logo logo
AI Search

کیا حضور ﷺ کو نور ماننے سے بشریت کی نفی ہوتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو نور ماننے سے آپ کی بشریت کی نفی ہوتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

حضورسرورِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم حقیقت کے اعتبار سے نورہیں، اور لباس بشریت میں (بے مثل بشری صورت میں) تشریف لائے۔ قرآنِ پاک کی آیات، اور احادیثِ مبارکہ سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔ نیز نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نور کہنے سے ہرگز ہرگز آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بشریت کی نفی نہیں ہوتی، اور نہ کوئی مسلمان نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے بشر ہونے کی نفی کرتے ہوئے آپ کو نور کہتا ہے، بلکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی بشریت کا انکار کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے ہی خارج ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو نور کہنے سے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی بشریت کی نفی ہونے کی بات اس لیے ذہن میں آتی ہے کہ بعض لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نور ہونے کا انکار کرتے ہوئے مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے ہیں کہ اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نور ہیں، تو نور اور بشر ایک ساتھ کس طرح جمع ہوسکتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نور اوربشر آپس میں ایک دوسرے کی ضد نہیں، کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہ ہوسکیں، بلکہ نور کی ضد اندھیرا ہے، کہ نور اندھیرے کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا، لہذاجب نور اور بشر ایک دوسرے کی ضد ہی نہیں، تو پھر نور اور بشر ایک ساتھ جمع بھی ہوسکتےہیں، بلکہ قرآن و حدیث میں تو اس طرح کے کئی واقعات موجود ہیں، جن میں نور اور بشر کا ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونا مذکور ہے، جیسا کہ فرشتے جو اللہ پاک کی نوری مخلوق ہیں، ان کا حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت داؤود، علی نبیناو علیہم الصلوۃ و السلام کے پاس بشری صورت میں حاضر ہونا۔ نوری فرشتوں کے سردار حضرت جبریل امین علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کا بشری صورت میں حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے پاس حاضر ہونا وغیرہ، تو جب قرآن و حدیث کی رو سے یہ بات ثابت ہے کہ نورو بشر ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں، اور نور اگر بشری صورت میں آئے، تو اس کی نورانیت کی نفی نہیں ہوتی، تو پھر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی بشریت کی وجہ سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نورانیت کی بھی نفی نہیں ہوگی، اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نورانیت کی وجہ سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بشریت کی نفی بھی نہیں ہوگی۔

دلائل بالترتیب درج ذیل ہیں:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہونا قرآن و تفاسیر سے۔

حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے نور ہونے کے متعلق اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ﴾ ترجمہ: بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیا اور روشن کتاب۔ (القرآن، سورة المائدہ، آیت 15)

مذکورہ بالا آیت کی تفسیرکے متعلق ایک قول یہ ہے کہ آیت میں نور سے مراد محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی ذات مبارک ہے، جیسا کہ تفسیرابن عباس، تفسیر کبیر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، تفسیر جلالین، تفسیر صاوی، تفسیر خازن، تفسیر نسفی، روح البیان، روح المعانی، تفسیر ابو سعود، زاد المسیر، تفسیربغوی، تفسیر قرطبی، تفسیر بیضاوی، تفسیر ثعالبی میں ہے، (و اللفظ للبغوی): قد جاءكم من الله نور، يعني: محمدا صلى اللہ عليه وسلم ترجمہ: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور یعنی محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم تشریف لائے۔ (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 32، مطبوعہ: بیروت)

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ﴾ ترجمہ: اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں۔ (پارہ 7، سورۃ الانعام، آیت 9)

