logo logo
AI Search

کیا نبی کریم ﷺ پر کبھی زکوٰۃ فرض ہوئی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر کبھی زکوۃ فرض ہوئی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر زکوٰۃ فرض تھی؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

حضور سید عالم علیہ الصلوۃ و السلام سمیت کسی بھی نبی پر زکوٰۃ فرض نہیں تھی، کیونکہ زکوٰۃ تو مال کی میل اور گندگی دور کرنے کے لیے ہوتی ہے، جبکہ انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام کے معصوم ہونے کی وجہ سے ان کا مال گندگیوں اور میل کچیل سے پاک وصاف ہوتا ہے۔ نیز زکوۃ اس شخص پر فرض ہوتی ہے، جو مال کا مالک ہو، اور چونکہ حضرات انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام کو اپنے مال پر ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا ہے، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے امانت ہوتا ہے، تو اس وجہ سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام میں سے کسی پر بھی زکوٰۃ فرض نہیں تھی۔

نوٹ: جن آیات مبارکہ میں انبیائے کرام علیھم الصلوۃ والسلام کو زکوٰۃ دینے کا فرمایا گیاجیسے

وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا

تو ان سے یا تو تزکیۂ نفس یعنی نفس کو ان چیزوں سے پاک رکھنا مراد ہے، جو شانِ نبوت کے خلاف ہیں یا ان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی امت کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیں۔

چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں ہے یاد رہے کہ انبیاءِکرام علیھم الصلوۃ والسلام کو امتیوں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے مال پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ چنانچہ علامہ احمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: انبیاءِکرام علیھم الصلوۃ و السلام پر زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ ان کا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملک ہے اور جو کچھ ان کے قبضے میں ہے وہ امانت ہے اور یہ اسے خرچ کرنے کے مقامات پر خرچ کرتے ہیں اور غیر محل میں خرچ کرنے سے رکتے ہیں اور اس لئے کہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گناہوں کی گندگی سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِ کرام علیھم الصلوۃ و السلام معصوم ہونے کی وجہ سے گناہوں کی گندگی سے پاک ہیں۔ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ دُرِّ مختار کی اس عبارت اس پر اجماع ہے کہ انبیاءِ کرام علیھم الصلوۃ و السلام پر زکوٰۃ واجب نہیں کے تحت فرماتے ہیں: کیونکہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گندگی ( یعنی مال کے میل) سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِکرام علیھم الصلوۃ و السلام اس سے بری ہیں (یعنی ان کے مال ابتدا سے ہی میل سے پاک ہیں)۔ لہٰذا جن آیات میں انبیاءِکرام علیھم الصلوۃ والسلام کو زکوٰۃ دینے کا فرمایا گیا ان سے یا تو تزکیۂ نفس یعنی نفس کو ان چیزوں سے پاک رکھنا مراد ہے جو شانِ نبوت کے خلاف ہیں یا ان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی امت کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیں۔ (صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 345، 346، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

در مختار میں ہے

و فرضت في السنة الثانية قبل فرض رمضان، و لا تجب على الأنبياء إجماعا

ترجمہ: زکوۃ دوسری ہجری میں رمضان کے روزوں کے فرض ہونے سے پہلے فرض کی گئی، اور انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام پر بالاتفاق واجب نہیں۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله: و لا تجب على الأنبياء) لأن الزكاة طهرة لمن عساه أن يتدنس و الأنبياء مبرءون منه، و أما قوله تعالى (و أوصاني بالصلاة و الزكاة ما دمت حيا) [مريم: 31] فالمراد بها زكاة النفس من الرذائل التي لا تليق بمقامات الأنبياء عليهم الصلاة و السلام، أو أوصاني بتبليغ الزكاة

ترجمہ: (ان کا قول: اور انبیا علیہم الصلوۃ والسلام پر واجب نہیں) اس لیے کہ زکوٰۃ طہارت ہے اس شخص کے لیے جس سے کسی گندگی یا آلودگی کا احتمال ہو، جبکہ انبیائے کرام علیھم الصلوۃ والسلام اس سے پاک اور مبرّا ہوتے ہیں، رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

وَ اَوْصَانِيْ بِالصَّلَاةِ وَ الزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا

(یعنی: اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔) تو اس سے مراد نفس کی ان رذائل سے پاکیزگی ہے، جو انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے بلند مقامات کے لائق نہیں، یا اس سے مراد ہے کہ مجھے زکوٰۃ کی تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 202، مطبوعہ: کوئٹہ)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی میں ہے

و الأنبياء لا تجب عليهم الزكاة لأنهم لا ملك لهم مع اللہ إنما كانوا يشهدون أن ما في أيديهم ودائع يبذلونه في أوان بذله، و يمنعونه عن غير محله، و لأن الزكاة إنما هي طهرة لمن عساه أن يتدنس و الأنبياء مبرؤن من الدنس لعصمتهم

یعنی: اور انبیائے کرام علیھم الصلوۃ و السلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ اللہ کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، وہ تو اس بات کی گواہی دیتے تھے، کہ جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے، وہ محض امانت ہے، جسے وہ اس کے درست وقت پر خرچ کرتے ہیں، اور اس کے غیر محل میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں، نیز اس لیے بھی کہ زکوٰۃ دراصل اس شخص کے لیے پاکیزگی (کا ذریعہ) ہے جو کسی آلودگی میں مبتلا ہو سکتا ہو، جبکہ انبیاے کرام علیہم الصلوۃ و السلام اپنی عصمت کی وجہ سے ہر طرح کی آلودگی سے پاک ہوتے ہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الزکاۃ، صفحہ 713، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4611
تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب1447ھ / 06 جنوری 2026ء