بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال ظاہری کے وقت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر 10 سال تھی تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10 سال سے کم عمر بچےکو امیر لشکر بنایا؟
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ پاک کی عطا سے سب لوگوں کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کم سنی کے باوجود اس قیادت کے اہل ہیں، لہٰذا انہیں امیر مقرر فرمایا بلکہ خود ان کے اہل ہونے کا اعلان بھی فرمایا نیز اس میں ان کی دلجوئی بھی تھی اور یہ حکمت بھی کہ جس طرف آپ کو لشکر دے کر روانہ فرمایا یعنی رومیوں کی طرف تو اس سے پہلے 8 ہجری میں وہاں رومیوں نے جنگِ موتہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے والد امیرِ لشکر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا تو ایسی صورت میں جب شہید باپ کا بیٹا کفار سے لڑے گا تو خوب دلجمعی کے ساتھ دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرے گا، پھر ایسا ہی ہوا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے دشمنانِ اسلام سے نہایت کامیاب مقابلہ کیا، وہاں بہت ہی خونریز جنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ کے قاتل اور دوسرے کفار کو قتل کیااور بے شمار مالِ غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔
خیال رہے کہ اس جنگ کے وقت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر صرف دس سال نہیں بلکہ اس سے زائد تھی۔
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”اس لشکر (یعنی جیشِ اسامہ) کا دوسرا نام ’’سریہ اُسامہ‘‘ بھی ہے۔ یہ سب سے آخری فوج ہے جس کے روانہ کرنے کا رسول ﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ ۲۶ صفر ۱۱ھ دوشنبہ کے دن حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور دوسرے دن حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بلا کر فرمایا کہ میں نے تم کو اس فوج کا امیر لشکر مقرر کیا تم اپنے باپ کی شہادت گاہ مقام ’’اُبنٰی‘‘ میں جاؤ اور نہایت تیزی کے ساتھ سفر کرکے ان کفار پر اچانک حملہ کر دو تا کہ وہ لوگ جنگ کی تیاری نہ کر سکیں۔ باوجود یکہ مزاج اقدس ناساز تھا مگر اسی حالت میں آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھا اور یہ نشانِ اسلام حضرت اُسامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے کر ارشاد فرمایا:
”اُغْزُ بِسْمِ ﷲِ وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَقَاتِلْ مَنْ کَفَرَ بِاللہِ“
ﷲ کے نام سے اور ﷲ کی راہ میں جہاد کرو اور کافروں کےساتھ جنگ کرو۔
حضرت اُسامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت بریدہ بن الحضیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو علمبردار بنایا اور مدینہ سے نکل کرایک کوس دور مقام ”جرف“ میں پڑاؤ کیا تا کہ وہاں پورا لشکر جمع ہو جائے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے تمام معززین کو بھی اس لشکر میں شامل ہو جانے کا حکم دے دیا۔ بعض لوگوں پر یہ شاق گزرا کہ ایسا لشکر جس میں انصار و مہاجرین کے اکابر و عمائد موجود ہیں ایک نو عمر لڑکا جس کی عمر بیس برس سے زائد نہیں کس طرح امیر لشکر بنا دیا گیا؟ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس اعتراض کی خبر ملی تو آپ کے قلبِ نازک پر صدمہ گزرا اور آپ نے علالت کے باوجود سر میں پٹی باندھے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر منبر پر ایک خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے اُسامہ کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کی ہے تو تم لوگوں نے اس سے قبل اس کے باپ کے سپہ سالار ہونے پر بھی طعنہ زنی کی تھی حالانکہ خدا کی قسم! اس کا باپ (زید بن حارثہ) سپہ سالار ہونے کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (اُسامہ بن زید) بھی سپہ سالار ہونے کے قابل ہے اور یہ میرے نزدیک میرے محبوب ترین صحابہ میں سے ہے جیسا کہ اس کا باپ میرے محبوب ترین اصحاب میں سے تھا لہٰذا اُسامہ(رضی ﷲ تعالیٰ عنہ)کے بارے میں تم لوگ میری نیک وصیت کو قبول کرو کہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔۔۔ حضرت اُسامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مقام ’’اُبنٰی‘‘ میں تشریف لے گئے اور وہاں بہت ہی خونریز جنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ کے قاتل اور دوسرے کفار کو قتل کیااور بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے۔‘‘ (سیرتِ مصطفیٰ، ص 536 تا 538، ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2350
تاریخ اجراء:29محرم الحرام1447ھ/25جولائی2025ء