تفسیرخازن میں ہے وَقَالُوْا يعني مشركي مكة لَوْلَا يعني هلا اُنْزِلَ عَلَيْهِ يعني على محمد مَلَكٌ يعني نراه عيانا وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ يعني لفرغ الأمر ولوجب العذاب و هذه سنة اللہ في الكفار أنهم متى اقترحوا آية ثم لم يؤمنوا استوجبوا العذاب و استؤصلوا به ثُمَّ لَا يُنْظَرُوْنَ يعني أنهم لا يمهلون و لا يؤخرون طرفة عين بل يعجل لهم العذاب وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا يعني و لو أرسلنا إليهم ملكا لجعلناه في صورة رجل و ذلك أن البشر لا يستطيعون أن ينظروا إلى الملائكة في صورهم التي خلقوا عليها ولو نظر إلى الملك ناظر لصعق عند رؤيته و لذلك كانت الملائكة تأتي الأنبياء في صورة الأنس كما جاء جبريل إلى النبي صلى اللہ عليه وسلم في صورة دحية الكلبي و كما جاء الملكان إلى داود عليه السلام في صورة رجلين و كذلك أتى الملائكة إلى إبراهيم و لوط عليهما السلام و لما رأى النبي صلى اللہ عليه و سلم جبريل في صورته التي خلق عليها صعق لذلك وغشي عليه۔ ۔ ۔ و معنى الآية وخالطنا عليهم ما يخلطون على أنفسهم حتى يشكوا فلا يدروا أملك هو أم آدمي وقيل في معنى الآية إنا لو جعلنا الملك في صورة البشر لظنوه بشرا فتعود المسألة بحالها أنا لا نرضى برسالة البشر و لو فعل اللہ عز وجل ذلك صار فعل اللہ مثل فعلهم في التلبيس و إنما كان تلبيسا لأنهم يظنون أنه ملك و ليس بملك أو يظنون أنه بشر و ليس هو بشرا و إنما كان فعلهم تلبيسا لأنهم لبسوا على ضعفتهم في أمر النبي صلى اللہ عليه و سلم فقالوا: إنما هو بشر مثلكم و لو رأوا الملك رجلا للحقهم من اللبس مثل ما لحق بضعفائهم فيكون اللبس نقمة من اللہ و عقوبة لهم على ما كان منهم من التخليط في السؤال و اللبس على الضعفاء

 ترجمہ: اور مشرکین مکہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا تاکہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے؟ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ ہو چکا ہوتا، یعنی عذاب کا آ جانا لازم ہو جاتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا دستور یہی ہے کہ جب کافر کسی خاص نشانی کا مطالبہ کریں، پھر وہ نشانی ظاہر ہو جانے کے باوجود ایمان نہ لائیں تو ان پر عذاب نازل کر دیا جاتا ہے اور انہیں جڑ سے ختم کر دیا جاتا ہے۔ پھر انہیں ذرا بھی مہلت نہ دی جاتی، بلکہ فوراً عذاب آ جاتا۔ اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو بھی اسے انسان ہی کی صورت میں بھیجتے، کیونکہ انسان فرشتوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی شخص فرشتے کو اس کی حقیقی شکل میں دیکھ لے تو اس پر دیکھنے کے سبب ہیبت طاری ہو جائے۔ اسی لیے فرشتے انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس انسانی شکل میں آیا کرتے تھے۔ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آئے، دو فرشتے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو آدمیوں کی شکل میں حاضر ہوئے، اور فرشتے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے پاس بھی انسانی صورت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تو آپ پر ہیبت طاری ہوئی اور آپ بے ہوش ہو گئے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فرشتے کو انسانی صورت میں بھیجا جاتا تو وہ شک میں پڑ جاتے اور کہتے: یہ فرشتہ ہے یا انسان؟ ایک اور تفسیر یہ ہے کہ اگر فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا جاتا تو وہ اسے انسان ہی سمجھتے، اور پھر وہی اعتراض دہراتے کہ ہم کسی انسان کی رسالت پہ راضی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرتاتو اللہ تعالی کا ایساکرنا ان کے حق میں سزا وتلبیس ہوتا، کیونکہ وہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں کو شبہات میں ڈالتے اور اپنے کم علم ساتھیوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے تھے کہ یہ تو تمہارے ہی جیسے ایک انسان ہیں۔ چنانچہ اگر وہ فرشتے کو بھی انسانی شکل میں دیکھتے تو اسی قسم کے شبہے میں مبتلا ہو جاتے، اور یہی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ہوتی۔ (تفسیر خازن، جلد 2، صفحہ 100، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(

تفسير النسفی میں ہے {وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكاً} ولو جعلنا الرسول ملكاً كما اقترحوا لأنهم كانوا يقولون تارة لولا أنزل على محمد ملك وتارة يقولون ما هذا إلا بشر مثلكم و لو شاء ربنا لأنزل ملائكة {لَجَعَلْنَاهُ رَجُلاً} لأرسلناه في صورة رجل كما كان جبريل عليه السلام ينزل على رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم في أعم الأحوال في صورة دحية لأنهم لا يبقون مع رؤية الملائكة في صورهم {وَ لَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ} و لخلطنا وأشكلنا عليهم من أمره إذا كان سبيله كسبيلك يا محمد فإنهم يقولون إذا رأوا الملك في صورة الإنسان هذا إنسان وليس بملك يقال لبست الأمر على القوم وألبسته إذا أشبهته و أشكلته عليهم

