logo logo
AI Search

صحابہ کرام کی گستاخی کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عقیدہ ناموسِ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جمیع انبیاء و رسل عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بعد جہانِ عالَم میں سب سے افضل واعلیٰ شخصیات صحابہ ٔ حضورسیدالانام عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ وَ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ہیں۔ جن کے فضائل و محامد قرآن و حدیث سے عیاں ہیں؛ ان کو اللہ عزوجل نے اپنی رضا کا مژدہ سنایا؛ ان سے ’’حُسنیٰ‘‘ یعنی جنت کاوعدہ فرمایا، حضور جان کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کاخیرسے تذکرہ کرنا لازم فرمایا، ان کو نجوم ہدایت بنایا؛ ان کو تکلیف دینااپنی تکلیف کے مترادف ٹھہرایا؛ ان کو گالی دینے، ان پر طعن کرنے سے منع فرمایا؛ یہ حضرات حاملانِ شریعت، نائبان رسالت، اہل خیرو صلاح اور عادل ہیں ان پر طعن و اعتراض کرنااللہ عَزَّ شَانُہ کی کمال قدرت اور عظیم حکمت کو جھٹلانا اور اس کے حبیب مکرم و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی درجہ کی محبوبیت اورعظمت پرحرف رکھناہے۔

لہٰذا اصحابِ رسول پاک رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی پر تبرّا کرنا، اُن کی شان میں گستاخی کرنا، اُن پرزبان طعن درازکرنا، اُن کی شانِ رفیع میں رخنہ اندازی کرنا، انتہائی درجے کی بے باکی، سخت ناجائزو حرام، بہت بڑاگناہ اور گمراہی وبےدینی ہے اور جو بد باطن، بے بصیرت اس کا مُرتکب ہو،وہ گمراہ، بددین، بد مذہب، ملعون ومردود، جہنمی کتوں میں سے ایک کتا اور اہلسنت کے مذہبِ مُہذَّب سے خارج ہے۔ نیز بعض صورتوں میں تو تبرّا کرنے کو علمائے کرام وفقہائےعظام رحمھم اللہ السلام نے کفر قرار دیا ہے، جیسے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کومطلقاً کافر کہنا یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنا یا شیخین کریمین رضی اللہ عنہما پر سب و شتم کرنا۔

مذکورہ بالاجواب کے جزئیات مندرجہ ذیل ہیں:

اللہ پاک نے صحابہ کرام کو اپنی رضا کا مژدہسنایا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ (پارہ 11، سورۃ التوبہ، آیت 100)

امام ناصر الدین ابو سعید عبداللہ بن عمر بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ(سالِ وفات: 685ھ) تفسیر بیضاوی میں ارشاد فرماتے ہیں: رضی اللہ عنھم بقبول طاعتھم و ارتضاء اعمالھم و رضوا عنہ بما نالوا من نعمہ الدینیۃ و الدنیویۃ‘‘ ترجمہ: اللہ تعالی ان سے راضی ہے ان کی فرمانبرداری قبول فرما کر اور ان کے اعمال سے راضی ہو کر۔ اور وہ اللہ سے راضی ہیں اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ملنے کے سبب۔ (تفسیر بیضاوی، جلد 3، صفحہ 95، مطبوعہ بیروت)

اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ان کے رب عظیم نے ’’حُسْنٰى‘‘ کاوعدہ فرمایا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کی شان بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ- اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ- وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ- وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾ترجمہ: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا۔ وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں، جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پارہ 27، سورۃ الحدید، آیت 10)

اس آیت کریمہ میں ”حسنیٰ“ سے مراد جنت ہے۔ اور کثیر مفسرین کرام رحمھم اللہ السلام نے یہی معنی بیان کیا، چنانچہ تفسیر کبیر (ج 29، ص 220)، تفسیر سمرقندی (ج 3، ص 382)، تفسیر ارشاد العقل السلیم (ج 5، ص 274)، تفسیر مجاہد (ص 648)، تفسیر بیضاوی (ج 5، ص 186)، تفسیر طبری (ج 23، ص 177)، تفسیر ابن عباس (ص 457)، تفسیر الوجیز للواحدی (ص 1067)، تفسیر جلالین( ص 420)، تفسیر سمعانی (ج 5، ص 368) اور اس کے علاوہ کئی تفاسیرہیں۔ چنانچہ امام ابو منصور ماتریدی علیہ الرحمۃ مذکورہ آیت کے الفاظ ﴿وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ای وعد اللہ لکلا الفریقین قبل الفتح و بعدہ الجنۃ و الثواب الحسن“ ترجمہ: یعنی اللہ تعالی نے صحابہ کرام کے دونوں گروہوں یعنی جنہوں نے فتح مکہ سے قبل اور بعد خرچ کیا، ان سے جنت اور اچھے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ (تفسیر ماتریدی، جلد 9، صفحہ 519، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

پھر قرآن پاک میں ہی ”حسنیٰ“ کی تفسیر یہ ارشاد فرمائی گئی: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ- اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ (۱۰۱) لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ- وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ ۚ(۱۰۲) لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ۔ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴾ترجمہ کنز العرفان: بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ ’’حُسنیٰ‘‘ کا ہو چکا، وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں، اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 101 102 - 103)

اس سے ثابت ہوا کہ جن سے اللہ پاک ”حسنیٰ“ یعنی جنت کاوعدہ فرماتاہے ان کویہ شان دیتا ہے کہ

(1) ان کو جہنم سے دور رکھے گا۔

(2) وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے۔

(3) ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔

(4) قیامت کی شدیدگھبراہٹ بھی انہیں غم زدہ و بے چین نہیں کرے گی۔

(5) قیامت کے دن فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔

چنانچہ صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی، امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں: تمام صحابہ کر ام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں۔ وہ جہنم کی بھنک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔ یہ سب مضمون قرآن عظیم کا ارشاد ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 254، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

محبوب رَبّ الانام کے اصحاب کرام علیہم الرضوان کومغفرت واجرعظیم کی بشارت دیتے ہوئے اللہ پاک فرماتاہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں، بخشش اور بڑے ثواب کا۔ (پارہ 26، سورہ الفتح، آیت 29)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن مفتی محمد قاسم صاحب مدظلہ العالیتحریر فرماتے ہیں: اس آیت کے شروع میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اَوصاف و فضائل بیان کیے گئے اور آخر میں ان کو مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت دی جارہی ہے، یاد رہے کہ تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ صاحبِ ایمان اور نیک اعمال کرنے والے ہیں، اس لئے یہ وعدہ سبھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ہے۔ (صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 391، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نجوم ہدایت ہیں، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: أصحابى كالنجوم، بأيهم اقتديتم اهتديتم‘‘ ترجمہ: میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، ان میں سے جن کی بھی اقتدا کروگے ہدایت پا جاؤگے۔ (جامع الکبیر، جلد 1، صفحہ 660، مطبوعہ مصر)

انبیاء و رسل علیھم السلام کے بعد تمام مخلوق سے افضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں:

حضرت علامہ ابو بكر محمد بن حسين الاجری البغدادي رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 360) الشريعۃ میں، حضرت محمد بن جرير بن يزيد ابو جعفر الطبری رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 310ھ) صریح السنۃ میں، حضرت علامہ جلال الدين السيوطی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 911ھ) جمع الجوامع میں، حضرت علامہ ابوالفضل القاضي عياض مالکی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 544ھ) الشفا میں اور امام ابونعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فضائل الخلفاء الاربعہ وغيرہم میں حدیث مبارک نقل کرتے ہیں: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:”إن اللہ اختار أصحابي على جميع العالمين سوى النبيين و المرسلين“ ترجمہ: بے شک اللہ پاک نے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے علاوہ پورے عالَم پر میرے صحابہ کو چُن لیا ہے۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، جلد 2، صفحہ 119، مطبوعہ دار الفیحاء، عمان۔ فضائل الخلفاء الاربعۃ وغيرہم، جلد 01، صفحہ 173، دار البخاری للنشر و التوزيع، المدینۃ المنورہ)

علامہ شمس الدین سفارینی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: فيكون الصحابة أفضل خلق اللہ تعالى بعد أنبياء اللہ تعالى و رسله“ ترجمہ: انبیاء و رسل علیہم السلام کے بعد اللہ پاک کی مخلوق میں سب سے افضل صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں۔ (لوامع الانوار البہیہ، جلد 2، صفحہ 377، مطبوعہ دمشق)

حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الخلفاء الأربعة و سائر فضلاء الصحابة الذين هم أفضل الناس بعد الأنبياء بالإجماع“ ترجمہ: بالاجماع انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل خلفائے اربعہ اور ان کے علاوہ باقی تمام صاحب فضل صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 8، صفحہ 3443، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

