حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیوں کیا گیا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی وجہ کیا بنی؟ اس بارے میں مختلف باتیں مشہور ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں؟
جواب
جواب جاننے سے قبل یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک دور میں ارشاد فرما دی تھی اور فرمایا کہ انہیں ناحق شہید کیا جائے گا، نیز آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ کے دور میں پیدا ہونے والے بعض فتنوں سے بھی آگاہ کر دیا تھا، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
( ١ ) حضرتِ انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، وہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ان النبی صلى اللہ عليه وسلم صعد اُحدا وابو بكر وعمر وعثمان، فرجف بهم، فقال:اثبت احد! فانما عليك نبی وصديق وشهيدان‘‘ ترجمہ: بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد پہاڑ پر تشریف لے گئے، حضرتِ ابو بکر، حضرتِ عمر اور حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہم بھی ساتھ تھے، پس پہاڑ جنبش کرنے لگا، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اُحد! ٹھہر جا، اس وقت تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، ج 5، ص 21، مطبوعہ دار التاصیل، قاھرہ)
اس حدیث پاک میں نبی سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صدیق سے مراد حضرتِ ابو بکر صدیق اور دو شہیدوں سے مراد حضرتِ عمر اور حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم ہیں۔ (عامہ کتب)
( ٢ ) حضرتِ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’ذكر رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فتنة، فمر رجل، فقال: يقتل هذا المقنّع يومئذ مظلوما، قال: فنظرت فاذا هو عثمان بن عفان‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا، پس ایک شخص گزرا، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن اس نقاب پوش کو ناحق شہید کیا جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے دیکھا، تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔ (فضائل صحابہ لاحمد بن حنبل، ج 1، ص 451، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)
( ٣ ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی وہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’يا عثمان! انه لعل اللہ يقمصك قميصا، فان ارادوك على خلعه، فلا تخلعه لهم‘‘ ترجمہ: اے عثمان! یقینا اللہ پاک تجھے ایک قمیص پہنائے گا، اگر لوگ اسے اتارنے کا مطالبہ کریں، تو اسے لوگوں کے لئے مت اتارنا۔ (سنن ِ ترمذی، باب مناقبِ عثمان، ج 6، ص 279، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ)
’’قمیصاً‘‘ کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ای خلافة والمراد خلعة الخلافة (فان ارادوك) ای: حملوك (على خلعه) ای: نزعه (فلا تخلعه لهم) وفی رواية: فلا تخلعه ثلاثا، والمعنى ان قصدوا عزلك فلا تعزل نفسك عن الخلافة لاجلهم لكونك على الحق وكونهم على الباطل وفی قبول الخلع ايهام وتهمة، فلهذا الحديث كان عثمان رضی اللہ عنه ما عزل نفسه حين حاصروه يوم الدار‘‘
