logo logo
AI Search

نبی پاک ﷺ کے ہوتے ہوئے اور کوئی امام اعظم کیسے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام اعظم تو نبی پاک ﷺ ہیں تو پھر امام ابو حنیفہ کو امام اعظم کیوں کہا جاتا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ”امامِ اعظم“ تو حقیقت میں صرف ایک ہی ہیں اور وہ ہستی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ باقی تمام لوگ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے امتی اور مقتدی ہیں، لہذا جب ایسا ہے تو پھر حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ”امامِ اعظم“ کیوں کہا جاتا ہے؟ براہِ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ حقیقی اتباع و اقتدا و اطاعت میں امام اعظم نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہی ہے، مگر یاد رکھیے کہ جو کسی بھی شخص کا ”لقب“ ہوتا ہے، اُس کا ایک خاص دائرہ اور حد ہوتی ہے، وہ عرفی اعتبار سے اُسی دائرہ میں مفہوم اور مراد لیا جاتا ہے۔

چند القابات اور اُن کے مصداق:

صدیقِ اکبر: سب سے بڑا سچ بولنے والا۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا لقب ”صدیقِ اکبر“ امت کی نسبت سے ہے ورنہ حقیقت میں کائنات کے سب سے بڑے صدیق خود رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں۔

فاروقِ اعظم: حق و باطل میں سب سے بڑھ کر فرق کرنے والا۔ یہ لفظ پڑھتے ہی پہلا ذہن حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف جاتا ہے، جبکہ یہ بات بلاشبہ ہمارا ایمان ہے کہ حق و باطل میں سب سے بڑا فرق ظاہر کرنے والی ذات حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہے، لیکن پھر بھی سلف و خلف سے اِس لقب کو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ یہ لقب امت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے، نہ کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے مقابلے میں۔

غوثِ اعظم: سیدی عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے ایک جماعتِ علماء و اولیاء ”غوثِ اعظم“ کا لقب استعمال کرتی آئی ہے، حالانکہ حقیقی معنی میں غوث اعظم تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور مخلوق میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم غوث اعظم ہیں۔ یہاں بھی حقیقت یہی ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے اِس لقب کا استعمال ذاتِ الہی، انبیاء و مرسلین، صحابہ کرام یا آپ سے برتر بزرگانِ دین کے مقابلے میں ہرگز نہیں ہے، بلکہ آپ کو ”غوث اعظم“ آپ کے درجے کے بعد والوں کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔

اِس کے علاوہ کثیر القابات مثلاً ”مفتی اعظم، اعلیٰ حضرت، فقیہ اعظم“ کثیر القابات ہیں کہ جن کا ایک خاص مفہوم، دائرہ اور اِطلاق ہوتا ہے، جس کو سلیم العقل اور ذی شعور کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم یا اُس صاحبِ لقب سے مافوق ہستیوں کے مقابل نہیں سمجھتا۔

اِس تفصیل سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ”امام اعظم“ لقب دینے کا معاذ اللہ ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سرکارِ دو جہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھی بڑے امام ہیں، بلکہ اس کا بالکل بدیہی اور واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ائمہ فقہاء میں سب سے بڑے ”امام“ ہیں۔ اگرچہ عمومی معنی میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم ہی مخلوق میں سب سے افضل اور کل مخلوقات کے امام ہیں۔

جنہوں نے ”امام اعظم“ لکھا:

تاریخ اسلام کے جلیل القدر علمائے دین نے امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے ”امام اعظم“ یا اِس طرح کے دیگر کلمات استعمال کیے ہیں۔

(1) ”بحر الرائق“ میں ہے: ”وعرفه الإمام الأعظم بأنه معرفة النفس ما لها وما عليها۔“ (بحر الرائق، جلد 01، صفحہ 06، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

(2) ”المحیط البرھانی“ میں ہے: ”ومن بعدهم من التابعين قام ينصر هذا الدين الإمام الأعظم سراج الأمة ومنهاج الملة هادي الخلق وناصر الحق أبو حنيفة وأصحابه رضوان اللہ عليهم أجمعين۔“ (المحیط البرھانی، جلد 01، صفحہ 29، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

(3) ”مجمع الانھر“ میں ہے: ”(وصرحت بذكر الخلاف) الواقع (بين أئمتنا) الإمام محمد الشيباني والإمام أبي يوسف الرباني والإمام أبي حنيفة الأعظم رحمهم اللہ تعالى“ (مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 07، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)

(4) ”حاشیۃ ابن عابدین“ میں ہے: ”قد جعل العلماء الفتوى على قول الإمام الأعظم في العبادات مطلقا۔“ (حاشية ابن عابدين، جلد 01، صفحہ 71، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