امام اہل سنت علیہ الرحمۃنے فرمایا: غرض اس میں شک نہیں کہ صحابہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم بعد انبیاء و مرسلین کے خیر الخلق و افضل الناس تھے، مگر جبکہ منظور الہی تھا کہ شریعت محمدیہ عليه افضل الصلوة و التحية قوم دون قوم، یا یوم غیر یوم سے خاص اور بعثت والا کسی زمان و مکان پر مقتصر نہ ہو، اور پر ظاہر کے قلوب ناس قبول نصح و استفادہ واسترشاد میں مختلف ہوتے ہیں، بعض پر نرمی سریع الاثر ہوتی ہے، اور بعض بشدت وسختی مانتے ہیں۔ لہٰذا حکمت الہیہ مقتضی ہوئی کہ حاملان شریعت و نائبان رسالت ایک رنگ پر نہ ہوں، کسی کے سر پر ارحم امتی بامتی کا تاج رکھا جائے، اور کوئی أشدهم في أمر الله کا خطاب پائے۔ (مطلع القمرین، صفحہ 48، مکتبہ امام اہلسنت، لاہور)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام  پر تبرا کرنے سے منع فرمایا ہے:

صحابہ کرام علیہم الرضوان کو تکلیف دینا نبی پاک علیہ السلام کو تکلیف دیناہے، اس کے بارے میں جامع ترمذی میں ہے، حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا: اللہ اللہ في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، و من أبغضهم فببغضي أبغضهم، و من آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى اللہ، و من آذى اللہ فيوشك أن يأخذه“ ترجمہ: خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو، میرے اصحاب کے حق میں، انہیں نشانہ نہ بنالینا میرے بعد، جو انہیں دوست رکھتا ہے میری محبت سے انہیں دوست رکھتا ہے، اور جوان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی، اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ  کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو گرفتار کر لے۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، باب فی من سبّ اصحاب النبی، جلد 5، صفحہ696، دار الفکر، بیروت)

اس کے تحت مرقات میں ہے: أي: اتقوا اللہ في أصحابي؛ يعني: لا تذكروهم إلا بالتعظيم و التوقير قوله: «لا تتخذوهم غرضا من بعدي»، (الغرض): الهدف؛ أي: لا تجعلوهم هدفا لكلامكم القبيح‘‘ ترجمہ: میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو یعنی ان کا تذکرہ ہمیشہ تعظیم و توقیر کے ساتھ ہی کرو اور فرمایا میرے بعد ان کو اپنا نشانہ نہ بناؤ یعنی اپنی بری باتوں کے لیے ان کو ہدف نہ بنانا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 6، صفحہ 289، مطبوعہ کویت)

صحابہ کرام علیہم الرضوان کوگالی دینے سے خود نبی پاک علیہ السلام نے منع فرمایا، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: قال النبي صلى اللہ عليه و سلم: «لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد، ذهبا ما بلغ مد أحدهم، و لا نصيفه“ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعنی میرے کسی صحابی کو گالی نہ دو، اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک یا نِصف مُدکو نہیں پہنچے گا۔ (صحیح البخاری، حدیث 3673، صفحہ 669، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

جامع ترمذی میں ہے: سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة اللہ على شركم“ ترجمہ: جب تم اُ ن لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کی بدگوئی کرتے ہیں تو کہہ دو کہ تمہارے شر پر خدا کی لعنت۔(جامع ترمذی، حدیث 3866، کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی، ج 5، ص 697، مطبوعہ مصر)

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: إن اللہ اختارني و اختار لي أصحابا فجعل لي بينهم وزراء و أنصارا و أصهارا، فمن سبهم فعليه لعنة اللہ و الملائكة و الناس أجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف و لا عدل“ ترجمہ: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا، میرے ساتھی چنے اور میرے لیے ان میں سے معاون و مددگار اور قرابت دار بنائے، جو انہیں گالی دے اس پر اللہ عزوجل، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، بروزقیامت اس کے فرض و نفل عبادت قبول نہ ہوگی۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 17، صفحہ 140، مطبوعہ قاہرہ)

جو صحابہ کی تعظیم نہیں کرتا، اس کے متعلق الشفا میں ہے: لم يؤمن بالرسول من لم يوقر أصحابه‘‘ ترجمہ: جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی تعظیم نہیں کرتا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، جلد 2، صفحہ 125، مطبوعہ دار الفیحاء، عمان)

