انبیاءِ کرام کی تدفین کہاں ہوتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی تدفین کے متعلق وضاحت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک خطیب صاحب نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ پاک کے نبیوں کا جس جگہ وصال ہوتا ہے، انہیں اسی مقام پر دفن کیا جاتا ہے۔ جبکہ حضرت یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کا جسم مبارک مصر سے فلسطین منتقل کیا گیا تھا، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟
جواب
حدیثِ پا ک میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ: اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا وصال جس جگہ ہوتا ہے، انہیں وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات حق اور سچ ہے۔ اور جہاں تک حضرت سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے مبارک جسم کی منتقلی کا معاملہ ہے، تو اس کے علماے کرام نے درج ذیل جوابات دئیے ہیں، مثلا:
(الف) اول تو جسم مبارک کی منتقلی والی بات اسرائیلی روایات میں سے ہے، کسی مستندذریعے سے ثابت نہیں، اور جو صحیح روایت ہے کہ ہر نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا جہاں وصال ہوتا ہے، وہیں ان کی تدفین ہوتی ہے، اس کے برخلاف ہے، اس لیے قابل تسلیم نہیں۔
(ب) اور اگر یہ بات ثابت بھی ہو تو پھر یہ کہاجائے گاکہ عمومی قاعدہ تو یہی ہے کہ جس نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا جہاں وصال ہوتا ہے، ان کی تدفین وہیں ہوتی ہے، لیکن حضرت سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ تبارک و تعالی نے اس معاملے سے مستثنی رکھا ہے۔
(ج) اور اس میں حکمت یہ ہے کہ، حدیث پاک کے مطابق ہر نبی علیہ الصلوۃ و السلام کو جہاں تدفین پسند ہوتی، وہیں پر ان کا وصال ہوتا، پس حضرت سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کو یہی پسند تھا کہ اولا آپ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی تدفین مصر میں ہو، اور پھر اس کے بعد کوئی آپ کو منتقل کرنا چاہے تو منتقل کردے، اس لیے آپ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کا وصال مصر میں ہی ہوا، اور وہیں تدفین بھی ہوئی، اور پھر ایک عرصے کے بعد وہاں سے منتقلی بھی ہوگئی۔
کنز العمال میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیثِ پاک ہے
ما مات نبي إلا دفن حيث يقبض
ترجمہ: کسی بھی نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا وصال نہیں ہوا مگر ان کو وہیں تدفن ہوئی، جہاں ان کی روح قبض ہوئی۔ (کنز العمال، جلد 11، صفحہ 475، حدیث 32238، مؤسسۃ الرسالۃ)
مشکاۃ المصابیح میں ہے
قال أبو بكر: سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم شيئا، قال: ما قبض اللہ نبيا إلا في الموضع الذي يحب أن يدفن فيه
ترجمہ: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ پاک نے کسی نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی روح قبض نہ فرمائی مگر اُس جگہ جہاں ان کو دفن ہونا پسند تھا۔ (مشکاۃ المصابیح، جلد 3، صفحہ 1681، حدیث 5963، المکتب الاسلامی)
فتاوی تاج الشریعہ میں ہے جہاں انتقال ہو وہیں دفن کرنا انبیائے کرام کی خصوصیات سے ہے۔ (فتاوی تاج الشریعہ، جلد 4، صفحہ 521، مطبوعہ: بریلی شریف)
عمدۃ القاری میں علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
و قيل: إنما طلب الدنو لأن النبي يدفن حيث يموت و لا ينقل. قيل: فيه نظر، لأن موسى قد نقل يوسف علیھما السلام، إلى بلد إبراهيم الخليل علیہ السلام، قلت: و فيه نظر، لأن موسى ما نقله إلا بالوحي، فكان ذاك مخصوصا به
