logo logo
AI Search

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مردے زندہ کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں کو زندہ کیا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ پاک نے حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ مُردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے، جبکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود سراپا معجزہ ہیں، تو کیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی مُردوں کو زندہ فرمایا؟ سائل: (سلمان، فیصل آباد)

جواب

چند روایات موجود ہیں جن سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مُردوں کو زندہ فرمایا۔ اس حوالے سے چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

(1)نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے والدین کریمین کو زندہ کر کے انہیں اپنی امت میں داخل فرمایا، چنانچہ علامہ ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله سہیلی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سال وفات: 581ھ) لکھتے ہیں:

”عن عائشةرضي الله عنها اخبرت ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سال ربه ان يحيي ابويه فاحياهما له وآمنا به ثم اماتهما“

ترجمہ: حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب ِ کریم سے دعا کی کہ وہ ان کے والدین کو زندہ فرمائے، تواللہ پاک نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خاطر آپ کے والدین کو زندہ فرمایا، وہ آپ پر ایمان لائے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ (الروض الانف، جلد2، صفحہ 187، مطبوعہ دار احياء التراث العربي، بيروت)

حدیثِ ابوین "یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے والدین کریمین کو زندہ فرمایا" ثابت ہے، اس سے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اکابر ائمہ کرام اعاظم محدثین اعلام مثل، امام ابن عساکر، وامام ابن شاہین، وابو بکر خطیب بغدادی، وامام سہیلی، وامام محب الدین طبری، و علامہ ناصرالدین ابن المنیر، وعلامہ ابن سید الناس، وحافظ ابن ناصر، وخاتم الحفاظ، وعلامہ زرقانی وغیرہم نے حدیثِ احیاءِ ابوین کریمین کو باوصف تسلیم ضعف دربارہ فضائل ایسا معمول ومقبول مانا کہ اسے احادیث سے کہ بظاہر مخالف تھیں متاخر ٹھہرا کر اُن کا ناسخ جانا، تو خود اس باب میں حدیث صحیح کی حاجت درکنار اُس کے مقابل کی صحاح اُس سے منسوخ ٹھہرائیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد05، صفحہ596-595، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(2)ایک شخص کے عرض کرنے پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُن کی بیٹی کی قبر پر تشریف لے گئے اور اُسے زندہ فرمایا، چنانچہ علامہ ابو الفضل قاضی عیاض بن موسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ( سال وفات: 544ھ) اپنی کتاب "الشفا بتعریف حقوق المصطفی" میں، شارح بخاری علامہ احمد بن محمد قسطلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 923ھ) " المواہب اللدنیہ " میں، علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 972ھ) "اشرف الوسائل الی فہم الشمائل" میں اور علامہ علی بن ابراہیم بن احمد حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1044ھ) " السيرة الحلبیہ" میں لکھتے ہیں،

واللفظ للقسطلانی:”روى البيهقى فى الدلائل: انه صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم دعا رجلا الى الاسلام فقال: لا اؤمن بك حتى تحيى لى ابنتى فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم: ارنى قبرها فاراه إياہ فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم: يا فلانة، فقالت: لبيك وسعديك، فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم: اتحبين ان ترجعى الى الدنیا فقالت: لا واللہ يا رسول اللہ، انى وجدت اللہ خيرا لى من أبوى ورأيت الآخرة خيرا لى من الدنيا“

ترجمہ: امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کو دعوتِ اسلام دی۔ اس نے کہا کہ میں آپ پر ایمان نہیں لاتا یہاں تک کہ آپ میری بیٹی زندہ کریں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ اس نے اپنی بیٹی کی قبر دکھائی، تو آقا عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام نے اس کا نام لےکر پکارا۔ اس لڑکی نے جواب دیا: لبیک و سعدیک (میں حاضرہوںنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کیا تُو پسند کرتی ہے کہ دنیا میں پھرآجائے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !اللہ کی قسم! میں نے ربِ کریم کو والدین سے بہتر پایا اور اپنے لیے آخرت کو دنیا سے بہتر پایا۔ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، جلد2، صفحہ296، مطبوعہ المكتبة التوفيقية، القاهرة)

