حضرت فاطمہ کی کتنی بیٹیاں تھیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی صاحب زادیوں کی تعداد
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا کی کتنی صاحب زادیاں تھیں؟ کوئی کہتا ہے کہ دو تھیں، کوئی کہتا ہے کہ تین تھیں، تیسری بیٹی بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں، ان کا نام رقیہ بنت علی تھا۔ آپ رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطنِ مبارک سے صرف دو بیٹیاں ہوئیں، جن کے نام یہ ہیں: حضرت زینب کبری رضی اللہ تعالی عنہا، اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا، جبکہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری بیوی، حضرت ام حبیب بنت ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن مبارک سے پیدا ہوئیں، اس لحاظ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی صرف دو بیٹیاں تھیں۔
البدایۃ و النھایۃ میں ہے
فأول زوجة تزوجها علي، رضي اللہ عنه، فاطمة بنت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، بنى بها بعد وقعة بدر، فولدت له الحسن وحسينا، و يقال: و محسنا. ومات وهو صغير، و ولدت له زينب الكبرى، و أم كلثوم الكبرى
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جس پہلی خاتون سے نکاح کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں۔ غزوہ بدر کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔ ان سے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما پیدا ہوئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت محسن بھی ہوئے تھے، مگر وہ بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ نیز حضرت زینبِ کبریٰ اور حضرت امِّ کلثومِ کبریٰ بھی انہیں سے پیدا ہوئیں۔ (البدایۃ و النھایۃ، جلد 11، صفحہ 71، دار عالم الکتب)
اسی میں مزید ہے
و منهن أم حبيب بنت ربيعة بن بجير بن العبد بن علقمة، و هي أم ولد من السبي الذين سباهم خالد بن الوليد من بني تغلب حين أغار على عين التمر فولدت له عمر - وقد عمر خمسا وثمانين سنة - ورقية
ترجمہ: اور ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ازواج میں سے) ایک اُمِّ حبیب بنت ربیعہ بن بجیر بن العبد بن علقمہ تھیں، وہ ان قیدی عورتوں میں سے تھیں جنہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بنی تغلب سے اس وقت قید کیا، جب انہوں نے عَینُ التَّمر پر حملہ کیا،وہ اُمِّ ولد تھیں، ان سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں عمر پیدا ہوئے— جن کی عمر پچاسی سال رہی— اور رقیہ بھی پیدا ہوئیں۔ (البدایۃ و النھایۃ، جلد 11، صفحہ 72، دار عالم الکتب)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4744
تاریخ اجراء: 23شعبان المعظم1447ھ / 12فروری2026ء