امام حسین کو سلام کرنے پر آنسو آنا سلام کا جواب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام حسین رضی اللہ عنہ کو سلام کہتے ہوئے آنسو آجانے پر ایک تحریر کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک تحریر میں اس طرح لکھا تھا کہ ''جب مجھ حسین کو سلام کرو اور نہ چاہتے ہوئے بھی تمہاری آنکھوں سے آنسو نکل آئیں، تویہ مت سمجھنا کہ یہ تیرے آنسو ہیں، بلکہ حسین نے تجھے تیرے سلام کا جواب دیا ہے۔" اس تحریر کےبارے میں کیا فرماتے ہیں ایسے کہنے والے پر کیا حکم لگے گا؟
جواب
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا تقاضا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ان کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا نہایت عمدہ عمل اور باعثِ برکت ہے اور وہ ہستیاں ہر صاحب محبت، صحیح الایمان کے سلام کا جواب بھی عطا فرماتی ہیں۔ باقی آنسو نکل آنے کو سلام کا جواب قرار دینا ایک بے دلیل بات ہے۔ ایسی ہزاروں قسم کی تحریریں آج کل سوشل میڈیا پر آتی رہتی ہیں، اِن کی طرف توجہ نہ دی جائے اور ان کے متعلق سوالات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی ضرورت کے شرعی مسائل معلوم کئے جائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1251
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء