کیا اولیاء کرام کو بھی علمِ غیب حاصل ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا اولیائے کرام کو علم غیب حاصل ہوتاہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی فتوی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا اولیائے کرام کو بھی علم غیب حاصل ہوتاہے؟ اگر ہوتا ہے تو ان پر تو وحی آنے کا سلسلہ بھی نہیں ہوتا، پھر انہیں غیب کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جواب
اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبیوں کو غیب کا علم عطا فرمایا اور پھر سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واسطے اور فیضان سے بعض محبوبانِ خدا اور اولیاء اللہ کو بھی بعض غیوب کا علم عطا کیا جاتا ہے، البتہ ان کا علم نبی علیہ السلام کے علم کے سمندر کا ایک قطرہ ہوتا ہے، نیز انبیائے کرام علیہم السلام کا علم وحی سے حاصل ہونے کی بنا پر قطعی ہوتا ہے، جبکہ اولیائے کرام کا علم کشف و الہام وغیرہ پر مبنی ہونے کی بنیاد پر ظنی ہوتا ہے، یونہی نبی وحی کی بنیاد پر جو غیب کی خبر دے اس کا انکار کفر ہوتا ہے، جبکہ ولی اگر غیب کی بنیاد پر کوئی خبر دے، تو اس کا انکار کفر و گمراہی نہیں۔
باقی رہا یہ سوال کہ اولیاء کی طرف وحی نہیں آتی، تو انہیں غیب کا علم کیسے حاصل ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر نبی کے لئے کئی ایسے ذرائع موجود ہیں، جن سے انہیں غیب کا علم حاصل ہوسکتا ہے، جیسے (1) کسی نبی علیہ السلام کے بتانے سے، (2) فرشتے کے ذریعے، (3) سچے خواب (رؤیا صالحہ) کے ذریعے، (4) الہام (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے دل میں بات ڈالے جانے) کے ذریعے، (5) کشف (اللہ تعالی کی طرف سے حجابات اٹھا دیئے جائیں کہ جس کی وجہ سے وہ چیزیں بھی دکھائی اور سنائی دی جانے لگیں جو کہ عام طور پر ان حواس سے دکھائی اور سنائی نہیں دیتی) و فراست (ظاہری صورتوں میں غور و فکر کے نتیجے میں حقیقت تک پہنچ جانا) یا لوحِ محفوظ پر مطلع کیے جانے وغیرہ کے ذریعے، لہذا اولیاء اللہ کو بھی ان ذرائع سے غیب کا علم عطا ہوتا ہے۔
اب ہم اولاً اولیاء اللہ کے لئے علم غیب کے حاصل ہونے پر قرآن و حدیث سے دلائل پیش کریں گے اور آخر میں سورہ جنّ کی ایک آیت سے بظاہر پیدا ہونے والے ایک اشکال اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔
مختلف ذرائع سے اولیائے کرام کو علم غیب کے حصول پر قرآن سے دلائل:
قرآن مجید میں اس طرح کی متعدد آیات موجود ہیں جن میں اولیاء اللہ کے لئے علم غیب کا ثبوت ملتا ہے، تاہم ہم یہاں اختصارا صرف چار آیات پیش کریں گے۔
(1) حضرت جبریل امین علیہ السلام نے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو ان کے یہاں ایک بیٹے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کی خبر دی۔ یہ غیب کی خبر ہے کیونکہ یہ علم کہ بیٹا پیدا ہوگا یا بیٹی، اس چیز کا تعلق علوم خمسہ سے ہے یعنی وہ پانچ چیزیں جن کے غیبی علم ہونے کا ذکر ایک ہی آیت میں جمع کردیا گیا ہے۔ علومِ خمسہ میں سے ہونے کے باوجود یہاں یہ غیب کی خبر فرشتے کے ذریعے حضرت مریم رضی اللہ عنھا کو دی گئی اور حضرت مریم رضی اللہ عنھا نبی نہیں بلکہ ولیہ ہیں۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے بی بی مریم رضی اللہ عنھا سے فرمایا: ”اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا“ ترجمہ: میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں آپ کو ایک ستھرا بیٹا دوں۔ (پارہ 16، سورہ مریم، آیت 19)
(2) اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے ان کے یہاں حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خبر دی اور یہ خبر حضرت سارہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی سن لی، یوں فرشتوں کے ذریعے یہ غیب انہیں بھی حاصل ہوگیا اور یہ بات واضح ہے کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنھا ولیہ ہیں۔
ارشاد ربانی ہے: ”قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(28) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ“ ترجمہ: (فرشتوں نے) عرض کی: آپ نہ ڈریں اور انہوں نے اسے ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی۔ تو ابراہیم کی بیوی چلاتی ہوئی آئی پھر اپنے چہرے پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا بوڑھی بانجھ عورت (بچہ جنے گی۔) (پارہ 26، سورہ الذریت، آیت 28 - 29)
