کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی سورج نکلنے کے بعد فجر پڑھائی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لیلۃ التعریس کی صبح نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سورج نکلنے کے بعد نمازِ فجر پڑھائی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سورج نکلنے کے بعد فجر کی نماز پڑھائی تھی؟
جواب
ایک رات جسے لیلۃ التعریس کہا جاتا ہے ، اس میں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی نمازِفجر قضا ہوئی، تو ان حضراتِ قُدسیہ نے سورج طلوع کا مکروہ وقت ختم ہوجانے کے بعد فجر ادا فرمائی تھی اور یہ نماز قضا تھی ، ادا نہیں تھی۔
حدیث پاک میں ہے:
” كنا مع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم في بعض أسفاره فنام عن الصبح حتى طلعت الشمس فاستيقظ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فقال: تنحوا عن هذا المكان، قال: ثم أمر بلالا فأذن، ثم توضئوا وصلوا ركعتي الفجر، ثم أمر بلالا، فأقام الصلاة فصلى بهم صلاة الصبح“
ترجمہ: ہم رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو آپ صبح میں سوئے رہے، حتٰی کہ سورج طلوع ہوگیا، تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیدار ہوئے اور ارشاد فرمایا، اس جگہ سےہٹ جاؤ (اس مقام سے آگے بڑھنے کا حکم دیا)، راوی کہتے ہیں، پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اذان دی اور لوگوں نے وضو کرکے فجر کی دو رکعتیں(سنتیں) ادا کیں، پھرنبی پاک عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم دیا، تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو نمازِ فجر پڑھائی۔(سنن أبی داود، کتاب الصلاۃ، باب فی من نام عن الصلاۃ، جلد1، صفحہ 76، مطبوعہ لاہور)
مذکورہ واقعہ کے متعلق مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :”خیال رہے کہ حضور کی آنکھ سوتی تھی دل بیدار رہتا تھا مگر سویرا، اندھیرا، اجیالا دیکھنا آنکھ کا کام ہے نہ دل کا،لہٰذا یہ واقعہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا نہیں کرتی اسی لیے نیند سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضونہیں ٹوٹتا۔آج نماز کی قضا غفلت سے نہ ہوئی بلکہ رب نے اپنے پیارے کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور ادھرسے توجہ ہٹا لی تاکہ امت کو قضاءپڑھنے کے احکام معلوم ہوجائیں،لہٰذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔“(مراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ 424، نعیمی کتب خانہ ، گجرات)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2389
تاریخ اجرا: 20صفرالمظفر1447ھ/15اگست2025ء