logo logo
AI Search

کیا قیامت میں سب سے پہلے حضور ﷺ قبر انور سے تشریف لائیں گے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا بروزِ حشر سب سے پہلے حضور علیہ الصلاۃ و السلام اپنی قبرِ انور سے باہر تشریف لائیں گے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایسا کہنا درست ہے کہ حشر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے پہلے اپنی قبر انور سے باہر تشریف لائیں گے، اور ساتھ میں شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کا ہاتھ مبارک ہو گا، اس کے بعد آپ علیہ الصلوۃ والسلام مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائیں گے وہاں جو دفن ہونگے ان کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم زندہ کر کے اپنے ساتھ میدان حشر میں تشریف لائیں گے، یعنی مقصد یہ ہے کہ کیا مُردوں کو اس دن آقا صلی اللہ علیہ و سلم زندہ کریں گے اللہ پاک کے حکم سے یا اللہ پاک خود زندگی عطا فرمائے گا؟

جواب

جی یہ کہنا درست ہے کہ حشر کے دن سب سے پہلے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اپنے روضہ مبارکہ سے اس طرح باہر تشریف لائیں گے کہ دائیں ہاتھ میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ، اور بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہو گا، پھر مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کےقبرستان میں جتنے مسلمان دفن ہیں، سب اپنی قبروں سے زندہ ہوں گے اور حضور علیہ الصلاۃو السلام ان سب کو لے کر میدان محشر میں تشریف لے جائیں گے؛ کہ یہ بات کئی احادیث سے ثابت ہے، البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں زندہ بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کریں گے، بلکہ قیامت کے دن سب مردے اللہ پاک کے حکم سے، حضرت اسرافیل علیہ السلام کے صور پھونکنے پر زندہ ہوں گے۔

چنانچہ سنن ترمذی میں ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أنا أول من تنشق عنه الأرض ثم أبو بكر ثم عمر، ثم آتي أهل البقيع فيحشرون معي، ثم أنتظر أهل مكة حتى أحشر بين الحرمين ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن)مَیں سب سے پہلا ہوں گا جس کے لیے زمین شق کی جائے گی، پھر ابوبکر، پھر عمر۔ اس کے بعد میں اہلِ بقیع کے پاس آؤں گا، چنانچہ وہ میرے ساتھ جمع کئے جائیں گے،پھر میں اہلِ مکہ کا انتظار کروں گا، یہاں تک کہ مجھے دونوں حرموں کے درمیان جمع کیا جائے گا۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث 3692، ص 1341، 1342، دار ابن کثیر)

سنن ترمذی میں ہی ہے: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم خرج ذات يوم و دخل المسجد و أبو بكر و عمر، أحدهما عن يمينه و الآخر عن شماله و هو آخذ بأيديهما، و قال: هكذا نبعث يوم القيامة ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لائے، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ساتھ تھے اس طرح کے ایک دائیں جانب تھے دوسرے بائیں جانب اور حضور علیہ الصلاۃو السلام نے دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور فرمایا: اسی انداز پہ قیامت کے دن ہمیں اٹھایا جائے گا۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث  3669، ص 1335، دار ابن کثیر)

اس حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: أي: نخرج من القبور إلى موضع النشور (يوم القيامة) ترجمہ: یعنی (اسی طرح) ہم قیامت کے دن قبروں سے اٹھ کر میدان محشر کی طرف جائیں گے۔ (مرقاة المفاتيح، ج 11، ص 213، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکھنے کا حکم دے گا، صور پھونکھتے ہی تمام اوّلین و آخرین، ملائکہ و اِنس و جن و حیوانات موجود ہو جائیں گے۔ سب سے پہلے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم قبر مبارک سے یوں برآمد ہونگے کہ دَہنے ہاتھ میں صدیقِ اکبر کا ہاتھ، بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم کا ہاتھ رضی اللہ تعالیٰ عنھما، پھر مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں، سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 1، ص 128، 129، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5228
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 31 جولائی 2026ء