(3) بالکل اسی طرح حضرت زکریا کو فرشتوں نے ان کے یہاں حضرت یحیی علیہما السلام کے پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی اوران کے ذریعے یہ خبر ان کی اہلیہ کو بھی ہوگئی، لہذا یہ بذریعہ فرشتہ اور نبی علیہ السلام کی وساطت سے غیب حاصل ہونے کی مثال ہے۔ ارشاد خدواندی ہے: ”یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ-ﹰ اسْمُهٗ یَحْیٰى‘‘ اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (پارہ 16، سورہ مریم، آیت 07)
(4) یونہی اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق آئندہ پیش آنے والے واقعات کی خبر پہلے ہی دے دی، اور آئندہ کیا ہونے والا ہے، اس کا تعلق بھی غیب سے ہے اور مفسرین کے مطابق یہاں یہ غیب الہام، خواب یا پھر فرشتے کے ذریعےعطا کیا گیا۔
اللہ رب العزت سوره قصص میں ارشاد فرماتا ہے: ”وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْن“ ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو اِلہام فرمایا کہ اسے دودھ پلا پھر جب تجھے اس پر خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور خوف نہ کر اور غم نہ کر، بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔ (پارہ 20، سورہ قصص، آیت 07)
تفسير نسفی میں ہے: ”﴿و اوحينا الى ام موسى﴾ بالإلهام أو بالرؤيا أو بإخبار ملك كما كان لمريم و ليس هذا وحي رسالة و لا تكون هي رسولا“ یہاں یہ خبر الہام، خواب یا پھر فرشتے کے بتانے کے ذریعے دی گئی جیسا کہ حضرت مریم کو دی گئی تھی یہ وحی رسالت نہ تھی اور نہ ہی حضرت موسی کی والدہ رسول۔ (تفسیر نسفی، ج 02، ص 628، دار الكلم الطيب، بيروت)
مختلف ذرائع سے اولیائے کرام کو علمِ غیب حاصل ہونے پر احادیث سے دلائل:
اسی طرح مذکورہ عقیدے پر کتب احادیث میں بھی روایات کا ایک ذخیرہ موجود ہے تاہم اختصاراً یہاں صرف چار روایات پیش کی جائیں گی۔
(1) غیر نبی کو سچے خواب کے ذریعے بھی علم غیب حاصل ہوسکتا ہے، نیز اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کا واقعہ بھی موجود ہے جس میں انہوں نے غزوہ احد سے پہلے ایک رات اپنے بیٹے کو بلا کر بتادیا تھا کہ میں اولین شہداء میں سے ہوں گا اور پھرصبح ہوئی تو ویسا ہی ہوا جیسا انہوں نے فرمایا تھا۔واضح رہےکہ کون کس طرح وفات پائے گا، بلکہ مستقبل کی ہر شے کے متعلق علم کا تعلق ، غیب ہی سے ہے اور صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کا علم عطا کردیا گیا تھا۔ نیز علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے اس کے تحت فرمایا کہ واقدی کے مطابق حضرت جابر کے والد نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کویہ بتائی تھی کہ تم شہید ہوجاؤگے، لہذا اس کے مطابق یہ نبی علیہ السلام اور خواب دونوں کے ذریعے غیب معلوم ہونے کی مثال ہے۔
صحیح مسلم میں ہے: ”عن ابی ھریرۃ عن النبي ﷺ قال: و رؤيا المسلم جزء من خمس و أربعين جزءا من النبوة“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا (اچھا) خواب نبوت کے پینتالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ (صحیح مسلم،ج 07، ص 54، رقم 2263، دار الطباعة العامرة، تركيا)
اس حدیث کے تحت شرح النووی علی مسلم میں ہے: ”و يحتمل أن يكون المراد أن المنام فيه إخبار الغيب“ اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ خواب میں غیب کی خبر دی جاتی ہے۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 15، ص 21، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کے متعلق صحيح بخاری میں ہے: ”عن جابر رضي الله عنه قال: لما حضر أحد، دعاني أبي من الليل فقال: ما أراني إلا مقتولا في أول من يقتل من أصحاب النبي ﷺ،... فأصبحنا، فكان أول قتيل“ مفہوم اوپر گزر چکا۔ (صحیح البخاری، ج 02، ص 96، رقم 1351، السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)
اس کے تحت علامہ سیوطی لکھتے ہیں: ”و في المستدرك عن الواقدي: أن سبب ظنه ذلك منام راه، أنه رأى مبشر بن عبد المنذر و كان ممن استشهد ببدر يقول له: أنت قادم علينا في هذه الأيام، فقصها على النبي - ﷺ -، فقال: هذه شهادة“ اور مستدرک میں واقدی سے روایت ہے کہ اس گمان کی وجہ ایک خواب تھا، جو انہوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ مبشر بن عبد المنذر جو غزوہ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان سے کہہ رہے ہیں: تم ان دنوں میں ہمارے پاس آنے والے ہو۔ تو انہوں نے یہ خواب نبی کریم ﷺ سے بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شہادت ہے۔ (التوشیح، ج 03، ص 1111، مكتبة الرشد، الرياض)
