logo logo
AI Search

حضرت امیر معاویہ کو خال المومنین کیوں کہا جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے خال المومنین کے لقب کا حوالہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو امت کا ماموں کہا گیا ہے؟

جواب

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے سُسرالی رشتہ داری کا شرف بھی حاصل ہے، یوں کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا، سرورِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی مقدَّس زوجہ اور اُمّ المؤمنین (مومنوں کی مقدَّس ماں) ہیں۔ اِسی پاکیزہ نسبت اور تعلّق کو بیان کرنے کے لئے کئی علماء اور محدِّثین کرام رحمۃُ اللہ علیھم اَجمعین نے حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے خَالُ الْمُؤْمِنِیْنَ کا لقب استعمال فرمایا ہے، جس کا معنیٰ مومنوں کے ماموں ہے۔

چنانچہ جامع المَعقول والمنقول حضرت علامہ عبد العزیز پرہاروی قُدِّسَ سِرُّہ نے اپنی کتاب النِبراس میں تحریر فرمایا:

کَانَ اُخْتُہُ اُمُّ حَبِیْبَۃَ رضی اللہ عنھا زَوْجَ النَبِیّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ترجمہ: حضرتِ امیر مُعاوِیہ رضی اللہ عنہ کی بہن اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنھا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارَکہ ہیں۔ (النبراس شرح شرح العقائد، صفحہ 307، مطبوعہ: استنبول)

اِسی پاکیزہ نسبت اور تعلّق کے سبب آپ رضی اللہ عنہ کو خَالُ الْمُؤْمِنِیْنَ کا لقب دیا گیا، چنانچہ محقّقِ اہلسنت شیخ علی بن سُلطان المعروف مُلّا علی قاری علیہ رحمۃُ اللہ الغنی نے مشکاۃ شریف کی شرح مِرقاۃُ المفاتیح میں حضرتِ امیر مُعاوِیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردَہ ایک حدیثِ پاک کی تشریح کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خال المؤمنین کے الفاظ تحریر فرمائے ہیں، عبارت ملاحظہ ہو:

(وعن معاویۃ) اَیْ ابن اَبی سفیان، وَ ھُوَ خَالُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، جلد 8، صفحہ 3258، حدیث: 5203، مطبوعہ: بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4699
تاریخ اجراء: 11شعبان المعظم1447ھ / 31جنوری2026ء