حضور ﷺ کے نکاح اور ازواجِ مطہرات کی تعداد کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے نکاح اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کی تعداد
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے کتنے نکاح فرمائے اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے وصال اقدس کے وقت کتنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن موجود تھیں؟
جواب
ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے مگر گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں، ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو، حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے سامنے ہی انتقال ہو گیا تھا، تو یوں نو بیویاں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ میں ہے
و اختلف فی عدۃ ازواجہ علیہ الصلوۃ و السلام و ترتیبھن۔۔۔ و المتفق علیہ انھن احدی عشرۃ امراۃ ۔۔۔ فمات عندہ صلی اللہ علیہ و سلم منھن اثنتان: خدیجۃ و زینب ام المساکین، و مات صلی اللہ تعالی علیہ و سلم عن تسع
ترجمہ: ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے۔ اور گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں اتفاق ہے۔ ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ ام المساکین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے سامنے ہی انتقال ہو گیا تھا مگر نو بیویاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، جلد 4، صفحہ 359 - 362، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے مگر گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے سامنے ہی انتقال ہو گیا تھا مگر نو بیویاں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔ (سیرتِ مصطفیٰ، صفحہ 651، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4718
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1447ھ / 09 جنوری2026ء