logo logo
AI Search

عاشورہ کے دن پانی میں زم زم ملنے کی حقیقت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عاشورہ کے دن دنیا کے پانیوں میں زم زم ملا دیا جاتا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عاشورہ کے دن دنیا کے پانیوں میں زمزم ملا دیا جاتا ہے اور اس دن نہانے سے بیماریاں دور ہوتی ہیں، کیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے؟

جواب

عاشورہ کے دن غسل کی ترغیب دیتے ہوئے، بعض علمائے کرام نے اپنی کتب میں نقل کیاہے کہ ”اللہ تعالیٰ عاشورہ کی رات آبِ زمزم کو تمام پانیوں میں پہنچا دیتا ہے، لہذا جو شخص عاشورہ کے دن غسل کرے وہ سارا سال بیماریوں سے محفوظ رہے گا، ان شاء اللہ عزوجل۔“ تاہم اسے بطور حدیثِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کہیں روایت نہیں کیا گیا، البتہ علامہ محدث عبد الرحمٰن ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے حضرت مولائے کائنات علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی طرف منسوب کیا ہے۔

علامہ محدث عبد الرحمٰن بن علی ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 597ھ / 1201ء) لکھتے ہیں: ”ان الله تعالی يخرق في تلك الليلة ماء زمزم الى سائر المياه فمن اغتسل في يوم عاشوراء أمن من ‌المرض ‌فى تلك ‌السنة“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس رات میں زمزم کے پانی کو تمام پانیوں تک پہنچا دیتا ہے، پس جو عاشورہ کے دن غسل کرے گا وہ اس سال بیماری سے محفوظ رہے گا۔ (النور في فضائل الأيام والشهور، المجلس الحادي عشر في فضل عاشوراء، صفحہ 123، مطبوعه دبئی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی ایک دوسری تصنیف میں فرماتے ہیں: ”وقد ذكر أن الله تعالى يخرق في تلك الليلة زمزم إلى سائر المياه فمن استعمل أو اغتسل يومئذ أمن من المرض في جميع السنة، وهذا ليس بحديث بل يروى عن على رضى الله عنه“ ترجمہ: بلا شبہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (عاشورہ) کی رات میں زمزم کو تمام پانیوں میں پہنچا دیتا ہے، تو جو شخص اس دن اسے استعمال کرے یا اس سے غسل کرے، وہ سارا سال بیماری سے محفوظ رہے گا۔ البتہ یہ حدیث نہیں ہے، ہاں اسے حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ (سلوة الأحزان بما روي عن ذوي العرفان، المجلس الاول فی افتتاح العام وفضل يوم عاشوراء ...الخ، صفحہ 101، مطبوعه منشأة المعارف)

علامہ ابو الفداء اسماعیل بن مصطفی حقی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1127ھ / 1715ء) اپنی تفسیر "روح البیان" میں شیخ ابو مدین شعیب بن عبد اللہ حریفیش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 810ھ / 1407ء) کی کتاب "الروض الفائق" کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”ذكر ان الله عز وجل يخرق ليلة عاشوراء زمزم الى سائر المياه فمن اغتسل يومئذ أمن من ‌المرض ‌فى ‌جميع ‌السنة“ ترجمہ: ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ عزوجل عاشورہ کی رات زمزم کو تمام پانیوں تک پہنچا دیتا ہے، پس جو شخص اس دن غسل کرے وہ پورے سال بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ (روح البيان، سورة هود، جلد 4، صفحہ 142، دار الفكر، بیروت) (الروض الفائق في المواعظ والرقائق، المجلس الثانی والاربعون فی فضائل يوم عاشوراء، صفحہ 301، دار المعرفۃ، بیروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: ”محرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بہت ثواب پائے گا۔ بال بچو ں کے لیے دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے تو إن شاء اللہ عزوجل! سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی۔ بہتر ہے کہ کھچڑا پکا کر حضرت شہید کر بلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کر ے، بہت مجرب ہے۔ اسی تاریخ کو غسل کرے تو تمام سال إن شاء اللہ عزوجل! بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زمزم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔“ (اسلامی زندگی، صفحہ 131-132، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1158
تاریخ اجراء: 25 شوال المكرم 1447ھ / 14 اپریل 2026ء