حضرت علی کا حضرت فاطمہ کی زندگی میں دوسرا نکاح نہ کرنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں دوسری شادی کیوں نہیں کی؟ اس کی کی کیا حکمت تھی؟
جواب
اس کی وجہ حکمِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں کوئی دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ ہم اپنی بیٹی کی علی بن ابو طالب سے شادی کردیں، تو میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر ابن ابو طالب میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلے تو اسے اختیار ہے، کیونکہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے بے چین کیا اس نے مجھے بے چین کیا اور جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی۔ ‘‘ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5230)
منع کرنے کی حکمت یہ تھی کہ بنی ہشام بن مغیرہ نے جس کے نکاح کی اجازت طلب کی تھی وہ دشمنِ خدا ابو جہل کی بیٹی تھی، اس سے نکاح سیدۂ کائنات رضی اللہ عنہا کی اذیت کا باعث ہوتا اور سیدۂ کائنات رضی اللہ عنہا کی اذیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت ہوتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2609
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاولٰی 1447ھ/18 نومبر 2025ء