صحابہ کرام کا تذکرہ خیر کے ساتھ کرنا اور ان کی برائی سے بچنے کے حوالے سےائمہ اکابرین کا عقیدہ:

علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: و يكف عن ذكر الصحابة إلا بخير لما ورد من الأحاديث الصحيحة في مناقبهم، و وجوب الكف عن الطعن فيهم كقوله عليه السلام: «لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم إن أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مد أحدهم‘‘ یعنی: صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی شان میں صحیح حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور ان پر طعن و تشنیع کرنے سے بچنا واجب ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا صدقہ کرے تو وہ کسی صحابی کے ایک مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (شرح العقائد النسفیہ، صفحہ 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی(

علامہ احمد بن محمدبن حجر ہیتمی (سال وفات: 974ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اعلم أن الذي أجمع عليه أهل السنة و الجماعة أنه يجب على كل مسلم تزكية جميع الصحابة باثبات العدالة لهم، و الكف عن الطعن فيهم و الثناء عليهم ، فقد أثنى اللہ سبحانه و تعالى عليهم في آيات من كتابه‘‘ ترجمہ: جان لو کہ اہل سنت و جماعت کا اس پر اِجماع ہےکہ ہر مسلمان پر تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عدالت ثابت کرنے کے ذریعے ان کی پاکی بیان کرنا، ان پر طعن و تشنیع سے بچنا اور ان کی تعریفیں بیان کرنا واجب ہے، یقیناً اللہ پاک نے بھی اپنی کتاب (قرآن پاک) کی آیتوں میں ان کی تعریف فرمائی ہے۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 19، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صحابہ کرام پرطعن سے بچناواجب ہے، اس کے متعلق مسامرہ شرح مسایرہ میں ہے: (و اعتقاد أهل السنة) و الجماعة (تزكية جميع الصحابة) رضى اللہ عنهم وجوبا باثبات العدالة لكل منهم و الكف عن الطعن فيهم‘‘ ترجمہ: اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عدالت ثابت کرنے کے ذریعے ان کی پاکی بیان کرنا اور ان پر طعن و تشنیع کرنے سے بچنا واجب ہے۔ (مسامرہ شرح مسایرہ، صفحہ 185، مطبوعہ مصر)

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے عقیدہ بیان کرتے ہوئے سیدناامام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: نحب أصحاب رسول اللہ ﷺ و لا نفرط في حب أحد منهم و لا نتبرأ من أحد منهم و نبغض من يبغضهم و بغير الخير يذكرهم و لا نذكرهم إلا بخير و حبهم دين و إيمان و إحسان و بغضهم كفر و نفاق و طغيان‘‘ ترجمہ: ہم تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کرتے اور ان میں سے کسی ایک کی محبت میں حد سے نہیں بڑھتے ہیں، اور نہ ہی کسی پر تبرا کرتے ہیں، اور ہم ان لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو صحابہ سےبغض رکھے اور ان کا ذکر بھلائی سے نہ کرے، اور ہم ہمیشہ ان کا ذکر خیر سے کرتےہیں، صحابہ کرام کی محبت دین، ایمان اور احسان ہے جب کہ ان کا بغض کفر، نفاق اور طغیان ہے۔ (العقیدہ الطحاویہ، صفحہ 81، مطبوعہ المكتب الاسلامی، بيروت)

حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ”لمعات التنقیح“ میں فرماتے ہیں: الصحابة كلهم من أهل الجنة قطعا ۔ ۔ ۔ أجمع أهل السنة و الجماعة أنه يجب على كل مسلم تزكية جميع الصحابة وتعديلهم، و الكف عن سبهم و الطعن فيهم، و الثناء عليهم؛ لأن اللہ تعالى و رسوله عدلهم و زكاهم و أثنى عليهم،ملتقطا‘‘ ترجمہ: تمام صحابہ قطعی جنتی ہیں، اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر مسلمان پر تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی پاکیزگی اور ان کی عدالت بیان کرنا اور ان کو برا کہنے اور ان میں طعن کرنے سے بچنا، نیز ان کی تعریف کرنا لازم ہے،اس لیے کہ اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول علیہ السلام نے انہیں عادل اور پاکیزہ قرار دیا اور ان کی تعریف بیان فرمائی۔ (لمعات التنقیح باب مناقب الصحابہ، جلد 9،صفحہ 579،دار النوادر، دمشق)