(2) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے بذریعہ الہام اپنی زوجہ کے حمل کے متعلق پہلے ہی بتادیا تھا کہ اس سے بیٹی پیدا ہوگی، اور آپ کے وصال کے بعد اس سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنھا پیدا ہوئیں۔
مؤطا امام مالك میں ہے: ”عن عائشة زوج النبي ﷺ، أنها قالت: إن أبا بكر الصديق قال ذو بطن بنت خارجة، أراها جارية“ حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنت خارجہ حاملہ ہیں، میرا گمان ہے کہ اس سے لڑکی پیدا ہوگی ۔ (مؤطا امام مالک بروایۃ یحیی، ج 02، ص 752، رقم 40، دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان)
تاریخ الخلفاء میں یہ واقعہ ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ بیان ہوا: ”و قد ألقى في روعي أنها جارية، فاستوصى بها خيرا، فولدت أم كلثوم“ اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ وہ لڑکی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، چنانچہ اس کے ہاں ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ (تاریخ الخلفاء،ج 01، ص 67، مكتبة نزار مصطفى الباز)
(3) کشف کے ذریعے غیب کے حصول پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے حضرت ساریہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر نہاوند کی طرف روانہ فرمایا۔ جن دنوں یہ لشکر برسر پیکار تھا، اس دوران ایک دن اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بلند آواز سے فرمایا: یا ساریۃ الجبل (اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پشت کرلو)۔ حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ تو سرزمین نہاوند میں معرکے میں مصروف ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔ آج امیر المومنین نے انہیں کیسے پکارا؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہمیں شکست ہونے لگی، اتنے میں اچانک ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو بہت بلند آواز سے یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔
مذکورہ روایت کو بیان کرنے کے لئے مشكاة المصابيح میں یہ الفاظ مذکور ہوئے ہیں: ”و عن ابن عمر أن عمر بعث جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب فجعل يصيح: يا أمير المؤمنين لقينا عدونا فهزمونا فإذا بصائح يصيح: يا ساري الجبل. فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم اللہ تعالى“ ترجمہ تشریح کے ضمن میں گزرچکا۔ (مشکاۃ المصابیح، ج 03، ص 1678، رقم 5954، المكتب الإسلامي، بيروت)
(4) غیب کے حصول کا ایک ذریعہ فراست بھی ہے اوراس پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک واقعہ بھی موجود ہے کہ جس میں آپ نے اپنے پاس آنے والے ایک شخص کو دیکھ کر پہچان لیا تھا کہ یہ نامحرم عورت کو غور سے دیکھ کر آیا ہے اور آپ نےاسے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے پاس کچھ لوگ اس حالت میں آتے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں زنا کے آثار ہوتے ہیں۔
فراست مؤمن کے متعلق سنن ترمذی میں ہے: ”قال رسول اللہ صلي اللہ عليه و سلم: اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور اللہ“ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ (سنن الترمذی، ج 05، ص 355، حدیث 3392، دار الرسالة العالمية)
مرقاه المفاتيح ميں ہے: ”و الفراسة علم ينكشف من الغيب بسبب تفرس آثار الصور، اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللہ“ یعنی فراست ایک ایسا علم ہے جو غیب کی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، اس طرح کہ ظاہری صورتوں کے آثار میں غور و فکر کے ذریعے حقیقت تک پہنچا جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: مومن کی فراست سے ڈرو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ (مرقاه المفاتیح شرح مشكاة المصابيح، ج 01، ص 280، دار الفكر، بيروت)
طبقات الشافعيۃ الكبری ميں ہے: ”دخل إليه رجل كان قد لقى امرأة في الطريق فتأملها فقال له حضرت عثمان بن عفان يدخُل أحدُكم و في عينيه أثرُ الزنا فقال الرجل أوحيَ بعد رسولِ اللہ ﷺ قال لا و لكنه فراسة“ مفہوم اوپر گزر چکا۔ (طبقات الشافعيۃ الكبری، ج 02، ص 327، هجر للطباعة و النشر و التوزيع)