(3)پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صحابیِ رسول، حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے گھر مہمان بن کر تشریف لے گئے، تو حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک بکری کا بچہ ذبح کرکے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ اسی دوران ان کے دو نوں بچے چھری لے کر چھت پر جاپہنچے۔ ان کےبڑے بیٹے نے یہ دیکھ کر کہ باپ نے بکری کے بچہ کو کیسے ذبح کیا ہے، اپنے چھوٹے بھائی کو لٹا کر گلے پر چُھری پھیر دی۔ ان کی والدہ محترمہ یہ منظر دیکھ کر اس کے پیچھے دوڑیں، تووہ ڈر کر بھاگا اور چھت سے گر کر فوت ہوگیا۔ اس صابرہ خاتون نے کسی قِسم کا واویلا نہ کیا تاکہ رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پریشان نہ ہوجائیں۔ دونوں بچوں کی لاشیں اندر لا کر کپڑے سے ڈھانپ دیں۔ جب کھانا پیش کیا گیا، تو اسی وقت حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلامنے حاضِر ہوکر عرض کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جابر اپنے بچوں کو بلائیں تاکہ وہ بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف حاصل کریں۔ جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بچوں کو بلانے کا فرمایا، تو انہیں حقیقت ظاہر کرنی پڑی اوردونوں بچوں کی لاشیں حضور ِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں میں رکھ دیں۔ اللہ پاک کی طرف سے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کی! اللہ پاک فرماتا ہے: آپ دعا کریں، ہم ان بچوں کو زندہ کر دیں گے۔ حُضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُعا فرمائی اور اللہ پاک کے حکم سے دونوں بچے فوراً زندہ ہو گئے۔

چنانچہ تاريخ الخمیس فی احوال انفس النفيس میں ہے:

”عن جابر بن عبد الله انه دعا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ذات يوم الى القرى فاجابه النبى صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ففرح جابر فدخل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فجلس وكان لجابر داجن فذبحه ليشويه وكان له ابنان فقال كبيرهما للصغير هلم اورك كيف ذبح ابى الحمل فاضجع الصغير وربط يديه ورجليه فذبحه وحز راسه وجاء به الى امه فلما رأته امه دهشت وبكت فخاف الصبى وهرب على السطح فتبعته امه فزاد خوفه فرمى نفسه من السطح فهلك فسكتت المراة وادخلت ابنيها البيت وغطتهما بمسح فى ناحية من البيت واشتغلت بطبخ الحمل وكانت تخفى الحزن وتظهر السرور ولم يعلم جابر ما وقع فلما تم الطبخ وقرب الى رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اتى جبريل وقال يا محمد ان اللہ يامرك ان تاكل مع اولاد جابر فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ذلك لجابر فطلب جابر ابنيه فقالت امراته انهما ليسا بحاضرين فاخبر جابر بذلك رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فقال ان اللہ يامرك باحضارهما فرجع جابر الى امراته واخبرها بذلك فعند ذلك بكت المراة وكشفت الغطاء عنهما فلما رآهما جابر تحير وبكى واخبر بذلك رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فنزل جبريل وقال يا محمد ان اللہ يامرك ان تدعو لهما ويقول منك الدعاء ومنا الاجابة والاحياء فدعا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فحييا باذن اللہ تعالى“

ترجمہ: مفہوماً واقعہ بیان کیا جا چکا۔ (تاريخ الخميس في احوال انفس النفيس، جلد1، صفحہ500، مطبوعہ دار صادر، بيروت)

اسی روایت کو شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ(سالِ وفات: 1052ھ) نے بھی لکھا۔ (مدارج النبوة مترجم، جلد1، صفحہ260، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر:FSD- 9635

تاریخ اجراء:28 جمادلی الاولیٰ 1447ھ/20 نومبر 2025 ء