ترجمہ: یعنی اللہ پاک تمہیں خلافت عطا فرمائے گا اور مراد خلافت کی خلعت ہے۔ پس اگر لوگ تمہیں اسے اتارنے پر ابھاریں، تو ان کے لئے اسے نہ اتارنا۔ ایک روایت میں ہے کہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اسے مت اتارنا اور معنی یہ ہے کہ اگر وہ تمہیں خلافت سے معزول کرنے کا ارادہ کریں، تو اپنے آپ کو خلافت سے معزول نہ کرنا، کیونکہ تم حق پر اور وہ باطل پر ہوں گے اور اسے اتارنے میں یہ معنیٰ و مفہوم اور تہمت بھی ہے (کہ تم حق پر نہیں ہو۔) پس اسی حدیث کی وجہ سے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آپ کو خلافت سے معزول نہیں کیا جب دار کے دن باغیوں نے آپ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 9، ص 3924، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اب رہی یہ بات کہ حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی وجہ کیا بنی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی شہادت کا بنیادی سبب عبد اللہ بن سبا اور اس کی طرف سے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے گورنروں کے خلاف لکھوائے گئے جعلی خطوط تھے، اسی کی چلائی ہوئی تحریک کے نتیجے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا گیا تھا۔
تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں عبد اللہ بن سبا نامی شخص یہودی مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوا، کتبِ سابقہ کا بہت بڑا عالم تھا، بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود اپنی مجالس میں خلیفہ وقت حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بُرا بھلا کہنے اور مدینہ میں فساد برپا کرنے لگا، جس کی وجہ سے آپ نے اسے مدینہ سے باہر بھیج دیا، یہ مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا مصر آگیا، سابقہ کتب کا عالم ہونے کی وجہ سے لوگ اسے سننے آتے تھے، جب اس نے سمجھا کہ اب لوگ میری باتیں قبول کرنا شروع ہو چکے ہیں، تو اس نے خلیفہ وقت حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف اپنی تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا اور کہنے لگا کہ اس وقت صرف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کے حقدار ہیں، حضرتِ عثمان کاآپ کی خلافت پر قبضہ، غاصبانہ ہے، لہذا ہم پر لازم ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والے حکم) پر عمل کرتے ہوئے حضرت عثمان کو اس منصب سے ہٹا دیں۔
اپنی تحریک کو پروان چڑھانے کے لئے اس نے حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے گورنروں کے بارے میں ظلم و ستم کی فرضی داستانیں لکھوا کر مختلف علاقوں میں پھیلا دیں اور یہ خطوط اتنے زیادہ پھیل گئے کہ ہر علاقہ والے یہی سمجھنے لگے کہ لوگ حضرتِ عثمان کے گورنروں کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے ہیں، حتی کہ سبائیوں نے مدینہ منورہ میں مقیم جلیل القدر صحابہ کی طرف منسوب من گھڑت خط لکھ کر بھی لوگوں کی طرف روانہ کرنا شروع کر دئیے، جن کا مضمون تھا کہ اے لوگو! حضرتِ عثمان کے خلاف اکٹھے ہو جاؤ اور دین کی مدد کرو، آج یہی جہادِ اکبر ہے۔ اس سے ان کا مقصد لوگوں کو یہ باور کروانا تھا کہ بڑے بڑے صحابہ بھی حضرت عثمان کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ جب یہ تحریک مصر، بصرہ اور کوفہ میں زور پکڑ گئی، تو سب اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اکٹھے ہو کر مدینہ منورہ کی طرف آئے، اولاً ان کی طرف سے یہ مطالبہ ہوا کہ مصر کے گورنر (عبد اللہ بن ابی سرح) کو تبدیل کیا جائے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے تبدیل کر دیا، جس کی وجہ سے یہ یہاں سے روانہ ہو گئے، لیکن دوبارہ واپس آ کر مدینہ شریف میں حالات کشیدہ کر دئیے اور کہنے لگے کہ ہم واپس جا رہے تھے، لیکن راستے میں ہم نے قاصد کے ہاتھ سے ایک خط پکڑا ہے، جس میں حضرتِ عثمان کی طرف سے مصر کے گورنر کو ہمارے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ دیگر اصحاب کے ساتھ وہ خط لے کر حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے قسم اٹھا کر کہا: میں نے یہ خط نہیں لکھا، نہ ہی اس کا حکم دیا ہے، نہ ہی اس غلام کو مصر روانہ کیا اور نہ ہی مجھے اس کا کوئی علم ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر یہ خط مروان کا ہے، مروان نے بھی اپنا خط نہ ہونے پر قسم کھا لی۔ یہاں کئی مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب مصریوں نے دوبارہ مدینہ آ کر خط والی بات بیان کی، تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ان سے کہا کہ تم نے ایک سازش کے تحت یہ ساری کہانی گھڑی ہے، اس پر انہوں نے اپنا مذموم مقصد واضح بھی کر دیا کہ ہمارا مقصد حضرت عثمان کو خلافت سے معزول کرنا ہے۔ لیکن حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث ’’اے عثمان! لوگ تجھ سے خلافت چھوڑنے کا مطالبہ کریں، تو اسے ہر گز نہ چھوڑنا‘‘ پر عمل کرتے ہوئے خلافت چھوڑنے سے انکار کر دیا، تو ان باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور کئی دن تک محاصرہ کرنے کے بعد بالآخر آپ کو ناحق اور ظلماً شہید کر دیا۔ یوں حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا بنیادی سبب یہ سبائی فتنہ ہی بنا۔
سبائی فتنہ کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس بارے میں تاریخ کی مشہور و معروف کتاب الکامل فی التاریخ میں ہے
’’ان عبد اللہ بن سبا كان يهوديا واسلم ايام عثمان، ثم تنقل فی الحجاز، ثم بالبصرة، ثم بالكوفة، ثم بالشام يريد اضلال الناس، فلم يقدر منهم على ذلك، فاخرجه اهل الشام، فاتى مصر، فاقام فيهم وقال لهم: العجب ممن يصدق ان عيسى يرجع ويكذب ان محمدا يرجع، فوضع لهم الرجعة، فقبلت منه، ثم قال لهم بعد ذلك: انه كان لكل نبی وصی وعلی وصی محمد، فمن اظلم ممن لم يجز وصية رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ووثب على وصيه وان عثمان اخذها بغير حق، فانهضوا فی هذا الامر وابتدءوا بالطعن على امرائكم واظهروا الامر بالمعروف والنهی عن المنكر تستميلوا به الناس وبث دعاته وكاتب من استفسد فی الامصار وكاتبوه ودعوا فی السر الى ما هو عليه رايهم وصاروا يكتبون الى الامصار بكتب يضعونها فی عيب ولاتهم ويكتب اهل كل مصر منهم الى مصر آخر بما يصنعون، حتى تناولوا بذلك المدينة واوسعوا بذلك الارض اذاعة، فيقول اهل كل مصر: انا لفی عافية مما ابتلی به هؤلاء، الا اهل المدينة، فانهم جاءهم ذلك عن جميع الامصار، فقالوا:انا لفی عافية مما فيه الناس، فاتوا عثمان، فقالوا: يا امير المؤمنين! اياتيك عن الناس الذی ياتينا؟ فقال: ما جاءنی الا السلامة وانتم شركائی وشهود المؤمنين، فاشيروا علی، قالوا: نشير عليك ان تبعث رجالا ممن تثق بهم الى الامصار حتى يرجعوا اليك باخبارهم، فدعا محمد بن مسلمة، فارسله الى الكوفة وارسل اسامة بن زيد الى البصرۃ وارسل عمار بن یاسر الی مصر وارسل عبد اللہ بن عمر الی الشام وفرق رجالا سواھم، فرجعوا جمیعا قبل عمار، فقالوا: ما انکرنا شیئا ایھا الناس! ولا انکرہ اعلام المسلمین ولا عوامّھم‘‘
ترجمہ: بے شک عبد اللہ بن سبا یہودی تھا اور حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں اسلام لایا، پھر حجاز میں چلا گیا، پھر بصرہ میں، پھر کوفہ میں، پھر شام میں، لوگوں کو گمراہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن وہ ان میں سے کسی کو گمراہ نہ کر سکا، اہلِ شام نے اسے نکال دیا، پس وہ مصر آیا اور مصریوں میں رہنے لگا اور مصریوں سے کہا: اس شخص پر تعجب ہے جو اس چیز کی تصدیق کرتا ہے کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ واپس آئیں گے اور اس چیز کو جھٹلاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائیں گے۔ پس اس نے مصریوں میں عقیدہ رجعت کی بنیاد رکھی اور اس کا یہ عقیدہ قبول کر لیا گیا۔ پھر اس نے اس کے بعد مصریوں سے کہا: بے شک ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں، پس اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا، جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو نافذ نہیں کیا اور آپ کے وصی کے خلاف تخت نشین ہو گیا اور بے شک حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے ناحق خلافت لے لی ہے، پس تم اس معاملہ کے لئے اٹھو اور اس کا آغاز اپنے حکام پر طعن کے ذریعہ کرو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ظاہر کرو، تاکہ تم اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کر سکو اور اس نے اپنے لوگوں کو (مختلف مقامات پر) بھیجا اور ان سے خط و کتابت کی اور وہ بھی اس سے خط و کتابت کرتے رہے اور وہ اپنی رائے کی خفیہ طور پر لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور مختلف شہروں کی طرف ان کے حکام کے عیبوں کے بار ے میں ایسے خط لکھتے جنہیں وہ اپنی طرف سے گھڑتے تھے اور ان کے ہر شہر میں موجود افراد دوسرے شہر کے افراد کو بھی اس کی خبر دیتے جو وہ کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس طرح مدینہ تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس کام کی نشر و اشاعت دنیا میں وسیع کر دی۔ پھر ہر شہر والے یوں کہنے لگے کہ بے شک ہم عافیت میں ہیں ان لوگوں کی بنسبت جس میں دوسرے شہر والے مبتلا ہیں، مگر اہلِ مدینہ، پس اہلِ مدینہ کے پاس اس قسم کی اطلاعات تمام شہروں سے آئیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم عافیت میں ہیں اس چیز سے جس میں تمام لوگ مبتلا ہیں اور وہ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! جو خبریں ہمارے پاس آئی ہیں، کیا وہ آپ کے پاس بھی آئی ہیں؟ فرمایا: میرے پاس تو سلامتی ہی کی خبریں آئی ہیں، تم میرے مدد گار ہو اور مؤمنین کے خیر خواہ ہو، تم مجھے اس بارے میں مشورہ دو۔ انہوں نے کہا: ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آپ قابلِ اعتباد لوگوں کو مختلف شہروں کی طرف بھیجیں، یہاں تک کہ وہ وہاں کی خبریں لے کر تمہارے پاس آ جائیں۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور نہیں کوفہ بھیجا اور حضرت اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو مصر، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو شام اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی بھیجا۔ پس یہ سب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ سے پہلے ہی واپس آگئے اور آ کر کہا: اے لوگو! ہم نے وہاں کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھی اور نہ ہی خاص و عام مسلمانوں کو کسی ناپسندیدہ چیز کا علم ہے۔ (الکامل فی التاریخ، ج 2، ص 526 تا 527، مطبوعہ دار الکتاب العربی بیروت)
سبائیوں کی طرف سے جلیل القدر صحابہ کی طرف منسوب من گھڑت خط بھی لکھے گئے۔ چنانچہ البدایہ والنہایہ میں ہے: ’’فكاتب اهل مصر واهل الكوفة واهل البصرة وتراسلوا وزورت كتب على لسان الصحابة الذين بالمدينة وعلى لسان علی وطلحة والزبير، يدعون الناس الى قتال عثمان ونصر الدين وانه اكبر الجهاد اليوم‘‘ ترجمہ: (سبائی تحریک کا حصہ بننے والے) اہلِ مصر، اہلِ کوفہ اور اہلِ بصرہ نے ایک دوسرے کو خط لکھ کر روانہ کیے اور ان خطوں کی جھوٹی نسبت مدینہ میں مقیم صحابہ اور حضرتِ علی، حضرت طلحہ اور حضرتِ زبیر رضی اللہ تعالی عنہم کی طرف کر دی کہ یہ صحابہ لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل اور دین کی مدد کی دعوت دیتے ہیں اور آج یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ (البدایہ والنہایہ، ج 7، ص 319، مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور مروان نے بھی قسم کھا کر اس خط سے براءت کا اظہار کیا، اس کے باوجود آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا گیا۔ چنانچہ تاریخ ابن خلدون میں ہے: ’’فانصرفوا قليلا، ثمّ رجعوا وقد لبّسوا بكتاب مدلّس يزعمون انّهم لقوۃ فی يد حامله الى عامل مصر بان يقتلهم وحلف عثمان على ذلك، فقالوا مكّنّا من مروان، فانّه كاتبك فحلف مروان، فقال ليس في الحكم اكثر من هذا فحاصروه بداره ثمّ بيّتوه على حين غفلة من النّاس وقتلوه وانفتح باب الفتنة‘‘
ترجمہ: پھر سبائی لوگ تھوڑے تھوڑ ے ہو کر لوٹ گئے، پھر واپس آ گئے اور (حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب) ایک جھوٹا خط بھی لے آئے، ان کا گمان تھا کہ یہ خط مصر کے گورنر کے نام لکھا ہوا ہے اور اس میں انہیں قتل کر دینے کا حکم تھا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ یہ خط میرا نہیں، پھر انہوں نے مطالبہ کیا کہ مروان کو ہمارے سپرد کر دو، یہ آپ کا کاتب ہے، اس پر مروان نے بھی قسم اٹھائی کہ میری تحریر نہیں، اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شرع کا حکم اس سے زیادہ نہیں (یعنی از روئے شرع منکر پر قسم ہی لازم ہوتی ہےاور وہ اٹھا لی گئی ہے، لہذا اب تسلی ہو جانی چاہئے، اس پر صحابہ کرام تو لوٹ گئے) لیکن باغیوں نے حضرت عثمان کے گھر کا گھیراؤ کر لیااور رات کے وقت لوگوں کی بے خبری کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا اور (ان سبائیوں کی وجہ سے ) فتنہ کا دروازہ کھل گیا۔ ( تاریخ ابن خلدون، جلد 1، صفحہ 269، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مصریوں کی قاصد کے خط والی بات کی صحابہ کرام نے تردید کی، تو انہوں نے اپنا مذموم مقصد واضح کر دیا۔ چنانچہ البدایہ و النہایہ میں ہے ’’قال علی لاهل مصر: ما ردكم بعد ذهابكم ورجوعكم عن رايكم؟ فقالوا: وجدنا مع بريد كتابا بقتلنا وكذلك قال البصريون لطلحة والكوفيون للزبيروقال اهل كل مصر: انما جئنا لننصر اصحابنا، فقال لهم الصحابة:كيف علمتم بذلك من اصحابكم وقد افترقتم وصار بينكم مراحل؟ انما هذا امر اتفقتم عليه، فقالوا: ضعوه على ما اردتم، لا حاجة لنا فی هذا الرجل ليعتزلنا ونحن نعتزله يعنون انه ان نزل عن الخلافة تركوه آمنا‘‘
ترجمہ: حضرتِ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اہلیانِ مصر سے کہا: تم واپس جانے اور اپنے ارادے تبدیل کر لینے کے بعد واپس کیوں آئے؟ انہوں نے کہا: ہم نے قاصد کے پاس اپنے قتل کے حوالہ سے ایک خط پایا ہے۔ اسی طرح اہلیانِ بصرہ نے حضرت طلحہ اور اہلیانِ کوفہ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا اور ہر شہر والوں نے یہی کہا کہ ہم اپنے بھائیوں کی مددکے لئے پہنچے ہیں، تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ان سے فرمایا: تمہیں اپنے اصحاب کی یہ خبر کیسے ہو گئی، حالانکہ تم ایک دوسرے سے جدا ہو چکے تھے، تمہارے درمیان کئی منزلوں کی مسافت تھی؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس کی تم نے سازش کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا: تم جو مرضی سمجھو، ہمیں اس شخص (حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ) سے کوئی سروکار نہیں، یہ ہم سے جدا ہو جائے اور ہم اس سے۔ ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ خلافت چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ (البدایہ والنہایہ، ج 7، ص 320، مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: PIN-7009
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1444ھ/02 اگست 2022ء