اولیاء اللہ کو حاصل ہونے والے غیوب عام طور پر فراست یا خواب وغیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ظنی ہوتے ہیں۔ مرام الکلام میں ہے: اولیاء کا غیب کی خبر دینا۔ اس کے تین حل ہیں، پہلا حل یہ کہ یہ ظنی خبریں ہیں، جو وہ فراست یا خواب سے استنباط کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ حق سبحانہ تعالی ان کے حواس پر معلومات کھول دیتا ہے، مثلاً: حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نہاوند کے مقام پر لشکر کو دیکھنا اور حضرت ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ان کی بات کو سننا۔ تیسرا یہ کہ ان پر لوح محفوظ اور عالم کے واقعات منکشف ہوجاتے ہیں یہ بات محققین کے نزدیک حق ہے۔ (مرام الکلام مترجم، ص 201، فرید بک اسٹال)
شرح عقائد مع النبراس میں ہے: ”(و من حکمہ قطعا بموجب المعجزات) ای لا بد من ان یکون حکم النبی قطعیا مفید للیقین بمقتضی معجزاتہ الدالۃ علی صدقہ (بخلاف الولی) فانہ لیس خبر الولی مقطوع الصدق فقد یغلط الکشف“ معجزات کی بنیاد پر نبی علیہ السلام کا حکم قطعی ہوتا ہے، یعنی ضروری ہے کہ نبی کا حکم یقین پیدا کرنے والا ہو، کیونکہ اس کے معجزات اس کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف ولی کا معاملہ ہے، کیونکہ ولی کی خبر قطعی طور پر سچی نہیں ہوتی، اس کے کشف میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ (شرح العقائد مع النبراس، ص 481، مطبوعہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے: عُلومِ غیبیہ ان (اولیاء) پر منکشف ہوتے ہیں، ان میں بہت کو مَا کَانَ وَ مَا یَکُوْن اور تمام لوحِ محفوظ پر اطلاع دیتے ہیں، مگر یہ سب حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطہ و عطا سے، بے وِساطَت رسول کوئی غیرِ نبی کسی غیب پر مُطّلع نہیں ہوسکتا۔ (بہار شریعت، ج 01، ص 268، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جاء الحق میں ہے: حضور علیہ السلام کے صدقے سے اولیائے کرام کو بھی علم غیب دیا جاتا ہے۔ مگر ان کا علم نبی علیہ السلام کے واسطے سے ہوتا ہے اور ان کے علم کے سمند ر کا قطرہ۔ (جاء الحق مع سعید الحق، ص 244، مکتبہ غوثیہ)
(2) سورہ جن کی ایک آیت سے پیدا ہونے والا شبہ اور اس کا جواب:
سورہ جن کی آیت 26 اور 27: ”عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ ترجمہ کنز الایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (پارہ 29، سورۃ الجن، آیت نمبر 26 : 27) سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ غیب کا علم رسولوں کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہوسکتا، کیونکہ آیت میں صرف رسولوں کا ذکر ہوا جس کا واضح مطلب ہے کہ غیر رسول کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے متعدد آیات و احادیث ذکر کی جا چکی ہیں، جن میں غیرِ رسول کو بھی بعض غیب کے حاصل ہونے کا ثبوت موجود ہے، اور صرف یہی چند دلائل نہیں، بلکہ قرآن و حدیث میں اس پر مزید دلائل بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اگر سورۂ جن کی اس آیت کا یہ مطلب لیا جائے کہ غیرِ رسول کو مطلقاً علمِ غیب حاصل نہیں ہوتا، تو یہ ان تمام آیات و احادیث کے خلاف ہوگا جو اوپر مذکور ہوئیں اور اس سے قرآن مجید کے مفاہیم میں بظاہر تعارض اور تضاد کی صورت بھی پیدا ہوگی، حالانکہ قرآنِ مجید ہر قسم کے معانی کے تضاد سے پاک ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس آیت کا ایسا معنی لیا جائے جو کہ دیگر آیات و احادیث کے خلاف نہ ہو، اس کے پیش نظر علمائے اہلِ سنت نے بیان فرمایا یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ رسولوں کے سوا کسی کو غیب نہیں بتاتا جس سے مُطْلَقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے، بلکہ یا تو یہاں رسولوں کے ساتھ مخصوص و مختص قسم کا غیب مراد ہے، یعنی کچھ غیب ایسے ہیں جو غیرِ رسول کو نہیں بتائے جاتے، یا اس سے خاص وقوعِ قیامت کا وقت مراد ہے کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتا اور یہ معنی لینے پر قرینہ یہ ہے کہ اس سے پہلی والی آیت میں خاص قیامت کے غیب ہی کا ذکر ہے۔ تو آیت سے صرف اتنا مطلب نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص قیامت کے وقت کی تعیِین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب جانتے ہی نہیں۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اولیاء کے لئے غیب کا علم نہ ماننے والوں کا رد: معتزلہ فرقے کے لوگوں نے اس آیت سے اولیاء کے لئے علم غیب ماننے سے انکار کیا ہے۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’شرح مقاصد‘‘ میں باطل فرقے ’’معتزلہ‘‘ کی جانب سے اولیاء کی کرامات سے انکار اور ان کے فاسد شُبہات کا ذکر کر کے ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علمِ غیب کے بارے میں ہے، وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: (’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًا، اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو)، جب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں۔ ائمہ اہلسنّت نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مُطْلَقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے، بلکہ یہ تو مُطْلَق ہے (یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیرِ رسول کو نہیں معلوم ہوتے) یا اس سے خاص وقوعِ قیامت کا وقت مراد ہے (کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے) اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب قیامت ہی کا ذکر ہے۔ (تو آیت سے صرف اتنا مطلب نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص قیامت کے وقت کی تعیِین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتے، اس پر اگر یہ شُبہ قائم ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ تو رسولوں کا اِستثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مُطّلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے قیامت کے وقت کی تعیین مراد لیں تو رسولوں کا بھی اِستثناء نہ رہے گا کہ یہ تو اُن کو بھی نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب یہ فرمایا کہ) فرشتوں یا انسانوں میں سے بعض رسولوں کو قیامت کے وقت کی تعیین کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو یہاں اللّٰہ تعالیٰ کا اِستثناء فرمانا ضرور صحیح ہے۔
علامہ احمد صاوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: اولیائے کرام کی جن کرامات کا تعلق کشف کے ساتھ ہے ان کی نفی پر اس آیت میں کوئی دلیل نہیں البتہ یہ (ضرور ثابت ہوتا) ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کی غیب پر اطلاع اولیائے کرام کی غیب پر اطلاع سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ انبیائےکرام علیہم الصلاۃ و السلام وحی کے ذریعے غیب جانتے ہیں اوروہ ہر نقص سے معصوم ہے جبکہ اولیائے کرام کی اطلاع کا یہ مقام نہیں، اسی لئے انبیائےکرام علیہم الصلاۃ و السلام کی عصمت واجب ہے اور اولیائے کرام کی عصمت جائز ہے (جو حقیقت میں حفاظت کہلاتی ہے)۔
علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے، مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و اِنجلاء (یعنی غیب کی باتوں کو ظاہر کرنے کے اعتبار سے) اولیاء کے علم سے بہت بلند و بالا و اَرفع و اعلیٰ ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وَساطت اور انہی کے فیض سے ہوتے ہیں، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کیلئے علمِ غیب کا قائل نہیں، اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تَمَسّک (یعنی دلیل پکڑنا) صحیح نہیں، بیانِ مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے، سیّدُ الرُّسُل خاتَم الانبیاء محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اَشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر اَحادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کیلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 10، صفحہ 405 تا 406، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
کسی آیت کا ایسا مفہوم جو تناقض کی طرف لے جائے، ناقابل قبول ہے۔ عظيم مفسر علامہ ابو حفص سراج الدین عمر بن علی دمشقی المعروف ابن عادل اپنی تفسیر اللباب میں لکھتے ہیں: ”إنما يجوز تأويل كلام الله بما لا يؤدي إلى وقوع التناقض و الركاكة فيه“ بلاشبہ کلام اللہ کا صرف ایسا معنی و مفہوم بیان کرنا ہی جائز ہے جوکہ اس میں تناقض اور رکاکت کی طرف نہ لے جائے۔ (اللباب فی علوم الکتاب، ج 17، ص 109، دار الكتب العلميہ، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0740
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1447ھ / 14 اپریل 2026ء