صحابہ کرام پر سب و شتم کرنا یا انہیں بُرا بھلا کہناتمام ائمہ امت کے ہاں ناجائز و حرام اور گمراہی ہے:

علامہ ابو الحسن علاءالدین طرابلسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: و سبهم و نقصهم حرام، ملعون فاعله، و من شتم أحدا من أصحاب النبي أبا بكر أو عمر أو عثمان أو عليا أو معاوية أو عمرو بن العاص فإن قال: كانوا على ضلال و كفر قتل، و إن شتمهم بغير هذا من مشاتمة الناس نكل نكالا شديدا‘‘ ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سب و شتم کرنا اور ان کی برائی کرنا حرام ہےاور ایسا کرنے والا شخص ملعون ہے، اور جو بھی شخص کسی صحابی رسول مثلاحضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان،حضرت علی، حضرت معاویہ یا حضرت عمرو بن عاص علیہم الرضوان میں سے کسی پر سب و شتم کرے تو اگر یہ کہے کہ وہ سب گمراہی اور کفر پر تھے تو ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور برائی کرے، جیساکہ لوگ کیا کرتے ہیں تو اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ (معین الحکام، صفحہ 192، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

کسی صحابی کو گالی دینے والا بدعتی گمراہ ہے، جیساکہ خاتم المحققین حضرت علامہ مفتی محمدامین المعروف ابن عابدین شامی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع‘‘ ترجمہ: جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو (شیخین کریمین رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دے یا صحابہ کرام پر سب و شتم کرے وہ بدعتی (گمراہ) ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 46، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

معین الحکام میں حضرت امام مالک علیہ الرحمۃ کا قول منقول ہے: و روی مالک: من سب أبا بكر جلد، و من سب عائشة قتل، فقيل له: لم؟ فقال: من رماها فقد خالف القرآن‘‘ حضرت امام مالک سے مروی ہے کہ جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں اور جوا ماں عائشہ صدیقہ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے، ان سے عرض کیا گیا آخر ایسا کیوں؟ تو فرمایا کہ جس نے انہیں نشانہ بنایا اس نے قرآن مقدس کی مخالفت کی۔ (معین الحکام، صفحہ 192، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃکے متعلق ان کے بیٹے سے منقول ہے: سألت أبي عن رجل شتم رجلا من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: «ما أراه على الإسلام‘‘ یعنی: میں نے اپنے والد سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں سے کسی پر سب و شتم کرتا ہو، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے مسلمان نہیں سمجھتا۔ (السنۃ لابی بکر بن الخلال، جلد 3، صفحہ 493، مطبوعہ دار الرایہ، ریاض)

طبقات الحنابلہ میں ہے: و من انتقص واحدًا من اصحاب رسول اللہ، أو أبغضه لحدث كان منه، أو ذكر مساويه، كان مبتدعا خارجا عن الجماعة حتى يترحم عليهم جميعًا، و يكون قلبه لهم سليما‘‘ ترجمہ: جو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی صحابی کی برائی کرےیا کسی سے بغض رکھے بسبب اس کے جو ان سے ظاہر ہوا یا ان کی برائی بیان کرے وہ بدعتی، گمراہ اور اہل سنت والجماعت سے خارج ہے حتی کہ تمام صحابہ کرام پر دعائے رحمت نہ بھیجے اور اس کا دل سب کے لیے مطمئن نہ ہو جائے۔ (طبقات الحنابلہ، جلد 1، صفحہ 311، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)

صحابہ کرام کو گالی دینا بہت بڑا گناہ ہے جیساکہ علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃنے شرح الشفا میں (لا تسبّوا أصحابي)کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:  قال النووي هو من أكبر الفواحش و سيأتي عن المصنف أنه عده من الكبائر و يعزر عند الجمهور و يقتل عند بعض المالكية و كذا عند بعض الحنفية‘‘ ترجمہ: امام نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا بہت بڑاگناہ ہے اور عنقریب آئے گا کہ مصنف نے اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے، جمہور علماءکے نزدیک ایسے شخص کو تعزیر کی جائے گی حتی کہ بعض مالکیہ، اور بعض حنفیہ کے نزدیک ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح الشفاء، جلد 2، صفحہ 93، مطبوعہ دار الكتب العلميہ، بيروت)

