حضرت امیر معاویہ کا کاتب وحی ہونا کہاں سے ثابت ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے تو کاتب وحی کیسے ہوئے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کاتبِ وحی تھے؟ ایک شخص کا کہنا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کاتبِ وحی نہیں تھے، کیونکہ آپ فتحِ مکہ کے موقع پر ایمان لائے اور فتح مکہ کے بعد قرآن نازل نہیں ہوا، لہذا جب آپ کے ایمان لانے کے بعد قرآن ہی نہیں اترا، تو آپ کاتبِ وحی کیسے بنے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ سائل: ذوالفقار حیدری (فیصل آباد)
جواب
حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کاتب وحی ہونا، احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام لا چکے تھے، لیکن کفارِ مکہ کے خوف سے اپنے اسلام کو مخفی (پوشیدہ) رکھا اور فتح مکہ کے دن اس کا اظہار فرمایا۔
اور رہا یہ اعتراض کہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، جبکہ قرآن فتح مکہ کے روز مکمل نازل ہو چکا تھا، اس لیے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کاتب وحی نہیں ہو سکتے۔ یہ اعتراض سراسر غلط اور باطل ہے، بالفرض اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فتح مکہ ہی کے موقع پر مسلمان ہوئے، تب بھی یہ اعتراض درست نہیں بنتا، کیونکہ قرآن پاک فتحِ مکہ کے روز مکمل نازل نہیں ہوا تھا، بلکہ فتح ِمکہ کے بعد بھی قرآن مجید کی کئی سورتیں اور بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں، کیونکہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے مختلف قبیلوں سے وفود آنا شروع ہوگئے تھے اور وہ لوگ اَحکامِ شریعت کے بارے میں بہت سے سوالات کرتے تھے، اس لیے اللہ عزوجل نے فتح مکہ کے بعد بھی کثرت سے وحی نازل فرمائی۔
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کےفتح مکہ سے پہلے اسلام لانے پر دلائل:
صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، سنن کبری، مسند احمد، مسند جامع، معجم کبیر للطبرانی میں ہے،
واللفظ للاول: ”عن ابن عباس عن معاویۃ قال قصرت عن رسول اللہ بمشقص“
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا، سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بال ایک اعرابی کے تیر کی نوک سے کاٹے۔ (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 135، مطبوعہ مصر)
مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 139ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”ظاہر یہ ہے کہ یہ حجامت عمرہ قضا میں واقع ہوئی جو صلح حدیبیہ سے ایک سال بعد ۸ھ میں ہوا کیوں کہ حجۃ الوداع میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قِران کیا تھا اور قارن مروہ پر حجامت نہیں کراتے، بلکہ منی میں دسویں ذی الحجہ کو کراتے ہیں۔ نیز حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حج الوداع میں بال نہ کٹوائے تھے، بلکہ سر منڈایا تھا۔ ابو طلحہ نے حجامت کی تھی، تو لا محالہ امیر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حضور کے سر شریف کے بال تر اشنا عمرہ قضا میں فتح مکہ سے پہلے ہوا۔ معلوم ہوا کہ امیر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لا چکے تھے۔ (امیر معاویہ پر ایک نظر، صفحہ 41، مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)
سنن ابو داؤد، سنن نسائی، معجم کبیرللطبرانی، جامع الاصول، الامالی فی آثار الصحابہ، مستخرج ابی عوانہ میں ہے،
واللفظ للاول: ”عن ابن عباس، أن معاوية، قال له: أما علمت أني قصرت عن رسول اللہ بمشقص أعرابي على المروة“
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بال مروہ کے مقام پر ایک اعرابی کے تیر کی نوک سے کاٹے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 94، مطبوعہ ہند)
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے:
”وذكر المروة يعيّن أنه كان معتمرا، لأنه كان في حجة الوداع حلق بمنى“
ترجمہ: مروہ کا ذکر اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عمرہ کر رہے تھے، کیونکہ حجۃ الوداع میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے منیٰ میں حلق کروایا تھا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد 4، صفحہ 3، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، البدایہ والنہایہ، شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے،
واللفظ للآخر: ”أنه أسلم بعد الحديبيّة وكتم إسلامه حتى أظهره عام الفتح“
ترجمہ: حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حدیبیہ کے بعد مسلمان ہو گئے تھے اور فتحِ مکہ تک اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد 4، صفحہ 3، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 139ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”صحیح یہ ہے کہ امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خاص صلح حدیبیہ کے دن 7 ھ میں اسلام لائے، مگر مکہ والوں کے خوف سے اپنا اسلام چھپائے رہے، پھر فتح مکہ کے دن اپنا اسلام ظاہر فرمایا۔“ (امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر ایک نظر، صفحہ 41، مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے کاتب وحی ہونے پر دلائل:
صحیح مسلم، صحیح ابن حبان، معجم کبیر للطبرانی، مسند الجامع، سنن کبری مستخرج ابی عوانہ، مہذب فی اختصار سنن الکبیر میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: مسلمان ابو سفیان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف نہ دیکھتے تھے اور نہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے، تو آپ نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے تین چیزیں عطا فرمائیں۔آپ نے فرمایا: جی ہاں! (تین گزارشات میں ایک گزارش یہ تھی کہ)
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك، قال نعم یعنی: حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ، کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ (صحیح المسلم، جلد 4، صفحه 1945، مطبوعه دار احیاء التراث العربی، بیروت)
مسند احمد میں ہے:
”عن أبي حمزة قال: سمعت ابن عباس، يقول: كنت غلاما أسعى مع الغلمان، فالتفت، فإذا أنا بنبي اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، خلفي مقبلا، فقلت: ما جاء نبي اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم إلا إلي، قال: فسعيت حتى أختبئ وراء باب دار، قال: فلم أشعر حتى تناولني، فأخذ بقفاي، فحطأني حطأة، فقال: اذهب فادع لي معاوية قال: وكان كاتبه“
ترجمہ: حضرت ابو حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرمایا: میں نے عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو فرماتے ہوئے سنا: میں ایک لڑکا تھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو اللہ کے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری طرف آ رہے تھے۔ میں نے دل میں کہا: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے ہی لیے آئے ہیں۔ میں دوڑا اور ایک گھر کے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ مجھے احساس نہ ہوا یہاں تک کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے پکڑ لیا، میری گردن کے پچھلے حصے کو پکڑا اور ہلکا سا جھٹکا دیا، پھر فرمایا: جاؤ، حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو میرے پاس بلا لاؤ اور وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کاتب تھے۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 346، مطبوعہ قاہرۃ)
بدایہ والنہایہ میں ہے:
”قدكان أبوه من سادات قريش في الجاهلية، وآلت إليه رياسة قريش بعد يوم بدر فكان هو أمير الحروب من ذلك الجانب، وكان رئيسا مطاعا ذا مال جزيل، ولما أسلم قال: يا رسول اللہ، مرني حتى أقاتل الكفار كما كنت أقاتل المسلمين. قال: نعم قال: ومعاوية تجعله كاتبا بين يديك. قال: نعم ثم سأل أن يزوج رسول اللہ بابنته الأخرى، وهي عزة بنت أبي سفيان، واستعان على ذلك بأختها أم حبيبة، فلم يقع ذلك، وبين له رسول اللہ أن ذلك لا يحل له. وقد تكلمنا على هذا الحديث في غير موضع، وأفردنا له مصنفا على حدة، ولله الحمد والمنةوالمقصود أن معاوية كان يكتب الوحي لرسول اللہ مع غيره من كتاب الوحي“
ترجمہ: تحقیق ان کے والد(یعنی ابو سفیان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) زمانہ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں سے تھے اور بدر کے بعد قریش کی قیادت انہی کے پاس آ گئی، وہ اس طرف سے جنگوں کے امیر تھے، بااثر، مطاع اور بہت مالدار تھے۔ جب وہ مسلمان ہوئے، تو انہوں نے عرض: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے حکم دیجیے کہ میں کفار سے اسی طرح لڑوں جیسے پہلے مسلمانوں سے لڑتا تھا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر عرض کی: اور حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے سامنے لکھنے والا(کاتب) بنا لیجیے۔آ پ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر انہوں نے درخواست کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی دوسری بیٹی، عزہ بنت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی نکاح کر لیں اور اس کے لیے اپنی بیٹی اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مدد لی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے واضح فرمایا کہ یہ آپ کے لیے حلال نہیں۔ ہم اس حدیث پر دوسری جگہ تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں اور اس پر مستقل کتاب بھی لکھی ہے، الحمدللہ۔ مقصود یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لیے دیگر کاتبوں کے ساتھ وحی لکھا کرتے تھے۔ (بدایہ والنہایہ، جلد 11، صفحہ 146، مطبوعہ ریاض)
فتح مکہ کے بعد بھی نزولِ قرآن:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:
”ان اللہ عزوجل تابع الوحی علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قبل وفاتہ حتی توفی واکثر ماکان الوحی یوم توفی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم“
ترجمہ: اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ان کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، جس سال آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس میں بہت مرتبہ وحی نازل ہوئی تھی۔ (صحیح مسلم، ج 04، ص 231، رقم الحدیث 3016، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی)
مذکورہ بالا روایت کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 852ھ/1449ء) لکھتے ہیں:
واللفظ للآخر: ”قوله: حتى توفاه أكثر ما كان الوحي) أي الزمان الذي وقعت فيه وفاته كان نزول الوحي فيه أكثر من غيره من الأزمنة۔۔۔وهذا الذي وقع أخيرا على خلاف ما وقع أولا، فإن الوحي في أول البعثة فتر فترة ثم كثر، وفي أثناء النزول بمكة لم ينزل من السور الطوال إلا القليل، ثم بعد الهجرة نزلت السور الطوال المشتملة على غالب الأحكام، إلا أنه كان الزمن الأخير من الحياة النبوية أكثر الأزمنة نزولا بالسبب المتقدم، وبهذا تظهر مناسبة هذا الحديث للترجمة لتضمنه الاشارة إلى كيفية النزول“
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے قول: (حتّى توفّاه أكثر ما كان الوحي) کا یعنی جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات واقع ہوئی، اسی زمانے میں وحی کا نزول دوسرے تمام زمانوں کے مقابلے میں زیادہ تھا۔۔۔ اور یہ آخری زمانہ اس کے برخلاف تھا جو ابتدائی زمانے میں ہوا تھا، کیونکہ بعثت کے آغاز میں وحی کچھ عرصہ منقطع رہی، پھر اس کے بعد کثرت سے نازل ہونے لگی اور مکہ میں نزولِ وحی کے دوران طویل سورتوں میں سے بہت تھوڑی نازل ہوئیں، پھر ہجرت کے بعد وہ طویل سورتیں نازل ہوئیں جن میں زیادہ تر احکام شامل تھے، لیکن نبوی زندگی کا آخری زمانہ، مذکورہ سبب کی بنا پر، وحی کے نزول کے اعتبار سے تمام زمانوں سے زیادہ تھا اور اسی سے اس حدیث کی باب کے ساتھ مناسبت واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ اس میں وحی کے نزول کے طریقے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، جلد 9، صفحہ 8، دار المعرفۃ ، بیروت)
کثرتِ وحی کی حکمت بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 852ھ/1449ء) لکھتے ہیں:
”والسر في ذلك أن الوفود بعد فتح مكة كثروا وكثر سؤالهم عن الأحكام فكثر النزول بسبب ذلك“
ترجمہ: اس (یعنی فتحِ مکہ کے بعد وحی کی کثرت) میں جو راز پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے مختلف قبیلوں سے وفود آنا شروع ہوگئے تھے اور وہ لوگ اَحکامِ شریعت کے بارے میں بہت سے سوالات کرتے تھے اس لیے اللہ عَزَّ وَجَلّ َ نے کثرت سے وحی نازل فرمائی۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، جلد 90، صفحہ 80، مطبوعہ مصر )
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 606ھ/1209ء) لکھتے ہیں:
”قال ابن عباس: هذه الآية آخر آية نزلت على الرسول، وذلك لأنه لما حج نزلت (يستفتونك) وهي آية الكلالة، ثم نزل وهو واقف بعرفة (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي) ثم نزل( واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله)“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ارشاد فرمایا: یہ وہ آخری آیت ہے جو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی، اور یہ اس وجہ سے کہ جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حج کیا تو سب سے پہلے آیت (يستفتونك) نازل ہوئی جو آیتِ کلالہ ہے، پھر اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عرفات میں کھڑے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي) پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: (واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله)۔ (التفسیر الکبیر، جلد 7، صفحہ 87، مطبوعہ دار احیاءالتراث العربی، بیروت)
تفسیر بغوی میں ہے:
”روي بعد ما نزلت سورة النصر عاش النبي عاما، ونزلت بعدها سورة براءة وهي آخر سورة نزلت كاملة فعاش النبي بعدها ستة أشهر، ثم نزلت في طريق حجة الوداع ﴿يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة﴾ فسميت آية الصيف، ثم نزلت وهو واقف بعرفة: ﴿اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي﴾فعاش بعدها أحدا وثمانين يوما، ثم نزلت آيات الربا، ثم نزلت ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله﴾ فعاش بعدها أحدا وعشرين يوما“
ترجمہ: روایت کیا گیا کہ سورۂ نصر کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک سال تک زندہ رہے، پھر اس کے بعد سورۂ براءت نازل ہوئی جو مکمل نازل ہونے والی آخری سورت ہے، اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چھ ماہ تک ظاہری حیات رہی، پھر حجۃ الوداع کے سفر کے دوران یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة﴾ جسے آیتِ صیف کہا جاتا ہے، پھر عرفات میں کھڑے ہونے کی حالت میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي﴾، اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکیاسی دن زندہ رہے، پھر آیاتِ رِبا نازل ہوئیں، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله﴾ اور اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکیس دن ظاہری حیات کے ساتھ متصف رہے۔ (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 317، مطبوعہ دار طیبہ)
امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں:
”رسول اللہ يتجهز إلى مكة، ونزلت عليه آية الحج: ﴿ولله على الناس حج البيت﴾وهي آخر آية نزلت بالمدينة، ثم خرج إلى مكة فنزلت عليه بعرفة يوم عرفة: ﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾الآية، ثم نزلت عليه من الغد يوم النحر: ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله﴾ هذه الآية، ثم لم ينزل عليه شيء بعدها حتى قبض رسول اللہ بعد نزولها“
ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکہ کی طرف روانہ ہونے کی تیاری فرما رہے تھے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر آیتِ حج نازل ہوئی: ﴿ولله على الناس حج البيت﴾ اور یہ مدینہ میں نازل ہونے والی آخری آیت تھی، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکہ تشریف لے گئے تو عرفہ کے دن عرفات میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾، پھر اس کے اگلے دن، یومِ نحر کو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله﴾، اس کے بعد رسولِ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کوئی آیت نازل نہ ہوئی یہاں تک کہ اسی آیت کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وصال ہو گیا۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 110، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: عبدالرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-4758
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم1447ھ/16 فروری 2026ء