حضرت موسیٰ کا حضرت عزرائیل کو تھپڑ مارنے والا واقعہ درست ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت عزرائیل علیہ السلام کو تھپڑ مارنے کے واقعے کی حقیقت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں! صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی اور دیگر متعدد احادیث کی کتب میں یہ حدیث پاک ہے ”و اللفظ للمسلم: عن أبی هريرة، قال: أرسل ملك الموت الى موسى عليه السلام، فلما جاءه صكه ففقأ عينه، فرجع الى ربه فقال: أرسلتنی الى عبد لا يريد الموت، قال فرد اللہ اليه عينه و قال: ارجع اليه، فقل له: يضع يده على متن ثور، فله، بما غطت يده بكل شعرة، سنة، قال: أی رب ثم مه؟ قال: ثم الموت، قال: فالآن، فسأل اللہ أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: فلو كنت ثم، لأريتكم قبره إلى جانب الطريق، تحت الكثيب الأحمر“
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ملک الموت علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جب وہ حاضر ہوئے تو حضرت موسی علیہ السلام نے انہیں تھپڑ مارا، جس سے ان کی آنکھ نکل پڑی۔ حضرت ملک الموت علیہ السلام اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو (فی الحال) موت نہیں چاہتے۔اللہ پاک نے ان کی آنکھ لوٹا دی اور ارشاد فرمایا: ان کے پاس دوبارہ جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کھال پر رکھیں، جتنے بال ان کے ہاتھ نیچے آئیں گے، ہربال کے بدلے میں ایک سال کی مزید زندگی عطا ہوگی۔ موسی علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب، اس کے بعد کیا ہوگا؟ فرمایا: پھر موت ہوگی، عرض کی: تو پھر ابھی ہی۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے دعا کی کہ اللہ پاک انہیں ایک پتھر کے پھینکنے کی مقدار تک ارض مقدسہ کے قریب کردے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے، سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبرمبارک دکھاتا۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2372، صفحہ 992، مطبوعہ بیروت)
الاقتصاد فی الاعتقاد للمقدسی میں ہے: ”و نؤمن بأن ملك الموت أرسل الى موسى عليه السلام فصكه ففقأ عينه، كما صح عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، لا ينكره الا ضال مبتدع راد على اللہ و رسوله۔“ ترجمہ: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ ملک الموت علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا اور انہوں نے تھپڑ مارا تو ان کی آنکھ نکل پڑی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، اس کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ، بدعتی ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول کے بیان کردہ احکام کو رد کرنے والا ہوگا۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد للمقدسی صفحہ 193، مطبوعہ المدینۃ المنورہ)
یاد رہے کہ ملک الموت علیہ السلام اس وقت انسانی صورت میں تھے اور آنکھ کا نکلنا بھی انسانی صورت میں ہوا، فرشتوں کیلئے یہ انسانی صورتیں ایسے ہی ہوتی ہیں جیسے ہمارے لباس، جس طرح ہمارا لباس پھٹ جائے تو جسم کو تکلیف نہیں ہوتی، اسی طرح آنکھ نکلنے سے حضرت ملک الموت علیہ السلام کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
مراۃ المناجیح میں اس حدیث کے تحت فرمایا: ”جب فرشتہ شکل انسانی میں آئے تو اس کو انسانی اعضاء دئے جاتے ہیں، ان کے لیے مختلف شکلیں ایسی ہیں جیسے ہمارے لیے مختلف لباس، حضرت ملک الموت کی یہ ہی بشری آنکھ موسیٰ علیہ السلام کے طمانچہ سے بے کار ہوئی ورنہ ملکی آنکھ کسی طمانچہ وغیرہ سے بے کار نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا نبی کی طاقت فرشتے کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی تحقیق مرقات میں اسی جگہ ملاحظہ کرو۔ حضرت عزرائیل کو اس آنکھ نکلنے کا درد نہ ہوا جیسے ہمارے لباس پھٹنے سے درد نہیں ہوتا۔“ (مراۃ المناجیح جلد 7، صفحہ 581، مطبوعہ لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-018
تاریخ اجراء: 28 ربیع الاول 1448ھ / 11 ستمبر 2026ء