حضرت ابو عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرا کرنے والوں کے متعلق فرمایا: من شتم أخاف عليه الكفر مثل الروافض، ثم قال: من شتم أصحاب النبي صلی اللہ علیہ و سلم لا نأمن أن يكون قد مرق عن الدين‘‘ ترجمہ: جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دے میں اس پر کفر کا خوف کرتا ہوں جیساکہ روافض، پھر فرمایا: جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرے ،ہو سکتا ہے کہ وہ دین سے پھر جائے۔ (السنۃ لابی بکر بن الخلال، جلد 3، صفحہ 493، مطبوعہ دار الرایہ، ریاض)

تطہیر الجنان میں ہے:لا یجوز لأحد أن یذکر شیئا مما وقع بینھم یستدل بہ علی بعض نقص من وقع لہ ذلک، و الطعن فی ولایتہ الصحیحۃ، أو لیغری العوام علی سبھم و ثلبھم و نحو ذلک من المفاسد، و لم یقع ذلک إلا للمبتدعۃ‘‘ ترجمہ: کسی کے لیے جائز نہیں کہ صحابہ کرام کے درمیان واقع ہونے والے کسی معاملے کو دلیل بناتے ہوئے ان کے نقص پر کسی بات کا استدلال کرے اور ان کی ولایتِ صحیحہ میں طعنہ زنی کرے، یا عوام کو ان کی برائی یا عیب جوئی، اور دیگر فسادات پر اکسائے،ایسا تو صرف بدعتی (گمراہ) ہی کر سکتا ہے۔ (تطھیر الجنان، صفحہ 41،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صحابہ کرام علیہم الرضوان پر تبرا کرنے والوں کے متعلق اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: صحابہ حضور سید الانام صلی اللہ علیہ و سلم پر طعن پیدا کرنا، اعتراض نکالنا، اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا، کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا، مگر گمراہ بددین، مخالف ومضاد حق تبیین، آج کل کے بدمذہب، مریض القلب، منافق شعار ان جزافات سیرو خرافات تواریخ و امثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین و ام المومنین و طلحہ و زبیر و معاویہ و عمرو بن العاص و مغیرہ بن شعبہ و غیرہم اہلبیت وصحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش و مہمل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب وداحض اور بہت الحاقات ملعونہ، روافض چھانٹ لاتے اور اُن سے قرآن عظیم و ارشاداتِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم و اجماعِ اُمّت و اساطین ملّت کا مقابلہ چاہتے ہیں، بے علم لوگ اُنہیں سُن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں، اُن کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنیٰ مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کے لیے مسموع نہیں ہوسکتے، نہ کہ اُن محبوبانِ خدا پر طعن، جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام اللہ وکلام رسول اللہ مالا مال ہیں جل جلالہ، و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 582، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مطلع القمرین میں ہے: بالجملہ جناب سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی جلالت شان ان کے اصحاب کرام کی رفعت مکان کو مستلزم، جو کور باطن بےبصیرت ان میں سے کسی پر طعن سے اپنی زبان کو آلودہ ہزار خباثت کرتا ہے، جناب الہی کی کمال قدرت و عظیم حکمت، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غایت محبوبیت و نہایت کرامت و منزلت پر حرف رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ اللہ راضی ہو فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت سے، وہ ایسے ہی امور پر لحاظ کر کے فرماتے ہيں: الصحابة كلهم خيار عدول لا نتكلم فيهم إلا بخير‘‘ یعنی تمام کے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان صالح اور عادل ہیں ہم ان کے متعلق ہمیشہ بھلائی کے ساتھ ہی گفتگو کریں گے۔ (مطلع القمرین، صفحہ 46، مطبوعہ امام اہلسنت، لاہور)