ترجمہ: کہا گیا ہے کہ حضرت سیدنا موسی علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے بوقت وصال ارضِ مقدس سے قریب ہونا اس لئے طلب کیا کہ کسی بھی علیہ الصلوۃ نبی کی جہاں وفات ہوتی ہے، انہیں وہیں دفن کیا جاتا ہے، اور وہاں سے منتقل نہیں کیا جاتا۔ لیکن اس پر یہ کہا گیا ہے کہ: یہ بات محلِ نظر ہے (یعنی اس پر اعتراض ہوتا ہے)، کیونکہ حضرت سیدنا موسیٰ نے خود حضرت یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کو (مصر سے) منتقل کر کے حضرت ابراہیم خلیل اللہ،علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے شہر (فلسطین) پہنچایا تھا۔ میں (علامہ عینی) کہتا ہوں کہ: یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ نے انہیں (حضرت یوسف علی نبیناوعلیہماالصلوۃ و السلام کو) صرف وحیِ الٰہی کے ذریعے ہی منتقل کیا تھا، لہٰذا یہ معاملہ انہی (حضرت یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام) کے ساتھ مخصوص تھا۔ (عمدۃ القاری، جلد 8، صفحہ 149، مطبوعہ: بیروت)
فیض القدیر میں علامہ عبد الرؤوف مناوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
إكراما له حيث لم يفعل به إلا ما يحبه و لا ينافيه نقل موسى ليوسف من مصر إلى آبائه بفلسطين لاحتمال أن محبة يوسف لدفنه بمصر مؤقتة بقصد من ينقله ويميل إليه
ترجمہ: (جہاں انتقال ہو وہیں تدفین ہونا) یہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اکرام و عزت کے لئے ہے کہ ان کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو انہیں پسند ہو، نیر یہ حدیث حضرت موسی کا حضرت یوسف علی نبیناو علیہماالصلوۃ و السلام کو مصر سے فلسطین، اُن کے آباء کی طرف منتقل کرنے کے منافی نہیں، کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ حضرت یوسف علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کو مصر میں دفن ہونا، ایک مخصوص وقت تک کے لیے پسند ہو یعنی جب تک کہ کوئی ان کو ان کووہاں سے منتقل کرنے کاارادہ نہ کرے اور اس میں رغبت اختیارنہ کرے۔ (فیض القدیر، جلد 5، صفحہ 459، المکتبۃ التجاریۃ، مصر)
شرح الزرقانی علی الموطأ میں ہے
و لذا سأل موسى ربه عند موته أن يدنيه من الأرض المقدسة، لأنه لا يمكن نقله إليها بعد موته۔ ۔۔ فهذا من خصائص الأنبياء كما ذكره غير واحد. قال ابن العربي، و هذا الحديث يرد قول الإسرائيلية أن يوسف نقله موسى من مصر إلى آبائه بفلسطين، إلا أن يكون ذلك مستثنى إن صح، أي و يكون محبة يوسف لدفنه بمصر موقتة بقصد من ينقله
ترجمہ: اسی وجہ سے حضرت موسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ و السلام نے بوقتِ وفاتِ ظاہری، رب عزوجل سے دعا کی کہ انہیں ارضِ مقدس کے قریب کردے، کیونکہ وفات کے بعد منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ تو یہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے خصائص میں سے ہے جیسا کہ کئی علماء نےاسے ذکر کیا ہے۔ امام ابن العربی علیہ الرحمۃ نےفرمایا: اور یہ حدیث (کہ جہاں ان کا وصال ہو، وہیں تدفین ہوتی ہے) اسرائیلیہ کی اس بات کو ردّ کرتی ہے، کہ حضرت موسی نے حضرت یوسف علی نبینا و علیہما الصلوۃ و السلام کو مصر سے فلسطین اُن کے آباء کی طرف منتقل کیا، لیکن اگر وہ بات درست ہے، تو وہ اس سے مستثنی ہے، یعنی حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ و السلام کی مصر میں دفن ہونے کی پسند اس شخص کے قصد کے ساتھ مؤقت ہوگی جو انہیں منتقل کرے۔ (شرح الزرقانی علی الموطأ، جلد 2، صفحہ 95، مطبوعہ: القاھرۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4643
تاریخ اجراء: 25 رجب المرجب 1447ھ /15 جنوری 2026ء