کیا نبیوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی تھی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض ہوتی تھی ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے ؟ اگر ان پر زکوٰۃ فرض نہیں، تو قرآن کریم کی آیت مبارکہ میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول موجود ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ﴿وَاَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ یعنی اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے، جب تک میں زندہ رہوں۔ اس کیا مطلب ہو گا ؟
جواب
انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ اس بات پر علمائے امت سے اجماع منقول ہے۔ کتب میں انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض نہ ہونے کی درج ذیل وجوہات ذکر کی گئی ہیں:
(۱) انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس موجود مال خاص اللہ تعالیٰ کی ملک ہوتا ہے اور ان کے پاس بطور امانت ہوتا ہے، اسی وجہ سے ان کے پاس موجود مال پر وراثت کے احکام جاری نہیں ہوتے، تو جب وہ مال ان کے پاس بطور امانت ہے، تو اس کی زکوٰۃ بھی ان پر لازم نہیں ہو گی۔
(۲) جس سے کسی قسم کے گناہ یا آلودگی کا اندیشہ ہو، زکوٰۃ اُس کے لیے پاکیزگی (کا سبب) ہے، جبکہ انبیائے کرام علیہم السلام گناہوں اور ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک ہیں۔
اور جہاں تک اس آیت مبارکہ کا تعلق ہے کہ جس میں حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے قول کا ذکر ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں زکوٰۃ سے مراد مال کی زکوٰۃ نہیں، بلکہ نفس کی زکوٰۃ یعنی تزکیہ نفس (نفس کو پاک رکھنا) ہے یا پھر احکامِ زکوٰۃ کی تبلیغ کا حکم مراد ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ شرح زرقانی و حاشیہ طحطاوی علی المراقی وغیرہ کتب میں ہے:”والأنبياء لا تجب عليهم الزكاة“ ترجمہ: اور انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، ص 713، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس مسئلے پر علمائے امت کا اجماع ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے: ’’لا تجب على الانبياء إجماعا‘‘ ترجمہ: انبیائے کرام علیہم السلام پر بالاجماع زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ (در مختار، ج 1، ص 126، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”لا زكاة على الأنبياء علیہم السلام لأن الله تعالى نزههم عن الدنيا فما في أيديهم لله تعالى ولذا لا يورثون“
ترجمہ: انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ کا حکم نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا سے پاک رکھا، ان کے پاس جو مال ہوتا ہے، وہ خاص اللہ کی ملک ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے پاس موجود مال کا کسی کو وارث نہیں بناتے۔ (تفسیر روح المعانی، ج8 ، ص 408، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ سید احمد طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”لأنهم لا ملك لهم مع الله إنما كانوا يشهدون أن ما في أيديهم ودائع يبذلونه في أوان بذله ويمنعونه عن غير محله ولأن الزكاة إنما هي طهرة لمن عساه أن يتدنس والأنبياء مبرؤن من الدنس لعصمتهم ذكره السيد وهي طهرة لصاحبها من الذنوب قال الله تعالى: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾“
ترجمہ: اور انبیائے کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا اللہ تعالیٰ کی ملک کے ساتھ ان کی کوئی (ذاتی) ملک نہیں ہوتی، وہ تو اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے، وہ امانت ہے، جنہیں وہ وقتِ ضرورت خرچ کر دیتے اور غیر محل میں استعمال کرنے سے روک کر رکھتے تھے اور اس لیے (بھی) کہ زکوٰۃ درحقیقت اُس کے لیے پاکیزگی (کا سبب) ہے، جس سے گناہ یا آلودگی کا اندیشہ ہو، جبکہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی آلودگی سے پاک ہوتے ہیں۔ سید (مصنف) نے اسے ذکر کیا ہے۔ اور (ان پر زکوٰۃ لازم نہ ہونے کی ایک علت یہ بھی ہے کہ) زکوٰۃ اپنے مالک کے لیے گناہوں سے پاکیزگی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔“ (حالانکہ انبیائے کرام علیہم السلام گناہوں سے معصوم ہیں )۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، ص 713، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ محمد بن عبد الباقی الزرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”لأنهم لا ملك لهم مع الله حتى تجب عليهم الزكاة فيه، وإنما يجب عليك زكاة ما أنت له مالك، إنما كانوا يشهدون ما في أيديهم من ودائع الله لهم يبذلونه في أوان بذله، ويمنعونه في غير محله؛ ولأن الزكاة إنما هي طهرة لما عساه أن يكون ممن وجبت عليه لقوله تعالى: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾ [التوبة: ١٠٣]، والأنبياء عليهم السلام مبرؤون من الدنس، لوجوب العصمة لهم، ولهذا لم يوجب أبو حنيفة على الصبيان زكاة لعدم دنس المخالفة، والمخالفة لا تكون إلا بعد جريان التكليف، وذلك بعد البلوغ. وإذا كان أهل المعرفة بالله والمشاهدون لأحديته لا يشهدون لهم مع الله ملكا كما هو مشهور من حكاياتهم، فما ظنك بالأنبياء والرسل، وأهل التوحيد والمعرفة إنما غرفوا من بحارهم واقتبسوا من أنوارهم“
ترجمہ: کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہوتے ہوئی اپنی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی کہ ان پر اس میں زکوٰۃ لازم آئے، زکوٰۃ تو تم پر اُس مال پر واجب ہوتی ہے، جس کے تم مالک ہو، جبکہ انبیاء علیہم السلام کے پاس جو مال موجود ہوتا تھا، وہ اُسے اللہ کی امانت قرار دیتے تھے، بوقتِ ضرورت اسے اپنی ضرورت پر خرچ کر دیتے اور غیر محل میں خرچ کرنے سے روک لیتے اور زکوٰۃ دراصل اُس گندگی یا میل کو دور کرنے کے لیے ہوتی ہے، جو مال رکھنے والوں سے کبھی لغزش کے طور پر سرزد ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ” اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔“جبکہ انبیاء علیہم السلام اپنی عصمت کے ثبوت کی وجہ سے ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہیں، اسی وجہ سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بچوں پر زکوٰۃ واجب نہیں کی، اس لیے کہ ان میں مخالفتِ شرع کی آلودگی کا عنصر ہی نہیں پایا جاتا اور شرعی احکام کی مخالفت کا حکم مکلف ہونے کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے اور مکلف ہونا بعدِ بلوغ ہوتا ہے اور جب اللہ کے عارفین اور اُس کی وحدانیت کے مشاہدہ کرنے والے یہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت کے ہوتے ہوئے کسی چیز کے مالک نہیں جیسا کہ ان کی حکایات سے مشہور ہے، تو پھر انبیاء و رسل علیہم السلام کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہو گا ؟ اہلِ توحید اور اہلِ معرفت نے تو اپنی معرفت کے سمندر انہیں ہی سے حاصل کیے اور ان کے انوار ہی سے روشنی پائی ہے۔ (شرح الزرقانی علی المواھب، ج 11، ص 202، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سوال میں ذکر کردہ آیت کی توجیہات بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں:
”و اما قولہ تعالیٰ ﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ فالمراد بھا زکاۃ النفس من الرزائل التی لا تلیق بمقامات الانبیاء علیھم الصلاۃ و السلام او اوصانی بتبلیغ الزکاۃ و لیس المراد زکاۃ الفطر لان مقتضی جعل عدم الزکاۃ من خصوصیاتھم انہ لا فرق بین زکاۃ المال و البدن “
ترجمہ: اور رہا اللہ تعالیٰ کا فرمان: ”اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔“ تو اس سے مراد نفس کو ان رزائل سے پاک کرنا ہے کہ جو انبیائے کرام علیہم السلام کے بلند مقامات کے لائق نہیں یا پھر اس سے مراد یہ ہے کہ مجھے زکوٰۃ کے احکام کی تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے اور یہاں زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ الفطر نہیں ہے، کیونکہ جب عدمِ زکوٰۃ کو انبیاء کے حق میں ان کی خصوصیات میں سے قرار دیا گیا ہے، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ مال کی زکوٰۃ اور بدن کی زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 256، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: pin-7688
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاخریٰ 1447ھ 28 نومبر 2025ء