جب اللہ پاک نے ان سے جنت کاوعدہ فرمالیا، اب کسی کوکیاحق کہ وہ ان کے کسی فعل پرمعترض ہو، جو ان پرطعن کرتاہے وہ معاذ اللہ! رب پاک کو جھٹلاتا ہے، چنانچہ امام اہل سنت، اعلی حضرت، الشاہ احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ (حسنیٰ یعنی جنت کےوعدے والی آیت تحریر کرنے کے بعد) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عزوجل بتاتا ہے، تو جو کسی صحابی پر طعن کرے، اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے۔ اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں، ارشاد الہٰی کے مقابل پیش کرنا، اہلِ اسلام کا کام نہیں۔رب عزوجل نے اسی آیت حدید میں اس کا منہ بھی بند کردیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾ اور اللہ کو خُوب خبر ہے جو تم کرو گے۔ (الحدید) بایں ہمہ اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ، تم سب سے جنت بے عذاب و کرامات و ثواب بے حساب کا وعدہ فرماچکا ہے۔ تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرے، کیا طعن کرنے والا، اللہ تعالیٰ سے جُدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد جو کوئی کچھ بکے، وہ اپنا سر کھائے، اور خود جہنم میں جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 363، رضافاونڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت، بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کہ وہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ساتھ بغض ہے ۔ ۔ ۔ اِن میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرّاہے اور اِس کا قائل رافضی، اگرچہ حضراتِ شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی توہین کے مثل نہیں ہوسکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 252، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مشاجرات صحابہ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جن لوگوں نے صحابہ کو سب کیا (یعنی گالی دی) وہ بے شک مبتدع اور خارج از اہلسنت ہیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 464، مکتبہ رضویہ، کراچی)

صحابہ کرام کی بعض توہین گمراہی ہے اور بعض کفر:

شرح عقائد النسفیہ میں ہے: فسبهم و الطعن فيهم ان كان مما يخالف الادلة القطعية فكفر كقذف عائشة و الا فبدعة و فسق و بالجملة لم ينقل عن السلف المجتهدين و العلماء الصالحين جواز اللعن على معاوية‘‘ ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گالی وطعن اگر دلیل قطعی کے خلاف ہو تو کفر ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر قذف کی تہمت لگانا اور اس کے علاوہ (کسی صحابی کی شان میں گستاخی) بدعت اور گمراہی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلاف مجتہدین، علماء اور صالحین میں سے کسی سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کا جواز ثابت نہیں۔ (شرح العقائد النسفیہ، صفحہ 342، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اللہ پاک کی پناہ! اگر کوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہے، اس کے متعلق علامہ ملا علی قاری ر حمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: و أما من سب أحدا من الصحابة، فهو فاسق و مبتدع بالإجماع إذا اعتقد أنه مباح، كما عليه بعض الشيعة و أصحابهم، أو يترتب عليه ثواب كما هو دأب كلامهم، أو اعتقد كفر الصحابة و أهل السنةفإنه كافر بالإجماع‘‘ ترجمہ: بہرحال جو شخص کسی بھی صحابی کو گالی دے وہ بالاجماع فاسق اور بدعتی، گمراہ اور اگر اس کو مباح جانے جیساکہ بعض شیعہ اور ان کے ساتھی گمان کرتے ہیں یا اس پر ثواب ملنے کا عقیدہ رکھیں جیسا کہ ان کے کلام کا طریقہ ہے یا کسی صحابی اور اہل سنت کے کافر ہونے کا عقیدہ رکھے، تو وہ بالاجماع کافر ہے۔ (شم العوارض فی ذم الروافض، صفحہ 28، مركز الفرقان للدراسات الاسلاميہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر برے کام کی تہمت لگانا کفر ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدين محمد بن عبد الله زركشی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 794ھ) فرماتے ہیں: ان اللہ أنزل براءتها في كتابه وشهد بأنها من الطيبات، و لهذا قال صاحب (الكافي) من أصحابنا: لو قذف عائشة كان كافرا بخلاف غيرها من الزوجات، لأن القرآن نزل ببراءتها و عند مالك من سبها قتل، قال القاضي: و لهذا إن اللہ لما ذكر في القرآن ما نسبه إليه المشركون سبح لنفسه فقال:﴿قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ﴾ و لما ذكر عائشة فقال: ﴿وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا ﳓ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ﴾ فسبح نفسه في تنزيه عائشة كما سبح نفسه لتنزيهه‘‘ ترجمہ: اللہ پاک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت کا ذکر قرآن مقدس میں فرمایا ہے اور اس بات کی گواہی دی ہے کہ وہ پاکیزہ لوگوں سے ہیں، اسی وجہ سے ہمارے بزرگوں میں سے صاحب کافی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر کسی نے حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر گندی تہمت لگائی، وہ کافر ہو جائے گا، بر خلاف ان کے علاوہ دوسری ازواج مطہرات کے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت کے متعلق قرآن پاک میں آیتیں نازل کی گئیں، امام مالک علیہ الرحمۃ کے نزدیک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب و شتم کرنے والے کو قتل کیا جائے گا، قاضی عیاضی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسی وجہ سے اللہ پاک کی طرف کفار جن باتوں کی نسبت کرتے تھے اس سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئےارشاد فرمایا: (اور مشرکوں نے کہا: اللہ نے اپنے لئے اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ذات ہے) اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تو ارشادفرمایا: (اور کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تھا تو تم کہہ دیتے کہ ہمارے لئے جائز نہیں کہ یہ بات کہیں۔( اے اللّٰہ!) تو پاک ہے، یہ بڑا بہتان ہے۔)تو اللہ پاک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی بیان کرتے ہوئے ان کی اسی طرح تعریف فرمائی جس طرح اپنی پاکی بیان فرمائی ہے۔ (تشنیف المسامع بجمع الجوامع، جلد 4، صفحہ 840، مطبوعہ المكتبۃ المكيہ)

