کیا حضور ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضوراکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم وجہِ تخلیق کائنات ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے صدقے میں ہی ساری کائنات، جنت و دوزخ، زمین و آسمان، اور دنیا وغیرہ کو پیدا فرمایا ہے، اس مضمون پر متعدد احادیث دلالت کرتی ہیں، اس اعتبار سے اصلِ کائنات کہنے میں حرج نہیں۔
مستدرک للحاکم میں ہے: عن ابن عباس رضی اللہ عنهما قال: أوحى اللہ إلى عيسى عليه السلام يا عيسى آمن بمحمد و أمر من أدركه من أمتك أن يؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم و لولا محمد ما خلقت الجنة و لا النار“ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کی طرف وحی فرمائی کہ: اے عیسیٰ! محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) پر ایمان لاؤ اور تمہاری امت میں سے جومحمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پائے اسے حکم دو کہ وہ بھی ان پر ایمان لائے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نہ ہوتے تو میں جنت و دوزخ کو نہ بناتا۔ (مستدرک للحاکم، ج 2، ص 671، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
اس کے علاوہ یہ حدیث ابو بکر بن خلال علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب السنۃ میں بھی ذکر کی ہے اور ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
مختصر تاریخ دمشق میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث پاک کا ایک حصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: لقد خلقت الدنيا و أهلها لأعرفهم كرامتك علی و منزلتك عندی، و لولاك يا محمد ما خلقت الدنيا“ یعنی بے شک میں نے دنیا اور اہل دنیا کو اس لیے پیدا کیا کہ تاکہ میرے نزدیک جو آپ کی عزت و منزلت ہے، اس کی انہیں پہچان کراؤں، اور اے محمد! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ و سلم) اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا۔ (مختصر تاریخ دمشق، ذکر عروجہ الی السماء، ج 2، ص، 137، دمشق)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2562
تاریخ اجراء: 24 ربیع الآخر 1447ھ / 18 اکتوبر 2025ء