ترجمہ: ﴿اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو بھی اسے ایک انسان ہی کی شکل میں بھیجتے، جیسا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اس لیے کہ وہ کبھی کہتے تھے: محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ اور کبھی کہتے تھے: یہ تو ہمارے ہی جیسا ایک انسان ہے، اور اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کر دیتا۔ ﴿تو ہم اسے ایک آدمی ہی بناتے یعنی اسے انسانی صورت میں بھیجتے، جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام اکثر اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آیا کرتے تھے، کیونکہ لوگ فرشتوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿اور ہم ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں یعنی ان کے لیے معاملہ اسی طرح مشتبہ کر دیتے جیسے وہ خود شبہ میں پڑتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھتے تو یہی کہتے کہ یہ تو ایک انسان ہے، فرشتہ نہیں۔ (تفسير النسفي، جلد 1، صفحہ 492، مطبوعہ: بیروت(

تفسیر خزائن العرفان میں ہے یہ ان کُفّار کا جواب ہے جو نبی علیہ السلام کو کہا کرتے تھے یہ ہماری طرح بشر ہیں اور اسی خَبط میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے، انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جاتی ہے کہ ان کے منتفِع ہونے اور تعلیمِ نبی سے فیض اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لا سکتے، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا اور صورتِ انسانی ہی میں بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں، اس کا کلام سُن سکیں، اس سے دین کے اَحکام معلوم کر سکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا۔ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 247، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

احادیث مبارکہ سے ثبوت۔

مواہب اللدنیہ، شرح زرقانی، کشف الخفاء، السیرةالحلبیۃ، تاریخ الخمیس، جواہر البحار، تفسیر روح المعانی، شرح قصیدہ بردہ، الحدیقۃ الندیۃ، فتاوی حدیثیہ،حجۃ اللہ علی العالمین، المدخل، المورد الروی وغیرھا کتبِ اسفار میں ہے، (و اللفظ للمواھب): عن جابر بن عبد اللہ قال: قلت یا رسول اللہ بأبی انت و امی أخبرنی عن اول شیء خلقہ اللہ تعالی قبل الاشیاء، قال: یا جابر! ان اللہ تعالی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ ترجمہ: حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ مجھے خبر دیجئے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اے جابر! اللہ تعالی نے تمام اشیا سے پہلے تیرے نبی کے نورکو اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ (المواھب اللدنیۃ، ج 01، ص 48، مطبوعہ: قاہرہ)

الخصائص الکبری، المواہب اللدنیہ، شرح المواہب، السیرة الحلبیہ، کشف الخفاء میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے (و اللفظ للمواھب): ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم قال: کنت نورا بین یدی ربی قبل خلق آدم علیہ السلام باربعة عشر الف عام ترجمہ: بیشک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے رب تعالی کے حضور، آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے پیدا ہونے سے بھی چودہ ہزار سال پہلے نور تھا۔ (المواھب اللدنیۃ، جلد 1، صفحہ 49، مطبوعہ: قاہرہ)

امام احمد بن محمد عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: قال تعالی یا ادم! ارفع راسک فرفع راسہ فرای نور محمد فی سرادق العرش فقال: یارب! ماھذا النور؟ قال: ھذا نور نبی من ذریتک اسمہ فی السماء احمد و فی الارض محمد ترجمہ: اللہ تعالی نے فرمایا: اے آدم! اپنے سر کو اٹھاؤ، پس انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور نورِ محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو عرش کے پایوں میں جلوہ گر دیکھا، تو عرض کی: اے میرے رب! یہ کس کا نور ہے؟ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے ایک نبی کا نورہے، جن کا آسمان میں نام احمد اور زمین میں محمد ہے۔ (المواھب اللدنیۃ، جلد 01، صفحہ 47، دار الفکر، بیروت)

