logo logo
AI Search

حضرت موسی علیہ السلام اور قبطی کا واقعہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت موسی علیہ الصلوۃ و السلام اور قبطی کے واقعہ کی وضاحت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص کا اعتراض ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے تو کوئی گناہ سر زد نہیں ہو سکتا، جبکہ حضرت موسی علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام نے ایک جھگڑے کے دوران بنی اسرائیل کے ایک شخص کو بچانے کی خاطر، دوسرے کو قتل کر دیا تھا۔ مزید معترض کا کہنا ہے کہ (معاذ اللہ) ان کو اس کی سزا کیوں نہیں ملی ؟

جواب

واقعہ یہ ہے کہ فرعون کی قوم کا ایک شخص، حضرت سیدنا موسی علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کی قوم کے ایک شخص پر ناحق ظلم کرتے ہوئے، اسے مجبور کر رہا تھا، کہ یہ لکڑیوں کا گٹھا فرعون کے باورچی خانے تک پہنچا کر آئے، اور یہ ناحق ظلم تھا، جنابِ موسی علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے اس کو اولاً زبانی منع کیا، لیکن وہ بضدّ تھا، کہ یہ وہاں چھوڑ کر آئے، اب جب وہ کسی صورت بھی نہ مانا، اور الٹا بد زبانی کرنے لگا، تو حضرت سیدنا موسی علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے اس کو اس ظلم سے روکنے کے لئے گھونسا ماردیا، اور اتفاق ایسا ہوا کہ ایک گھونسا (جو نہ قتل کے ارادے سے تھا اور نہ ہی عموماً اس سے لوگ مرتے ہیں) کھاتے ہی قبطی مر گیا۔ پس حضرت سیدنا موسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا اس کو گھونسا مارنا، در اصل ظلم کو دور کرنا، اور مظلوم کی امداد کرنا تھا، اور یہ کسی دین میں بھی گناہ نہیں، کہ جس کی آپ کو سزا ملتی۔

اللہ تبارک و تعالی قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

(وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ- هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖۚ- فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ- فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ - قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ)

 ترجمہ کنز العرفان: اور (ایک دن موسیٰ) شہر والوں کی (دوپہر کی) نیند کے وقت شہرمیں داخل ہوئے تو اس میں دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک موسیٰ کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا تو وہ جو موسیٰ کے گروہ میں سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) فرمایا: یہ شیطان کی طرف سے ہوا ہے۔ بیشک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ (القرآن، پارہ 20، سورۃ القصص، آیت: 15)

بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے

”وأما خبر موسى - عليه الصلاة والسلام - مع قتيله ووكزه فقبل النبوة وأنه لم يتعمد القتل بل أراد دفع ظلمه“

ترجمہ: رہا حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنے قتل کئے ہوئے کے شخص اور اس کو گھونسا مارنے کی خبر دینا تو وہ آپ کو نبوت ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اسے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا بلکہ اس کے ظلم کو دور کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ (بریقہ محمودیہ فی شرح طریقہ محمدیہ، ج 1، ص 199، مطبعة الحلبي)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اس میں دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ان میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے گروہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں یعنی فرعون کی قوم قِبطیوں میں سے تھا، یہ اسرائیلی پر جَبر کر رہا تھا تاکہ وہ اس پر لکڑیوں کا انبار لاد کر فرعون کے کچن میں لے جائے، چنانچہ جو مرد حضرت موسی علیہ السلام کے گروہ میں سے تھا اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے اس قِبطی سے کہا: تو اسرائیلی پر ظلم نہ کر اور اس کو چھوڑ دے، لیکن وہ باز نہ آیا اور بدزبانی کرنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو اس ظلم سے روکنے کے لئے گھونسا مارا تو وہ گھونسا کھاتے ہی مر گیا۔ آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے اسے ریت میں دفن کر دیا اور آپ کا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا۔۔۔ یاد رہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام معصوم ہیں، ان سے گناہ نہیں ہوتے اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا قبطی کو مارنا در اصل ظلم دور کرنا اور مظلوم کی امداد کرنا تھا اور یہ کسی دین میں بھی گناہ نہیں، پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور استغفار چاہنا یہ اللہ تعالیٰ کے مُقَرَّب بندوں کا دستور ہی ہے۔“ (صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 263-264، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4790
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک1447ھ/28 فروری 2026ء