول کیا اور خوب قبول کیا۔ عبد اللہ بن سعد نے حاصل کردہ مالِ غنیمت لشکرِ اسلام پر تقسیم کر دیا اور پانچویں حصہ میں سے ایک حصہ اپنے لئے رکھ لیا اور چار حصے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھیج دئے۔ پس کچھ لوگوں نے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے عبد اللہ کے کچھ حصہ لینے کی شکایت کی، تو آپ نے ان سے فرمایا: میں نے بطور ِ انعام ان کو یہ حصہ دیا ہے اور میں نے ہی انہیں اس کا حکم دیا تھا، اب یہ معاملہ تمہارے اختیار میں ہے، اگر تم راضی ہو، تو ٹھیک ہے، اگر راضی نہیں، تو اسے واپس لے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ہم راضی نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ واپس لے لیا جائے گا۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ کو وہ حصہ واپس کرنے اور لوگوں کی خیرخواہی چاہنے کے بارے میں لکھا۔ لوگوں نے کہا: آپ اسے معزول کر دیں۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ کی طرف لکھا کہ افریقہ میں کسی ایسے شخص کو جانشین مقرر کر دو، جس پر تم بھی راضی اور وہ بھی راضی ہوں اور پانچواں حصہ جو تم نے بطورِ انعام رکھا ہے، اسے اللہ کی راہ میں تقسیم کر دو۔ پس عبد اللہ نے ایسا ہی کیا اور مصر لوٹ آئے، حالانکہ افریقہ کو انہوں نے ہی فتح کیا تھا۔ (تاریخ طبری، ج 4، ص 252، 253، مطبوعہ دارالمعارف، مصر)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: PIN-7014
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1444ھ/06 اگست 2022ء