logo logo
AI Search

کیا انبیاء کرام کے فضلاتِ مبارکہ کو زمین جذب کرلیتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا یہ بات سچ ہے کہ انبیاء کرام کے فضلاتِ مبارکہ کو زمین جذب کرلیتی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہےکہ میں ایک کلپ سن رہا تھا جس میں ایک عالم دین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان بیان کررہے تھے اور انہوں نے اسی بیان میں یہ  کہا کہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے فضلات مبارکہ زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ کیا یہ بات سچ ہے ؟

جواب

جی ہاں! یہ بات بالکل درست ہے اور کئی احادیثِ کریمہ میں یہ بات موجود ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے فضلاتِ مبارکہ کو زمین جذب کرلیتی ہے۔

الشفا بتعریف حقوق المصطفی میں ہے:

”عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت للنبي صلى الله عليه وسلم إنك تأتي الخلاء فلا نرى منك شيئا من الأذى فقال يا عائشة أو ما علمت أن الأرض تبتلع ما يخرج من الأنبياء فلا يرى منه شئ“

ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، آپ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ جب آپ بیت الخلاء سے تشریف لاتے ہیں، تو آپ کے آنے کے بعد وہاں کچھ نظر نہیں آتا؟ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا تم جانتی نہیں کہ جو کچھ انبیاء کرام (علیہم الصلوۃ والسلام)کے جسموں سے نکلتا ہے، زمین اُسے جذب کرلیتی ہے، اس لئے وہاں کچھ نظر نہیں آتا۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، جلد 1، صفحہ 63، دار الفکر، بیروت)

الخصائص الکبری میں ہے

”عن عائشة قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم لقضاء حاجته فدخلت فلم أر شيئا ووجدت ريح المسك فقلت يا رسول الله إني لم أر شيئا قال إن الأرض أمرت ان تكفته منا معاشر الانبياء“

ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (آپ کے واپس آنے کے بعد) میں وہاں گئی، تو میں نے سوائے مشک کی خوشبو کے کچھ نہیں پایا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کی کہ میں نے وہاں کچھ نہیں دیکھا؟ تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے ارشاد فرمایا: بے شک زمین کو حکم دیا گیا ہے کہ انبیاے کرام (علیہم الصلوۃ والسلام) (کے بطن ِ اطہر ) سے جوکچھ نکلے اسے نگل جائے۔ (الخصائص الکبری، جلد 01، صفحہ 121، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

الجامع الکبیر للسیوطی میں ہے:

”عن عائشة: قالت: يا رسول الله! إنك تأتي الخلاء فلا نرى شيئا من الأذى إلا أنا نجد رائحة المسك، فقال: إنا معشر الأنبياء تنبت أجسادنا على أرواح أهل الجنة، وأمرت الأرض ما كان منا أن تبتلعه“

ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، آپ نے عرض کی، یار سول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! جب آپ بیت الخلاء جاتے ہیں، تو ہم وہاں کچھ نہیں دیکھتے، ہاں! ہم وہاں مشک کی خوشبو پاتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ہم انبیاء (علیہم الصلوۃ والسلام) کے گروہ کے مبارک جسم، جنت کی روحوں کے مطابق اُگتے ہیں، پس جو کچھ ہمارے (بطنِ اطہر) سے نکلتا ہے، زمین اسےنگل لیتی ہے۔ (الجامع الکبیر، جلد 23، صفحہ  365، مطبوعہ قاھرۃ)

مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”علماء نے اس کی تصریح کی ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کرتے تو جو کچھ نکلتا، زمین اُن سب کونگل جاتی اور وہاں سے عمدہ خوشبواُڑتی تھی۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 01، صفحہ 412، مکتبہ برکات المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4710
تاریخ اجراء: 14شعبان المعظم1447ھ/03فروری2026ء