(5) اوپر حنفی فقہاء کی عبارات گزریں۔ دیگر ائمہ مذاہب بھی آپ کو امام اعظم لکھتے آئے ہیں، چنانچہ ”تذکرۃ الحفاظ“ میں ہے: ”أبو حنيفة الإمام الأعظم فقيه العراق النعمان بن ثابت۔“ (تذكرة الحفاظ، جلد 01، صفحہ 126، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

(6) ”الأنساب للسمعاني الشافعی“ میں ہے: ”لعله مات في يومها الإمام الأعظم أبو حنيفة رضي اللہ عنه۔“ (الأنساب للسمعاني، جلد 03، صفحہ 379، مطبوعہ دار الجنان، بیروت)

(7) ”شذرات الذهب لابن العماد الحنبلي“ میں ہے: ”ودفن بالخيزرانية ببغداد بقرب الإمام الأعظم۔ (شذرات الذهب لابن العماد الحنبلي، جلد 04، صفحہ 190، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت)

یہ فہرست درجنوں عبارات تک بڑھائی جا سکتی ہے، مگر قبولِ حق کا مزاج رکھنے والے کے لئے اتنا کافی ہے ورنہ، نہ ماننے والے تو ابوجہل تک ایسے گزرے ہیں کہ اس نے حقیقی امام اعظم، رسول اعظم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو بھی نہیں مانا۔

مضاف الیہ کا بہت واضح ہونے کے سبب محذوف ہونا:

اوپر والے کلام کی نحوی توجیہ بھی بالکل واضح ہے کہ فن نحو کا ضابطہ ہے کہ جب اسمِ تفضیل مضاف ہو، تو بارہا مضاف الیہ، یعنی جس سے موازنہ ہو رہا ہے، اُس کے بالکل واضح اور منوی ہونے کی وجہ سے لفظوں سے حذف کر دیا جاتا ہے، لیکن وہ ذہن میں متعین اور مراد ہوتا ہے۔ اِسے نحوی اصطلاح میں ”حذف المضاف إليه وهو منوي الثبوت“ کہتے ہیں۔ جلیل القدر فقہاء کے علمی حلقہ میں ”اعظم“ سے مراد ”اعظم أئمۃ الفقہ“ ہے، اب جبکہ یہاں مضاف الیہ فقہائے امت کے گروہ کی حیثیت سے متعین ہے جن سے اجتہادی اختلاف ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم تو نبی و مطاع حقیقی ہیں کہ ان کے حکم سے عدول جائز ہی نہیں، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم محذوف مضاف الیہ کے دائرے میں داخل ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بالا و اعلیٰ ہیں نیز علمِ نحو کا قانون ہے کہ جب اسمِ تفضیل کی اضافت کی جائے، تو تفضیل و موازنہ کے درست ہونے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے کہ جس ذات (مفضل) کو فضیلت دی جا رہی ہے، وہ اُس گروہ یا جنس کا حصہ ہو جس پر اسے فضیلت دی جا رہی ہے۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم مجتہدین اور ائمہ فقہ کے گروہ سے ماوراء ہیں، لہذا امتی ائمہ فقہ کے زمرے میں امام ابو حنیفہ کو ”اعظم“ کہنے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا اس موازنے میں شامل ہونا ہی درست نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم تو ”مفضل علیہم“ میں شامل ہی نہیں ہیں۔ وہ تو امتیوں کا ایک خاص گروہ ہے، جنہیں ائمہِ فقہ یا مجتہدین کہا جاتا ہے۔

”حاشية أوضح المسالك إلى ألفية ابن مالك“ میں ہے: ”كان الكلام على أحد تقديرين... الثاني: تقدير الصيغة مضافة، وقد حذف المضاف إليه وهو منوي الثبوت... كقول الفرزدق: إن الذي سمك السماء بنى لنا بيتا دعائمه أعز وأطول، فالمراد دعائمه أعز الدعائم وأطولها“ ترجمہ: کلام دو میں سے کسی ایک صورت پر مبنی تھا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس صیغے کو مضاف مانا جائے، جس میں مضاف الیہ کو حذف کر دیا گیا ہو، لیکن نیت میں اس کا ثبوت مقرر ہو۔ جیسے فرزدق کا یہ شعر ہے کہ بیشک جس نے آسمان کو بلند کیا، اُس نے ہمارے لیے ایسا گھر بنایا جس کے ستون زیادہ مضبوط اور زیادہ طویل ہیں۔ تو یہاں مراد یہ ہے کہ اس کے ستون تمام ستونوں میں سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ طویل ہیں۔ (حاشية أوضح المسالك إلى ألفية ابن مالك، جلد 03، صفحہ 259، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمدقاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-10095

تاریخ اجراء: 27 محرم الحرام 1448ھ/13 جولائی 2026