logo logo
AI Search

کیا نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک کا سایہ تھا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے موئے مبارک کےسائے کے متعلق وضاحت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کا سایہ تھا؟

جواب

حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہیں تھا، اس سے واضح ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کا بھی سایہ نہیں تھا۔

کتاب تبرکاتِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں شیخ محمد طاہر بن عبد القادر بن محمود السکردی المکی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک کے سائے کے حوالے سے لکھتے ہیں: مشہور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ بال منڈائے اور دونوں دفعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کچھ موئے مبارکہ سرعت کے ساتھ حاصل کئے۔ اور صحابہ کرام اپنی اولاد کو وصیت کرتے تھے کہ کچھ موئے مبارکہ ان کے ساتھ دفن کئے جائیں اور بعض کی حفاظت کا کہتے۔ یہ موئے مبارکہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔ حتی کہ سلطان عبد الحمید کا دور آ گیا یعنی 1335ھ بہت سے لوگ گمان کر رہے تھے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارکہ کے مالک ہیں۔ بادشاہ مجبور ہو گیا کہ اس معاملہ کی چھان بین کرے۔ چنانچہ سلطان عبد الحمید نے علماء کو بلایا اور ان کے سامنے صورت حال رکھی۔ علماء میں شیخ اسعد الشقیری سید احمد شقیری کے والد موجود تھے انہوں نے اصل اور نقل کا فرق واضح کرنے کیلئے ایک دقیق طریقہ پیش کیا کہ، تاریخ دان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دھوپ میں ہوں یا چاندنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم نورانی کا زمین پر سایہ نہ پڑتا تھا۔ شیخ شقیری نے کہا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے جسم نورانی کا سایہ بھی نہ تھا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارکہ کا سایہ بھی نہ ہوگا۔ اس طرح اصل اور نقل کا فرق واضح ہوگیا، جن لوگوں کے پاس اصل موئے مبارکہ تھے انہیں اسناد دی گئیں۔ دمشق کے موئے مبارکہ جو اصل نکلے امام سعدالدین کو دئیے گئے اور کچھ موئے مبارکہ شیخ مولوی جلال الدین رومی کو دئیےگئے۔ (تبرکاتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم، صفحہ 64-65، مرکز اشاعت اسلام فیضان نقشبند، لاہور)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، یہ بات احادیث مبارکہ اوراقوال علماء سے ثابت ہے۔ اس کے بارے میں درج ذیل لنک سے فتوے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4776
تاریخ اجراء: 07رمضان المبارک1447ھ / 25 فروری 2026ء