فرشتوں کا بشری صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہونا۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ- قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے، انہوں نے سلام کہا، تو ابراہیم نے سلام کہا، پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ (پارہ 12،سورۃ ھود، آیت 69)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں تفسیر روح البیان اور تفسیر خازن کے حوالے سے منقول ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سادہ رُو، نوجوانوں کی حسین شکلوں میں فرشتے حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام کے پاس حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیہما الصلاۃ و السلام کی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے۔ (صراط الجنان، جلد 4، صفحہ 464، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فرشتوں کا بشری صورت میں حضرت لوط علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس حاضر ہونا۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے، تو ان کی وجہ سے لوط غمگین ہوئے اور ان کا دل تنگ ہوا اور فرمانے لگے یہ بڑا سخت دن ہے۔ (پارہ 12، سورۃ ھود، آیت 77)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہو کر فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ (صراط الجنان، جلد 4، صفحہ 472، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضرت جبریل علیہ الصلوۃ و السلام کا بشری صورت میں حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آنا۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (جبرائیل) بھیجا، تووہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت بن گیا۔ (پارہ 16، سورۃ مریم، آیت 17)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں تفسیر مدارک کے حوالے سے منقول ہے: جب حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا خلوت میں تشریف لے گئیں، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے اور گھر والوں کے درمیان پردہ کر لیا، اس وقت اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا تو آپ علیہ السلام حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے نوجوان، بے ریش، روشن چہرے اور پیچ دار بالوں والے آدمی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ (صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 81، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضرت جبریل کا بشری صورت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس حاضر ہونا۔ چنانچہ قیامت کے علم اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے مشہور حدیث پاک حدیث جبریل میں ہے بينما نحن عند رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ذات يوم، إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب، شديد سواد الشعر، لا يرى عليه أثر السفر، ولا يعرفه منا أحد، حتى جلس إلى النبي صلى اللہ عليه و سلم، فأسند ركبته إلى ركبتيه، و وضع كفيه على فخذيه، . . . ثم انطلق، فلبثت مليا، ثم قال لي: يا عمر أتدري من السائل؟ قلت: اللہ و رسوله أعلم. قال: فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم۔ ترجمہ: (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) ہم ایک روز رسول اللہ صلی  اللہ تعالی  علیہ  و آلہ  و سلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اس اثنا میں ایک آدمی ہمارے پاس آیا، جس کے کپڑے بہت ہی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے، اس پر سفر کے آثار نظر آتے تھے، نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا، حتیٰ کہ وہ دو زانو ہو کر نبی پاک صلی  اللہ تعالی  علیہ  و آلہ  و سلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے ۔ ۔ ۔ (پھر کچھ سوالات ہوئے) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: پھر وہ شخص چلا گیا، میں کچھ دیر ٹھہرا۔ پھر آپ صلی  اللہ تعالی  علیہ  و آلہ  و سلم نے مجھ سے پوچھا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو سائل کون تھا؟ میں نے عرض کیا، اللہ تعالی اور اس کے رسول، صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم بہتر جانتے ہیں، آپ صلی  اللہ تعالی  علیہ  و آلہ  و سلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے تمہارے پاس تشریف لائے تھے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 27، رقم الحدیث 01،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مفسر قرآن، شارح مشکوۃ، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سوال میں مذکورہ بات سے متعلق ایک سوال نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سوال: حضور نور نہیں کیونکہ رب تعالی نے فرمایا: قل انما انا بشر مثلکم۔ جب حضور بشر ہوئے تو نور نہ ہوئے بشریت اور نورانیت جمع نہیں ہوسکتی؟ جواب: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور بھی ہیں اور بشر بھی ہیں یعنی نوری بشر ہیں۔ حقیقت حضورکی نور ہے اور لباس بشری ہے ۔ ۔ ۔ حضرت جبریل علیہ السلام فرشتہ ہیں نور ہیں اور حضرت مریم کے پاس بشری شکل میں ظاہر ہوئے۔ اس وقت اس بشری شکل کی وجہ سے نورانیت سے علیحدہ نہیں ہوگئے۔ صحابہ کرام نے حضرت جبریل کو بشری شکل میں دیکھا سیاہ زلفیں، سفید لباس، آنکھ، ناک کان وغیرہ سب موجود ہیں۔ اس کے باوجود وہ نور تھے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت داؤد علیہم السلام کے خدمات میں فرشتے شکل بشری میں گئے ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ فرشتے انبیا کرام کی خدمت میں انسانی شکل، بشری صور ت میں حاضر ہوتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ نور بھی ہوتے تھے غرضیکہ نورانیت و بشریت ضدیں نہیں۔ (رسالہ نور، صفحہ 29، 30، 31، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

کوئی بھی مسلمان نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے نور ہونے کا انکار نہیں کرتا۔ چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق قرآن کریم میں بشر ہونا بھی بیان فرمایا گیا اور اس میں کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ اہل سنت کا کوئی شخص بھی بشر ہونے کا انکار نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل سنت پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ وہ بشر ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھیں کہ اہل سنت کے علما میں سے کس نے کونسی کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے بشر ہونے کا انکار کیا ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 104، بزم وقار الدین، کراچی)

نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بشریت کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ چنانچہ شارح بخاری و فقیہ اعظم ہند، مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرات انبیائے کرام بشر تھے اور ان کی بشریت سے انکار کرنا کفر ہے اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ نبی کا بشر ہونا ضروری ہے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 343، دار اھل السنۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5227
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 31 جولائی 2026ء