طریقت کے چار مشہور سلسلے کون سے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
طریقت کے سلاسل کون کون سے ہیں اور ان کی بیعت کن سے ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بیعت و ارادت کا سلسلہ اولیائے کرام کے نزدیک سرکارِ دو عالم، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے چلا آ رہا ہے، اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تک یہ سلسلہ حضرات ابوبکرصدیق و مولا علی رضی اللہ تعالی عنہما کے ذریعے پہنچتا ہے، جس سے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے یہ روحانی فیض اور خرقۂ خلافت حضرت صدیقِ اکبر اور مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو عطا فرمایا، اور پھر یہ نسبت مشائخ و اولیائے کرام کے ذریعے آگے منتقل ہوتی رہی۔ نیز پیر و مرشد کی شرائط میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کا سلسلۂ بیعت حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم تک متصل ہو۔ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بیعت و ارادت کا اصل سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ہی کی ذاتِ اقدس سے شروع ہوا ہے۔ پس ہمارے ہاں جو چار سلاسلِ طریقت زیادہ معروف ہیں، یعنی قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ، ان کے اکابر و مشائخ نے بھی اپنے سے پہلے کے مشائخ سے بیعت و ارادت حاصل کی، اور ان کے شجرۂ طریقت میں یہ روحانی نسبت بالآخر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچتی ہے۔ متعلقہ کتبِ سلاسل اور مشائخ کے شجرات اس امر کی واضح شہادت فراہم کرتے ہیں۔ البتہ! ان چار مشہور سلاسل سے پہلے کوئی روحانی سلسلہ کسی بزرگ کی نسبت سے باقاعدہ مشہور ہوا ہو، ایسا ہمارے علم میں نہیں۔ جس طرح ان مشہور چار سلاسل کے علاوہ بھی بہت سے سلاسل تھے، جن میں سے کچھ ختم ہوگئے اور کچھ اب تک جاری ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ان سب کے بارے میں مکمل علم ہمارے پاس محفوظ نہیں۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”مرید ہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے اتصال مسلسل ۔ ۔ ۔ صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگر انتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں، جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں قبر میں حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 570، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ شرح و بسط کے ساتھ فتاوی شارح بخاری میں لکھتے ہیں: ”صراحۃ یہ ثابت نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیری مریدی کے مروجہ طریقہ کی اجازت دی ہے، لیکن جب اجلہ اولیائے کرام جو علم ظاہر و باطن دونوں کے جامع تھے انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ سلسلہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک حضرت صدیق اکبر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما کے ذریعہ سے حضور تک پہنچتا ہے تو اس میں یقین ہے کہ یقینا حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خاص اس پیری مریدی کی اجازت دی اور ان کو خلیفہ بنایا اگر آپ یہ نہیں مانیں گے تو لازم آئے گا کہ ان اولیائے کرام نے خلاف واقع بات کہی مسلمانوں کو فریب دیا پھر ان کی ولایت کہاں رہ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں اس کا ذکر نہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ ایسا نہیں ہوا حدیثوں ہی سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحابہ کرام کو ایسے علوم بھی تعلیم فرمائے جن کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ظاہر نہ کرنا حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے علم کے دو برتن حفظ کئے ایک تو میں لوگوں میں پھیلاتا ہوں اور اگر دوسرے کو پھیلادوں تو میری گردن کاٹ دی جائے ۔ ۔ ۔ آپ کو بتانا یہ ہے کہ جب متعدد ومعتبر اور مستندذرائع سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت صدیق اکبر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما کو مروجہ طریقے سے پیری مریدی کی اجازت دی جیسا کہ طریقت کے تمام شجروں سے ظاہر ہے تو اس سے انکار کرنا حقیقت میں ان اولیاء اللہ کو جھوٹا فریبی کہنا ہے ۔ ۔ ۔ اور خلفائے راشدین کی خلافت وہ اس سے الگ چیز ہے، وہ پیری مریدی والی خلافت نہیں تھی وہ مذہبی سیاسی ملکی خلافت تھی ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خلافت الگ تھی اور سلسلہ طریقت کی خلافت الگ ہے سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا خاص سلسلہ جو سلسلۃ الذہب ہے وہ ابتدا میں حضرت امام علی رضا رضی اللہ تعالی عنہ تک اہل بیت میں رہا ہاں دوسرا سلسلہ بذریعہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے ۔ ۔ ۔ حضرات اولیا ئے کرام کا یہ شجرہ سلسلہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اس میں مذکور تمام بزرگوں نے بعد والے کو اپنی خلافت سے نوازا۔ اس طرح ثابت ہے کہ حضرت امام حسین شہد کربلا رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت امام زین العابدین کو اور انہوں نے اپنے صاحبزادے امام محمد باقر کو خلافت عطا فرمائی رضی اللہ تعالی عنہم اور یہی سلسلہ طریقت اور اس کی اجازت کے لئے بہت بھاری ثبوت ہے ۔ ۔ ۔ اور سلاسل طریقت صرف انہیں چار میں منحصر نہیں پہلے بہت سے سلاسل تھے جو منقطع ہوگئے اور اب بھی کچھ مزید سلاسل ہیں جو ہندوستان اور باہر موجود ہیں مثلا رفاعیہ شطاریہ وغیرہ۔ یہ چار سلاسل چونکہ بہت زیادہ پھیلے اور اس اسلامی بلاد و امصار کے اکثر افراد انہیں چاروں میں سے کسی ایک کے یا چاروں کے مرید ہیں اس لئے اس کی شہرت زیادہ ہے اور ان چاروں سلاسل کے حضرات اولیائے کرام میں کوئی اختلاف یا نزاع نہیں تھا سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔“ (فتاوی شارح بخاری، ج 02، ص 239 تا 241، مکتبہ برکات المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5309
تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1448ھ / 19 اگست 2026ء