صدر الشریعہ، بدرالطریقہ، مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: ام المؤمنین، حضرت صدیقہ بنت الصديق، محبوبۂ محبوب رب العالمین جل و علا وصلی اللہ تعالی علیہ و سلم پر معاذ اللہ تہمت ملعونہ افک سے اپنی ناپاک زبان آلودہ کرنے والا، قطعاً یقینا کافر مرتد ہے اور اس کے سوا اور طعن کرنے والا رافضی، تبرائی، بددین، جہنمی۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 261، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دینا کفر ہے، جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے: الرافضي إذا كان يسب الشيخين و يلعنهما و العياذ بالله، فهو كافر، و إن كان يفضل عليا كرم اللہ تعالى وجهه على أبي بكر رضي اللہ تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع ۔ ۔ ۔ و لو قذف عائشة رضي اللہ تعالى عنها بالزنا كفر بالله‘‘ ترجمہ: رافضی جب شیخین رضی اللہ عنہما کو گالی دے اور ان پر لعنت بھیجے (اللہ کی پناہ) تو وہ کافر ہے، اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے تو وہ کافر نہیں ہوگا، لیکن بدعتی گمراہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائے تو اس نے اللہ پاک کو جھٹلایا۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 2، صفحہ 264، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنا کفر ہے، اس کے متعلق علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: (و إن أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن اللہ تعالى جسم كالأجسام و إنكاره صحبة الصديق‘‘ ترجمہ: اگر کوئی شخص بعض ضروریات دین کا انکار کرے تو اس کی تکفیر کی جائے گی، جیسے کوئی کہے کہ اللہ پاک کاجسم ہے اور جسموں کی طرح، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 561، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے: من أنكر إمامة أبي بكر الصديق فهو كافر، و على قول بعضهم هو مبتدع و ليس بكافر و الصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمرفي أصح الأقوال كذا في الظهيرية و يجب إكفارهم بإكفار عثمان و علي و طلحة و زبير و عائشة رضي اللہ تعالى عنهم‘‘ ترجمہ: جو حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے، اور بعض کا قول ہے کہ وہ کافر نہیں بلکہ بدعتی گمراہ ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہے، اسی طرح جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرے صحیح قول کے مطابق کافر ہے، اسی طرح فتاوی ظہیریہ میں ہے، اور جو لوگ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تکفیر کریں، ان کی تکفیر بھی واجب ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 2، صفحہ 264، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

صحابہ کرام کی توہین کے مختلف مدارج پرکلام کرتے ہوئے مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام کی توہین کے مختلف مدارج ہیں۔ بعض تو ہین یقینا کفر ہے۔ مثلاً حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے صحابی ہونے سے انکار کرنا یا صحابہ کرام کو مطلقاً منافق، اس معنی کر کہنا کہ یہ حقیقت میں مسلمان نہیں تھے۔ دنیوی لالچ کی بنا پر زبان سے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ حقیقت میں کافر تھے، یہ کفر ہے۔ اور دوسری تو ہین کی صورتیں گمراہی و بددینی ہیں، اور توہین کرنے والا جہنم کا کتا ہے۔ مگر اس پر کفر کا فتویٰ نہیں۔ جب تک تو ہین کی نوعیت نہیں معلوم ہوگی، قطعی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 47،شبیر برادرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی 
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
تاریخ اجراء: 18 جماد ی الاخری 1445ھ / 01 جنوری 2024ء