logo logo
AI Search

نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک ناف تک تھی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے متعلق تفصیل

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک ناف تک تھی؟

جواب

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کی لمبائی ناف تک نہیں تھی، بلکہ ثابت یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم مٹھی سے زیادہ بالوں کو تراش دیتے تھے، اسی کے مطابق بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی بھی صراحت آئی ہے ۔نیز یہ واضح رہے کہ مرد کے لئے ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنا یا منڈوا دینا حرام ہے اور جب ایک مٹھی سے زائد ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ مٹھی سے زیادہ کو کاٹ دیا جائے، ایک مٹھی سے زیادہ بڑھانا خلافِ افضل ہے، البتہ! مٹھی سے تھوڑی سی زائد جو خط سے خط تک ہوتی ہے، اس کو اس خلافِ اولی سے ضرورتاً استثناء حاصل ہے، ورنہ کس چیز کا ترشوانا سنت ہوگا۔ اور بہت لمبی داڑھی جو حد اعتدال سے خارج، بے موقع وبدنما اور باعثِ انگشت نمائی ہو، مثلاً ناف تک داڑھی رکھنا، تو بلا شبہ یہ خلاف سنت و مکروہ ہے۔

شمائل ترمذی میں ہے

كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ۔۔۔ واسع الجبين۔۔۔ كث اللحية

ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کشادہ پیشانی اور گھنی داڑھی والے تھے۔ (الشمائل المحمدية للترمذي ، صفحہ22، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

سنن الترمذی میں ہے:

أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها و طولها

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم داڑھی کی لمبائی اور چوڑائی میں سے کچھ لیا کرتے تھے۔ (سنن الترمذي، جلد 5، صفحہ 57، حدیث 2967 ، دار الرسالة العالمية)

اس حدیث کے تحت مرقاۃ میں ہے

و قيد الحديث في شرح الشرعة بقوله: إذا زاد على قدر القبضة، و جعله في التنوير من نفس الحديث، و زاد في الشرعة: وكان يفعل ذلك في الخميس أو الجمعة، و لا يتركه مدة طويلة

ترجمہ: شرح الشرعہ میں حدیث کو اس کے ساتھ مقید کیا ہے کہ یہ کاٹنا اس وقت ہوتا جب نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی داڑھی شریف کے بال ایک مشت سے زائد ہوجاتے، التنویر میں اس قید کو حدیث کا حصہ بنایا ہے اور الشرعہ میں یہ بھی زیادہ کیا ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم جمعرات اور جمعہ کو داڑھی شریف کے بال مبارک تراشتے تھے اور ان کو طویل مدت تک نہیں چھوڑتے تھے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 7، صفحہ 2822، حدیث: 4439، مطبوعہ: بيروت)

امام اہلسنت، امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: علماء فرماتے ہیں: یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریشِ اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی، بلکہ بعض نے یہ قید نفیس حدیث میں ذکر کی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 590، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

داڑھی کے تاکیدی حکم کے متعلق بخاری شریف میں ہے

عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤاورمونچھیں پست کرو۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1091، حدیث: 5892، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

سنن ابی داؤد میں مروان بن سالم سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:

رأيت ابن عمر يقبض على لحيته، فيقطع ما زاد على الكف

ترجمہ:میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی مٹھی میں لے کر زائد بالوں کو کاٹ دیتے تھے۔(سنن أبي داود، صفحہ 378، حدیث 2357،دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

حضرت ابو زرعہ فرماتے ہیں:

كان أبو هريرة يقبض على لحيته، ثم يأخذ (ما) فضل عن القبضة

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ داڑھی مبارک پر مٹھی رکھتے پھر جو مٹھی سے زائد ہوتی، اسے ترشوا دیتے۔ (مصنف ابن أبي شيبة، جلد 14، صفحہ 178، حدیث 27127، مطبوعہ: الرياض)

امام کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

و اما الاخذ منھا و ھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ و مخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد

یعنی: داڑھی ایک مٹھی سے کم کرنا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا۔ ( فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 348، مطبوعہ: بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: داڑھی کترواکر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 98، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے بالجملہ ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی کا حاصل مسلک یہ ہے کہ ایک مشت تک بڑھانا واجب اور اس سے زائد رکھنا خلاف افضل ہے اور اس کا ترشوانا سنت، ہاں! تھوڑی زیادت جو خط سے خط تک ہو جاتی ہے اس خلاف اولٰی سے بالضرورۃ مستثنٰی ہونا چاہئے ورنہ کس چیز کا تراشنا سنت ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 589، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ناف تک داڑھی رکھنا مکروہ ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے اس (ایک مٹھی) سے زائد اگر طول فاحش، حدِ اعتدال سے خارج ،بے موقع بدنما ہو، تو بلا شبہہ خلاف سنت مکروہ کہ صورت بد نما بنانا اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخر یہ کھولنا مسلمانوں کو استہزاء وغیبت کی آفت میں ڈالنا ہر گز مرضی شرع مطہر نہیں، نہ معاذ اللہ زنہار کہ ریش اقدس حضور پرنور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم عیاذاً باللّٰہ کبھی حدِ بدنمائی تک پہنچی، سنت ہونا اس کا معقول نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 581، 582، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4598

تاریخ اجراء: 11 رجب المرجب 1447ھ / 01 جنوری 2026ء